آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹوری لیڈرشپ ریس، ایلن ڈنکن نے وزیر کے عہدہ سے استعفیٰ دیدیا

لندن (نیوز ڈیسک) سر ایلن ڈنکن نے کنزرویٹیو لیڈرشپ ریس میں بورس جانسن کی ممکنہ فتح کے پیش نظر احتجاجاً فارن آفس وزیر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، اپنے استعفیٰ کے خط میں سر ایلن ڈنکن نے بریگزٹ کو ’’گہرے بادلوں‘‘ سے تشبیہ دی۔ چانسلر فلپ ہیمنڈ اور سیکرٹری انصاف ڈیوڈ گائوک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر جانسن جیتے تو وہ استعفیٰ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بی بی سی کے نائب سیاسی ایڈیٹر نارمن سمتھ نے کہا ہے کہ وہ سب نو ڈیل بریگزٹ کی صورت حال کو ہضم نہیں کر سکتے، جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ مسٹر جانسن اس کی سرپرستی کر سکتے ہیں۔ لیڈر کیلئے ووٹنگ میں فتح حاصل کرنے والے کا اعلان منگل کے روز (آج) کر دیا گیا تھریسا مے کے جانشین کی حیثیت سے مسٹر جانسن بدھ کے روز ڈائوننگ سٹریٹ میں داخل ہوں گے۔ تھریسا مے کے نام لکھے گئے اپنے استعفیٰ کے خط میں سر ایلن نے کہا کہ یہ ایک ’’سانحہ‘‘ ہے کہ ان کی حکومت پر بریگزٹ کے ’’گہرے بادل‘‘ چھائے رہے جس نے برطانیہ کو دنیا میں ایک غالب دانشور اور سیاسی قوت بننے سے روک دیا۔ انہوں نے مسز مے کے غلطی سے مبرا وقار اور بھرپور احساس ذمہ داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکومت کے بہتر اختتام کی مستحق تھیں۔

یورپ سے سے مزید