آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:ابرارمیر…لندن
ہم نے بچپن میں فارسی کا ایک شعر سنا تھا کہ
بابو بیک نقطہ یابو شبد
لگامش بد تاکہ قابو شبد
اب یہ پتہ نہیں تھا اور نہ ہے کہ یہ واقعی صحیح فارسی کے الفاظ ہیں یا پھر بنائے گئے تھے لیکن اس کے ترجمے پہ اصل زور تھا کہ بابو لفظ کے نیچے ایک نقطہ لگا دیں تو اچھا خاصہ بابو شخص یابو یعنی بےوقوف یا فضول سا انسان بن جاتا ہے لہٰذا اسے لگام دینی چاہیے تاکہ قابو میں رہے۔ آج کل اس شعر کا مطلب بلکل ٹھیک ٹھیک موجودہ بدترین سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے کہ اللہ کے بندو آپ نے نئے پاکستان یا تبدیلی کا وعدہ کیا تھا اور آپ نیب دیلی تھوپنے جارہے ہیں اور اپنے ہی کیے ہوئے وعدوں کو پس پشت ڈال کر زاتیات پہ اتر آئے ہو۔ جنرل ضیا کے سیاہ ترین دور میں ایسا لگتا تھا کہ شاید ساری عمر ایسا ہی چلے گا لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اور ہمیشہ حکمران میرے رب کی ہے۔ وہ خوفناک دور بھی گزر گیا اور پاکستان نے دولخت ہونے کے باوجود بھی کچھ نہ سیکھا اور اپنے ہی ہاتھوں فخر ایشیا اور قائد عوام کا قتل کر ڈالا اور اس وقت سے آج تک پاکستان سنبھلنے نہیں پارہاہے۔ وہ ایک سیاسی قلندر جمہور کو راستہ دکھانے والا اور جمہوریت کی راہ پہ ڈالنے والا خود پھانسی چڑھ گیا لیکن اس نے کوئی سودے بازی نہیں کی ورنہ آج اس کا نام تب و تاب

جاودانہ نہیں بلکہ گم ہوچکا ہوتا۔ اب ضیا اور مشرف کا چربہ آیا تو عوام کو دن دھاڑے اسلام اور روشن خیالی کا برگر کھلانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ عوام کا ایک حصہ دھوکے میں آیا جو کہ فطری بات تھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کھیل آخر کب تک چلے گا اور ایسا کرنے والے کب تھکیں گے کیونکہ بھٹو اور بینظیر کے جیالے تو جمہوریت جمہوریت کرتے رہیں گے۔ راقم نے انتخابات سے پہلے بھی لکھا اور بولا کہ ہمیں تبدیلی نہیں بلکہ بہتری چاہیے کیونکہ تبدیلی تو اچھی سے بری بھی ہوسکتی ہے جو کہ ہوچکی ہے۔ کچھ دن پہلے حکمران قابض جماعت کے ایک دوست نے پوچھا کہ ان سب سے کیسے جان چھوٹے گی کیونکہ اسکا حل مشکل نظر آتا ہے۔ تو راقم نے عرض کیا کہ حل ہمارے سامنے ہے لیکن ہم نے کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر جان بوجھ کر آنکھیں بند کی ہوئیں۔ دوست نے پھر دریافت کیا کہ کیسے کیونکہ عمر گزر گئی ہے اور یہی چوہے بلی کا کھیل دیکھتے آرہے ہیں۔ میں نے بڑے سادہ الفاظ میں کہا کہ الیکشنز کو آزاد کردیں اور عوام کے مسئلے عوام پہ چھوڑ دیں کہ وہ خود حل کرے۔ نتیجہ ہمیں خود بخود دو سے تین الیکشنز کے بعد نظر آجائیگا۔ وہ بات سمجھ گیا لیکن پھر کہنے لگا کہ یہ کیسے ہوگا تو پھر میں نے عرض کیا کہ سب جانتے ہیں کہ عوامی رائے کو کون اور کیسے تبدیل کرتا ہے لحاظہ یہ ہوگا اور ضرور ہوگا بس ہمت باندھ کر رکھنے والی بات ہے اور ایک دن ہم ضرور جمہوریت کو اپنے ملک میں پھلتا پھولتا دیکھیں گے اور اس کیلئے قربانی دینے والوں کے عزم و ہمت کو سلام پیش کریں گے اور جمہوریت پہ ناز بھی کریں گے۔ وہ ایک لمحے کیلئے ہنسا لیکن پھر اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی اور خود ہی کہنے لگا کہ انشااللہ ایسا ضرور ہوگا کیونکہ انتقام سے تو ہمیشہ انتقام نے ہی جنم لیا اور جمہوریت کا دوسرا نام انسانیت ہے اور ہم انسانیت کو اپنے ملک میں بدنام کئے جارہے ہیں۔ راقم پھر کیا کہتا کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی!۔

یورپ سے سے مزید