آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علامہ نیاز فتح پوری

عالیہ (ڈاکٹر عالیہ امام )کے گھر میں آپ نے جو ’’ثلاثیاں‘‘ مجھے سنائی تھیں ان میں دو تین بہت اچھی تھیں خاص طور پر وہ جس میں ذہن کو غارِ حرا سے تشبیہ دی گئی ہے ۔۔۔۔آپ کا یہ صنفی تجربہ مجھے پسند آیا، میرے خیال میں اس کا نام ’’ثلاثی‘‘ ہی بہتر ہے، تثلیث سے ذہن دوسری طرف چلاجاتا ہے یہ صنف‘اس ہئیت کے ساتھ اردو میں پہلی بار آئی ہے‘ اس لیے آپ ہی سے منسوب ہوگی ۔ ویسے قدرے ہیئتی فرق کے ساتھ یہ نام فارسی میں بھی کہیں استعمال ہوا ہے فی الحال یاد نہیں آرہا ‘آپ شعرالعجم دیکھ لیں۔

مولوی عبدالحق (بابائے اردو) ۱۲؍اگست۱۹۵۹ء

عزیز من حمایت علی شاعر سلمہ اللہ تعالیٰ

حال میں تم نے جو نظم میرے لیے لکھی ہے وہ میں نے یہاں ایک اردو اخبار میں پڑھی اگر یہ نہ سمجھا جائے کہ اس نظم کی تعریف کے پردے میں میں اپنی تعریف کر رہا ہوں تو تم کو دل سے مبارکباد دیتاہوں کہ تم نے ایسی پاکیزہ اور خوبصورت نظم لکھ کر اپنے لیے مقام پیدا کر لیا ہے ۔ اپنے خیال کے ادا کرنے کا جو رویہ اختیار کیا ہے اور جن لفظوں میں اسے اداکیا ہے وہ بلا شبہ قابل تعریف ہے ۔ جس کسی نے یہ نظم پڑھی بے ساختہ تعریف کی۔خلوص و محبت اس کی جان ہے اور خلوص و محبت ہی ایسی نظم لکھوا سکتی ہے ۔تم نے آخری مصرعہ میں جس دل سے مجھے دعا دی ہے اس کا شکریہ کیوں کر ادا کروں‘ میں بہت جیا‘ اب زیادہ جینے کی ہوس نہیں،جی چاہتا ہے کہ وہی مصرعہ ’’اسے‘‘جگہ’’تجھے‘‘ لکھ کر تمہیں بھیجوں ،پر اس میں تمہارا کیا بھلا ہو گا۔ مشکل سے دو چار برس ملیں گے مگر کیا تعجب یہی دوچار برس تمہارے کمال کے دن ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں سالہا سال زندہ سلامت اور خوش رکھے کہ تم اس سے بہتر نظمیں لکھو اور کمال حاصل کرو۔

مزید۔۔۔۔۔۔ میں یہ لکھ ہی رہا تھا کہ ایک صاحب کا خط آیا جس میں انہوں نے تمہاری اس نظم کی بہت تعریف لکھی ہے ،وہ لکھتے ہیں ’’ادبی و فنی اعتبار کے علاوہ صحیح و تعمیری جذبات سے لبریز ہے ،آخری مصرعہ میں ان کی تمنا ‘ ان کے خلوص کی دلیل ہے مگر اس نظم کا یہ مصرعہ؎

اور اس بزم کا ہر نغمہ گر ہے مہر بہ لب

بڑی حد تک قابل غور ہے ۔

احمد ندیم قاسمی مجلس ترقی ادب (لاہور،۱۵جولائی۹۳ء)

برادرز عزیز و مکرم ،کرم فرمائی کا دِلی شکریہ، آپ نے مرحوم قمر اجنالوی کی طویل نظم پر عمدہ مضمون عنایت کیا ہے ۔ قمر اچھا شاعر تھا مگر ناقدری کا شکار رہا۔ آپ نے اتنی فراخدلی سے داد دی ہے کہ جی خوش ہو گیا ۔آپ ساتھ ہی اپنا تازہ کلام بھی بھجوا دیتے تو فنون امیر ہو جاتا ۔ ویسے اس مضمون سے بھی کچھ کم امیر نہیں ہوا۔ دعائوں اور محبتوں کے ساتھ

آپ کا دعاگو… ندیم

مرزا ادیب… (۲۵اکتوبر۱۹۸۵ء)

میرے عزیز اور پیارے بھائی،سلام مسنون !

گرامی نامہ ملا‘دِلی شکریہ۔میں سمجھتا ہوں ’’ثلاثی‘‘ کی صنف جس کی ایجاد کا سہرا آپ کے سر بند ھتا ہے۔ہمارے یہاں ضرور قبول ہوگی۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہما رے اجتماعی شعری مزاج کے قریب ہے۔ آپ کے خط سے معلوم ہوا کہ یہ بھارت میں بھی مقبول ہو رہی ہے خدا کرے شعراء ادھر توجہ کریں ۔ہمارے ہاں ’’نثری‘‘ نظم کا تجربہ ہورہا ہے ۔ جان ہو گی تو اپنا وجود منوالے گی البتہ میں اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ نثری نظم اس بناء پر آگے نہیں بڑھ سکی کہ اسے کوئی ن م راشد جیسا بڑا شاعر نہیں ملا۔ اصل میں کسی تجربے کی اپنی داخلی توانائیاںاسے استحکام بخشتی ہیں ۔ بڑے شاعر زیادہ سے زیادہ اپنے کچھ مقلد پیدا کر سکتے ہیں مگر تقلید سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔دیکھئے سائنٹ کو کتنا بڑا شاعر (اخترشیرانی)ملاتھا، ن م راشد بھی۔ راشد نے بھی سائنٹ لکھے تھے مگر نتیجہ کیا ہوا ۔ میں ذاتی طور پر نثری نظم کے تجربے کو چند نوجوانوںکے ذاتی تجربے کا نتیجہ گر دانتا ہوں انہیں کام کرنے کا‘ تجربے کو آگے چل کر خود بخود پیچھے ہٹ جائیں گے۔۔اس خبر سے خوشی ہوئی کہ آپ کا ’’ثلاثیوں‘‘کا مجموعہ کچھ مدت بعدمنظر عام پر آرہا ہے ۔ میں نے نہ جانے کہاں پڑھا ہے کہ آپ ڈرامے پر تھیسس لکھ رہے ہیں، ڈاکٹریٹ کے لیے۔ یہ بات کہاں تک صحیح ہے ۔ ویسے عرض کردوں کہ مجھے اس خبر سے بڑی خوشی ہوئی ہے۔

مخدوم محی الدین

تم کیا اچھی نظمیں لکھ رہے ہو آج کل۔ پچھلے دنوں تمہاری کچھ نظمیں بہترین شاعری کے انتخا ب میں پڑھیں ، جدید شعرا ٔکے بارے میں میں یہ کتابیں اردو میں بھی شائع ہوئی ہیں اور دیونا گری رسم الخط میں بھی۔ خدا جانے تم تک پہنچیں یا نہیں۔ یہاں تمہاری ’’ثلاثیاں‘‘ بھی موضوع بحث رہی ہیں۔ یہ اچھی صنف ہے، مختصر اور جامع۔ معلوم ہوتا ہے تم آج کل’’عشق‘‘ نہیں کر رہے ہو، بڑی گمبھیر تا آگئی ہے سوچ میں۔ اس سے تمہاری شاعری پُر وقار تو ہو رہی ہے لیکن ڈرہے کہ کہیں وقت سے پہلے ’’بوڑھے‘‘ نہ ہو جائو۔ شاعر کو ہمیشہ جوان رہنا چاہیے اور تم تو’’نوجوان‘‘ ہو ، سدا بہار۔ تمہیں جب دیکھتا ہوں، ویسا ہی پاتا ہوں۔ عمر کا کوئی اثر ہی نہیں آخر ہے نا دکن کی مٹی۔ دکن کی مٹی کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا وہ’’سورج‘‘ بھی نہیں جو تمہاری شاعری میں ’’آمریت‘‘ کی علامت کے طور پر اُبھرا ہے۔(یہ تشبیہ پاکستانی شاعر ہی دے سکتا ہے)

احتشام حسین… (۹ ستمبر ۱۹۵۷ء)

آپ کی کتاب زیر مطالعہ ہے میں اس پر تفصیل سے لکھوں گا ،ترقی پسند تحریک کے زیر اثر تقسیم کے بعد جن شعرأ کے نام زیادہ نمایاں ہوئے ان میں آپ کا نام نہایت اہم ہے پاکستان میں آپ ‘احمد فراز‘ظہورنظر‘حبیب جالب اور ناصر کاظمی وغیرہ ایسے شاعر ہیں جنہیں یہاں بھی بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے ۔بھارت میں بھی ایک نئی پود سامنے آئی ہے جن میں دو تین تو آپ کے حیدر آباد دکن سے تعلق رکھتے ہیں شاذ تمکنت‘عزیز قیسی اور وحید اختر وغیرہ ۔ادھر راہی معصوم رضا اور دوسرے شعراء ہیں جو بہت اچھا کہہ رہے ہیں ۔ ترقی پسند تحریک ’’ انجمن‘‘ کی شکل میں باقی رہے نہ رہے ،فکر کا جو انداز اس تحریک نے دیا ہے وہ ادب کی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی کا ضامن ہے ۔آپ کا رسالہ’’شعور ‘‘ بھی پسند آیا‘خوبصورت اور قابل مطالعہ ۔ میں اس کے لیے ضرور لکھوں گا۔