آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی بھی میٹھا تیار کیا جائے، اس کے لیے شکر کا استعمال لازمی سمجھاجاتا ہے حتیٰ کہ سوس اور پی نٹ بٹر میں بھی شکر ڈالی جاتی ہے۔ شکر، روزمرہ زندگی کا ایک ایسا جزو ہے، جس کے بغیرعام افراد کا گزارا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سفید شکر انسانی صحت کے لیے کس حد تک خطرناک ہے؟ سائنسدان سفید شکر کو میٹھا زہر اور تمباکو نوشی جتنا خطرناک قرار دیتے ہیں۔ امریکا میں کی گئی تحقیق کے مطابق نوجوانوں کی دن بھر میں لی گئی کیلوریز کا 17فیصد حصہ کین یا ریفائنڈ شوگر پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ بچوں میں یہ شرح 14فیصد ہے۔ شکر کے نقصانات کے پیش نظر، طبی ماہرین اس کو ترک کرنے یا کم مقدار میں استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود زیادہ تر افراد شکر کے استعمال پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ اگر آپ بھی زیادہ شکر استعمال کرنے کے عادی ہیں تو مندرجہ ذیل نقصانات سے متعلق آگہی آپ کے لیے بے حد ضروی ہے، یہ آپ کو شکر کا استعما ل کم کرنے کی جانب مائل کرے گی۔

شکر کی کتنی مقدار لینی چاہیے ؟

شکر کے نقصانات سے قبل یہ جاننا زیادہ اہم ہے کہ ایک انسان کو دن میں کتنی مقدار میں شکر لینی چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر پاکستانی دن میں اوسطاً62گرام شکر کی مقدار حاصل کرتا ہے جوکہ بہت زیادہ ہے۔ امریکن ایسوسی ایشن کے مطابق مرد وں کے لیےدن میں37.5گرام یا 9 چمچ جبکہ عورتوں کے لیے25گرام یا6چمچ چینی کی مقدار مناسب ہے۔ اس سے زائد مقدار انسانی جسم کے لیےخطرناک اور بیماریوں کا پیشہ خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

موٹاپے کی وجہ

تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ دنیا میں موٹاپے کی شرح میں اضافے کا ایک سبب شکر کا زائد استعمال بھی ہے۔ خاص طور پر میٹھے مشروبات (مثلا ً سوڈا، جوسز اور میٹھی چائے) وزن میں تیزی سے اضافہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ان مشروبات میں شکر کی سادہ قسم فرکٹوس پائی جاتی ہے، جو انسان کی بھوک میں اضافہ کرنے کے ساتھ گلوکوز کی سطح کو بھی بڑھادیتی ہے۔ دوسری جانب میٹھے مشروبات کیلوریز میں تیزی سے اضافہ کرنے کا سبب بنتے ہیں اور یہ اضافہ چند ہی دنوں میں موٹاپے کی وجہ بن جاتا ہے۔

ذیابطیس کی وجہ

گزشتہ تیس سالوں کے دوران، دنیا بھر میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ اس مرض کی کئی وجوہات پیش کی جاتی ہیں، تاہم اس کے باوجودشکر کے زائد استعمال اور ذیابطیس کے مرض کے درمیان ایک خاص تعلق پایا جاتا ہے۔ چینی کی صورت میں اضافی 150کیلوریز ذیابطیس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھادیتی ہیں ۔ یہی نہیں، ایک تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال ذیابطیس ٹائپ تھری (دماغی ذیابطیس) کی وجہ بھی بنتا ہے۔

ایکنی کا شکر سے تعلق

اگرآپ کی خوراک کا بیشتر حصہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں اور میٹھے مشروبات پر مشتمل ہے تو ایسی خوراک بھی آپ کی جِلد کیلئے مضر ہو سکتی ہے۔ شکرکے زیادہ استعمال سے بلڈ شوگر لیول بڑھ جاتا ہے اور جسم انسولین کی زیادہ مقدار بنانے لگتا ہے۔ یہ زائد مقدار ایکنی بنانے والے ہارمون اینڈروجن کی پیداوار، آئل گلینڈ کو متحرک کرنے اور سوزش بڑھانے کا سبب بن جاتی ہے۔

دل کی صحت کیلئے خطرہ

شکر کی زائد مقدار والی غذائیں بہت سی بیماریوں کے ساتھ ساتھ دل کی بیماریوں کوحملہ آور ہونے کی دعوت دیتی ہیں۔30ہزار افراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق، وہ افراد جنھوں نے 17سے 21فیصدکیلوریز شکر کے ذریعے حاصل کی تھیں، ان میںدل کی بیماریوں کا تناسب 38فیصد تھا جبکہ وہ افراد جنہوں نے 8فیصد کیلوریز حاصل کی ان میں دل کے امراض کی شرح 10فیصد تھی۔

کینسر کے خطرات کا بڑھ جانا

جو لوگ شکر کی زائد مقدار استعمال کرتے ہیں،ان میں کینسر کا خطرہ عام افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ شکر کی زائد مقدار انسولین میں اضافے، موٹاپے اور سوزش کا سبب بنتی ہے اور یہ تمام عوامل کینسر کے خطرات پیدا کرتے ہیں۔43ہزارافراد پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق شکر کا زیادہ استعمال غذائی نالی کے کینسر، پھیپھڑوں کے کینسر اور چھوٹی آنت کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ حالیہ تحقیقی نتائج کےمطابق وہ خواتین جو ہفتے میں تین مرتبہ کوکیز، بن یا میٹھی غذاؤں کا استعمال کرتی ہیں، ان میں ہفتے میں ایک آدھ بار میٹھی غذائیں استعمال کرنے والی خواتین کی نسبت1.4گنا کینسر کا خطرہ پایا جاتا ہے۔

صحت سے مزید