آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان اپنے اولین سرکاری دورہ امریکہ سے واپس آچکے ہیں جہاں انہیں کئی اعزاز حاصل ہوئے ہیں مثلاً وہ پہلے پاکستانی وزیراعظم ہیں جو کسی بڑے وفد کی بجائے مختصر تعداد میں سرکاری حکام کو لیکر کسی کمرشل پرواز کے ذریعے واشنگٹن پہنچے تھے اور انہوں نے اپنے قیام کیلئے کسی بڑے اور پرتعیش ہوٹل میں قیام کے برعکس واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے احاطے میں ’’واقع پاکستان ہائوس‘‘ میں قیام کیا۔ پھر یہ بھی پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی سے مخاطب ہونے کیلئے کسی ہال کا انتخاب کرنے کی بجائے ایک اوپن ایئر مقام کیپٹل ارینا کا انتخاب کیا جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا جہاں ملی نغمے حاظرین کا جوش وخروش اور اپنے لیڈر کے استقبال کیلئے والہانہ انداز میں رقص کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر اسلام آباد کا ’’ڈی چوک‘‘ یاد آگیا جو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کئی ہفتے آباد رکھا اور کنٹینر سے شب و روز جذباتی خطاب کرتے تھے۔ بعض حلقے جن میں ان کے مخالفین پیش پیش ہیں وہ واشنگٹن کے کیپٹل ارینا میں لوگوں کی حاضری کو تسلیم کرتے ہیں لیکن خطاب کووزیراعظم کا نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا خطاب ہی قرار دیتے ہیں جو وہ کنٹینر سے کیا کرتے تھے۔ ’’پولیٹکل گلیمر‘‘ ختم ہونے کے بعد وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی جس میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے۔ یقیناً یہ ملاقات کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔ ابھی اس کے مختلف پہلو۔ عوامل و محرکات اور مخفی حصے بھی سامنے آئیں گے جس کی روشنی میں ہی یہ بات واضح ہوسکے گی کہ وزیراعظم عمران خان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کتنی اور کس حد تک کامیاب رہی۔ برسبیل تذکرہ بعض سیاسی شخصیات نے اس کی کسوٹی یہ متعین کی ہے کہ اگر واقعی وزیراعظم کی امریکی صدر سے ملاقات کامیاب ہوگئی تو وہ اپنے سیاسی مخالفین کو آتے ہی زبردست ’’رگڑا‘‘ دیں گے۔ خیر یہ تو ازارہ تفنن جملہ ہے۔ اس ملاقات کے واقعی بہرصورت دور رس نتائج نکلیں گے جس کے اثرات ہی اور حکومت کے اقدامات ہی ملاقات کی کامیابی کا تعین کریں گے۔ اس ملاقات میں امریکی صدر نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں ثالثی کے کردار سمیت کئی وعدے کئے ہیں لیکن غیر ملکی شخصیات سے وعدوں کی تکمیل کے ضمن میں ٹرمپ صاحب کا ریکارڈ کوئی زیادہ قابل رشک نہیں ہے۔ سیاست میں مفاہمت کے بادشاہ نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے ایک قدرے غیر معروف سنیٹر صادق سنجرانی کو سینٹ کے چئرمین کے منصب پر بٹھا کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ ناممکن حد تک مشکل کام کو بھی اپنی ’’صلاحیتوں‘‘ سے ممکن بنا سکتے ہیں جیسا کہ وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں اور اب وہ اپنے ہی بنائے ہوئے چیئرمین سینٹ اپنے رفقا کے ساتھ مل کر اس منصب سے محروم کرنے کے درپے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ وہ آج بھی سیاسی طور پر پہلے کی طرح طاقتور ہیں لیکن شاید صورت حال ایسی ہر گز نہیں اور اس حقیقت کا ادراک اب ان کو بھی اسیری کے دوران بڑی شدت سے ہوا ہے کیونکہ موجودہ صورت حال میں وہ اپنی بہن فریال تالپور کے لئے بھی کوئی ریلیف حاصل نہیں کر سکے بہر حال اسلام آباد میں اپوزیشن کے متحدہ امیدوار کو چیئرمین سینٹ بنوانے کے لئے سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیاں جاری ہیں آل پارٹیز کانفرنس میں تشکیل پانے والی اس مقصد کے لئے ’’رہبر کمیٹی‘‘ نے متفقہ طور پر بلوچسان سے ہی تعلق رکھنے والے میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار نامزد کر رکھا ہے جن کا کہنا تھا کہ سینٹ میں اپوزیشن کو واضح اکثریت حاصل ہے حالات ہمارے حق میں ہیں لیکن نجانے مجھے کیوں جہانگیر ترین سے خوف آتا ہے اور دو روز قبل ہی جہانگیر ترین نے ایک بار پھر پر آعتماد طریقے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ صادق سنجرانی بہت اچھا کام کررہے ہیں اور چیئرمین وہی رہیں گے۔ واضح رہے کہ سینٹ کے ارکان کی مجموعی تعداد103ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد32 ہے لیکن اسحاق ڈار اور چوہدری تنویر ووٹنگ کے وقت ایوان میں موجود نہیں ہونگے اس لئے یہ تعداد 30 شمار ہوگی جبکہ متحدہ اپوزیشن نے سیٹ میں67 سنیٹرز اراکین کا دعویٰ کیا ہے حکومت کو اس وقت اعلانیہ طور پر36 ارکان سینٹ کی حمایت حاصل ہے۔ صورت حال ہر اعتبار سے اپوزیشن کی کامیابی یقینی نظر آتی ہے بشرطیکہ کوئی سیاسی ’’معجزہ‘‘ نہ ہو جائے ۔آج 25جولائی کو متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ملک بھر میں سیاسی رہنمائوں کے خلاف مبینہ طور پر انتقامی کارروائیوں، دھاندلی کے نتیجے میں آنے والی حکومت اور مہنگائی کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لاہور اور اسلام آباد میں مشاورت کے کئی اجلاس ہوئے ہیں بادی النظر میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک بھر میں یوم’’سیاہ‘‘ اپوزیشن کی کال حکومت سے زیادہ اپوزیشن کے لئے ایک آزمائش ہے کیونکہ اس کی کامیابی یا ناکامی پر ہی اپوزیشن کی بقا کا بڑا انحصار ہے۔ بعض حلقے اس صورت حال کا اظہار ان خدشات کی شکل میں کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان پیپلزپارٹی شاید ایک حقیقی، سرگرم اور فعال اپوزیشن کا کردار ادا نہ کر سکے اور سیاسی میدان میں مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف اور مریم نواز کی شکل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی حکومت کے سامنے صف آرا ہوں۔ ہر چند کہ آصف علی زرداری یہ اظہار اعلانیہ کر چکے ہیں کہ مسقبل کی سیاسی ’’ہماری بیٹی‘‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو کریں گے لیکن یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن سے قبل بلاول بھٹو کی امریکہ جانے کی خبریں شائع ہوئی تھیں جن میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ وزیراعظم کی امریکہ آمد سے قبل وہاں اہم شخصیات سے ملاقاتوں میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال۔ سیاسی رہنمائوں کی گرفتاریوں اور اپوزیشن کے ساتھ روا رکھے جانے والے انتقامی سلوک کے بارے میں انہیں اگاہ کریں گے لیکن بلاول بھٹو کے حوالے سے ان کی ایسی مصروفیات کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آسکی جبکہ مریم نواز فیصل آباد کے جلسے اور عدالتوں میں پیشی سمیت پوری طرح اپوزیشن کی رہنما کی حیثیت سے منظر پر موجود ہیں۔جہاں تک مولانا فضل الرحمان کا تعلق ہے تو انہوں نے حال ہی میں ’’ملین مارچ‘‘ کے نام سے حکومت کے خلاف بڑے اور موثر اجتماعات کرکے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ تنہا بھی حکومت کے خلاف تحریک چلا سکتے ہیں انہوں نے ہی اپوزیشن کو یکجا کر کے حکومت کے خلاف سرگرم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے پھر قبائلی اضلاع (فاٹا) میں ہونے والے انتخابات میں جہاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو انتہائی مایوسن کن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور دونوں جماعتوں کے اعتماد کو بھی دھچکہ لگا وہیں مولانا فضل الرحمان کی جماعت نے دو نشستیں حاصل کر لیں اور وہ بھی اس پس منظر میں کہ یہ مولانا فضل الرحمان ہی تھے جنہوں نے فاٹا کے انضمام کی شدید مخالفت کی تھی لیکن اس کے باوجود قبائلی عوام نے انہیں ووٹ دیئے ۔ 

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید