آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں صنفی مساوات کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، مگر اس ترقی یافتہ دور میں بھی خواتین پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے جاتے ہیں اس کی مثال ازمنہ وسطیٰ میں بھی نہیں ملتی۔ خواتین کا اغوا، اجتماعی زیادتی، جنسی تشدد، غیرت کے نام پر قتل، جلائے جانے، تیزاب پھینکنے، گھریلو تشدد یا چولہا پھٹنے سے اموات کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ بنت حوا کے حقوق کی نفی، ونی، کاروکاری، غیرت کے نام پر قتل، پنچایتوں میں عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے واقعات کو افسوس ناک ہی کہا جاسکتا ہے۔ کارو کاری یا سیاہ کاری ایک ایسی فرسودہ رسم ہے جس کے تحت کسی بھی خاتون پر الزام عائد کرکے اس کی زندگی کا چراغ بجھادیا جاتا ہے۔ روایتی اعتبار سے اس طرح کے قتل کو عام قتل نہیں بلکہ (Honour Killing)غیرت کے نام پر قتل کہا جاتا ہے۔ سیاہ کاری کی اس فرسودہ روایت کو صوبہ سندھ میں کارو کاری کہا جاتا ہے جبکہ دیگر صوبوں میں اسے مختلف نام دیے گئے ہی۔ نام کوئی بھی ہو، ان سے وابستہ قدیم روایات اور رسم ورواج طویل عرصے سے خواتین کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، کیوں کہ اس رسم کی بھینٹ چڑھنے والی صرف خواتین ہوتی ہیں اور مردوں کو استثنیٰ مل جاتا ہے۔ حکومتی دعوئوں، اعلانات اور قانون سازی کے باوجود اس فرسودہ رسم کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے۔ غیرت کے نام پر سیاہ کاری کا الزام لگاکر ہر سال درجنوں خواتین کو موت کےگھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے مختلف سماجی تنظیمیں کام کررہی ہیں جب کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے بھی اس حوالے سے اپنا کردار اچھے انداز سے نبھایا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں سکھر میں فلاحی تنظیم اور پولیس کی جانب سے آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے آڈیٹوریم میں گزشتہ دنوں سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں میڈم شائستہ کھوسو، میڈم عذرہ جمال، انور مہر اور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے شرکت کی۔ آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کے طلبہ و طالبات نے بھی بطور رضاکار اس اجلاس کو منعقد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد نے سیمینار کی صدارت کی۔ میڈم انیس ہارون، امر سندھو، عرفان ملاح حسین مسرت، ادل سومرو نامور شاعر، ممتاز بخاری نامور تجزیہ نگار، اور قانون دان ہادی بخش بھٹ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر کارو کاری پر بنایا گیا ایک نغمہ بھی سیمینارکے شرکاء کو سنایا گیا۔ فلاحی تنظیم کی ڈاکٹر حسن عائشہ دھاریجو نے اپنے خطاب میں کارو کاری کی تاریخ پیش کی اور ایڈیشنل آئی جی پولیس سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد کے چارج سنبھالنے سے لے کر اب تک کارو کاری کے مسئلے پر فوری اقدامات اور احکامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ویمن پروٹیکشن سیل سکھر ریجن کے اقدامات کو سراہا۔

دیگر مقررین نے کہاکہ سیاہ کاری کی فرسودہ رسم کے تحت خواتین کو قتل کرنا ایسا جرم ہے جس کے خاتمے کے لئے پولیس کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اکثر واقعات میں خاتون کو سیاہ کاری کے الزام کے تحت قتل کرنے کے بعد ہی پولیس کو اطلاع ملتی ہے، بعض مواقع پر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر قتل کی واردات سے قبل اطلاع ملنے پر پولیس کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بازیاب کرالیتی ہے تو بھی بعد میں اس کی زندگی کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اس لئے اس فرسودہ رسم کو ختم کرنا صرف پولیس کے اختیار میں نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کو اس حوالے سے آگے بڑھ کر اپنا عملی کردار ادا کرنا ہوگا اور لوگوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہوگا۔ خاص طور پر اس حوالے سے مزید سخت قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ جس قدر او رجتنی جلدی ممکن ہوسکے ان فرسودہ رسومات کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔سیمینار میں کارو کاری کے موضوع پر بنایا گیا خصوصی ڈرامہ پیش کیا گیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی، ڈاکٹر جمیل احمد نے اپنےصدارتی خطبے میں کہا کہ پاکستان میں نصف سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے مگر یہاں کی خواتین آج کے اس جدید دور میں بھی قدیم رسم و رواج کی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ کبھی انہیں غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے تو کبھی گھریلو تشدد یا تیزاب پھینک کر جلادیا جاتا ہے، کبھی خواتین کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی فرسودہ رسومات کے تحت انہیں موت کی وادی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ بیشتر واقعات تو ایسے ہیں جو کہ رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں اور ظلم کا شکار ہونے والی خواتین خاموش رہ کر اپنے اوپر ہونے والے مظالم سہتی رہتی ہیں۔خواتین کو ان کا حق دینے، صنفی تضاد ختم کرکے انہیں برابری کے حقوق دینے، تشدد کی روک تھام بالخصوص سیاہ کاری کی فرسودہ رسم کے تحت انہیں موت کےگھاٹ اتارے جانےکے واقعات کی روک تھام کے لئے معاشرے کے تمام افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید