آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سندھ میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان لفظی گولہ باری

تحریک انصاف اور پی پی پی کے کارکنوں کے درمیان لفظی گولہ باری اب لڑائی جھگڑوں میں تبدیل ہوتی جارہی ہے ایسے میں ایک واقعہ میں کلفٹن کے علاقے تین تلوار پر پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی کی این جی او فکس اٹ اور پی پی پی کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوگیا جس سے علاقہ میدان جنگ بن گیا۔پولیس نے فکس اٹ کے بانی عالمگیرخان کو گرفتارکرلیا۔ اس دوران دونوں جانب سے کارکنان گتھم گتھاہوگئے اور لاٹھی ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، پولیس نے بھی لاٹھی چارج کیا، ہنگامہ آرائی کے دوران متعدد افراد اور 2 پولیس افسران زخمی بھی ہوئے، عالمگیرخان کورہاکیاگیا لیکن جب وہ اپنے دیگر کارکنوں کی رہائی کے لیے فریئرتھانے پہنچے تو انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا جس پر فکس اٹ کے کارکنوں نے فریئرتھانے کے باہردھرنا دے دیا، پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا۔ بعدازاں عالمگیر خان اور دیگر افراد کو رہاکردیاگیا۔ اتوار کی دوپہر فکس اٹ کے کارکنان تین تلوار پرقائم وزیربلدیات سعیدغنی کے کیمپ آفس پر کچراپھینکنے کے لیے جمع ہوئے تو وہاں پہلے سے ہی پیپلزپارٹی کے کارکنان موجودتھے۔جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی فکس اٹ کے کارکنوں نے صوبائی وزیربلدیات کے کیمپ آفس پر احتجاجاً کچرا پھینکا جس کے بعد دونوں پارٹیوںکے کارکنان گتھم گتھاہوگئے جس میں پولیس افسران سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے پولیس نے فکس اٹ کے سربراہ رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کو گرفتار کرلیا تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا ، عالمگیرخان اس سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس کے گیٹ پر گنداپانی کے علاوہ ان گٹروں پر جن پر ڈھکن نہیں تھے وزیراعلیٰ سندھ کی تصاویر بناتے رہے ہیں مذکورہ واقعہ کے بعد صوبائی وزیر بلدیات سعیدغنی نے کہاکہ پی ٹی آئی وضاحت کرے کہ کیا فکس اٹ ان کی ذیلی تنظیم ہے۔اور کیا اس کے بانی ڈھکن چورعالمگیر کو انہوں نے ہی اس شہر میں سیاسی فسادات کے لیے اختیار دیا ہے۔ عالمگیرخان نے ایک سازش کے تحت اس شہر میں سیاسی فسادات پھیلانے کا بیڑا اٹھایا ہواہے اور اتوار کے روز کلفٹن میں میرے دفتر پر حملہ اور پیپلزپارٹی کے 8 کارکنوں کو زخمی کرنے کا مقدمہ بھی اسی کے خلاف درج کرایا جائے گا۔ہمارا کوئی کارکن مسلح نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ڈنڈا تھا البتہ پارٹی جھنڈے ضرور تھے۔پیپلزپارٹی کے 9 کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔کراچی میں ہمارے کارکنان لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور وہ جذبات بھی رکھتے ہیں لیکن ہمارے سیاسی طور پر بصیرت کے باعث وہ خاموش ہیں اس کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ہم کمزور ہیں یا ہم اپنے گھروں اور دفاتر کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ سعیدغنی نے کہاکہ پرامن احتجاج سب کا جمہوری حق ہے اور ہم اس حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک سوال پر سعیدغنی نے کہاکہ گزشتہ کئی روز سے کراچی میں تحریک انصاف کے ارکان قومی اورصوبائی اسمبلی نے جس طرح کا رویہ اپنایاہوا ہے وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی سیکریٹریٹ انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سینئررہنما وقائدحزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے کہاہے کہ بانی فکس اٹ ورکن قومی اسمبلی پی ٹی آئی عالمگیرخان کے پرامن احتجاج پر پولیس تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کو الگ رنگ دے دیا ہے۔ میں عالمگیرخان اور فکس اٹ کو مبارکباد پیش کرتاہوں کہ انہوں نے شہر کے بڑھتے ہوئے مسائل پر توجہ مبذول کرائی۔ اگر پیپلزپارٹی کے کارکنان جمہوریت پر یقین رکھتے تو منہ پر ڈھاٹے باندھ کر سامنے نہ آتے۔ادھرپی پی پی نے گھوٹکی کا ضمنی انتخاب کا معرکہ سرکرلیا جہاں پی پی پی کے امیدوار محمدبخش مہر نے 89 ہزار140 ووٹ حاصل کرکے کامیابی سمیٹی ان کے مقابل پی ٹی آئی اور جی ڈی اے کا مشترکہ امیدوار احمد علی خان 72 ہزار 499 ووٹ حاصل کرسکیں مذکورہ حلقے میں دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ گرچہ پی پی پی نے تقریباً سترہ ہزار ووٹوں سے کامیابی سمیٹی تاہم اس حلقے میں اپوزیشن نے ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے پی پی پی کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانی ہوگی پی پی پی کو اس حلقے سے جام سیف اللہ دار محمد، جے یو آئی کی بھی حمایت حاصل تھی ادھر 25 جولائی کو پی ٹی آئی نے اظہار تشکر جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے یوم سیاہ منایا اس ضمن میں ملک بھر میں ریلیاں منعقد ہوئی۔کراچی میں اپوزیشن جماعتوں نے باغ جناح میں میدان لگایا جبکہ شہر قائد کے 6 ضلاع سے ریلیاں اور جلوس مزارقائد پہنچے پیپلزپارٹی، جے یو آئی(ف)، مسلم لیگ(ن)، اے این پی، جے یو پی سمیت دیگر تنظیموں نے ریلیاں نکالیں ، باغ جناح میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے آج ہم پھر سے ایک ہوگئے، جمہوریت خطرے میں ہے، کوئی ایک سیاسی جماعت پاکستان کے مسائل کا حل اکیلے نہیں نکال سکتی، اس وقت صرف سیاست دان ہی نہیں بلکہ سیاست نشانے پر ہے، چند قوانین نہیں پوراآئین نشانے پر ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہاتھا صرف 6 ماہ دیں پھر میں ہرچیزکاذمہ دار ہوں گا، ہم نے ایک سال دیا ہر پاکستانی پریشان ہے ملک تاریخی معاشی بحران سے گزررہا ہے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا صرف ایک مشن ہے کہ عوام کے ووٹ کو عزت دو ، سلیکٹڈحکومت اورسلیکٹڈ وزیراعظم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، بلاول بھٹو کے مشکور ہیں جنہوں نے سلیکٹڈ کا لفظ دیا اور اب سلیکٹڈ لوگ چھپتے پھررہے ہیں ، آصف زرداری کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے 18 ویں ترمیم دی اور نوازشریف کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ایٹمی دھماکے کئے اور گوادر بندرگاہ بنائی ، سعیدرفیق نے ریلوے کی آمدنی بڑھائی انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختوانخو اکے صدر ایمل اسفند یار ورلی خان نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ آج عوام نے سلیکٹڈ لفظ تبدیل کردیا اب عمران خان ریجیکٹڈ وزیراعظم بن گئے اقتدار پر غیرمقبول لوگوں کو بٹھاکر اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ نیشنل پارٹی ،جے یو پی ، جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ادھر سکھرجے یوآئی کے کارکنان نے جامعہ حمادیہ منزل گاہ سے سکھر پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی جبکہ پیپلزپارٹی کے کارکنان غوث بخش میرانی، عبدالحمیدشیخ ودیگر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ میرپور میں جے یو آئی نے یوم سیاہ پر اسٹیشن چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی اور دھرنا دیا۔ ادھر کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ نہ رک سکا کراچی کے متعدد علاقوں میں 10 سے 15 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ روز کا معمول ہے جس کی وجہ سے کراچی کے شہری قلت آب کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ بے خوابی کا بھی شکار ہے تاہم اس مسئلے پر سیاسی جماعتیں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ 

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید