آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الفاظ کی زیبائش و آرائش

آج صبح صبح ہی ’’سنڈے میگزین‘‘ کے درشن ہو گئے۔ دل آنگن کےساتھ جیسے درودیوار بھی خُوشبو سے مہک مہک اُٹھے۔ چاروں جانب قوسِ قزح کے حسین رنگ بکھرگئے۔ مجھےلگتاہے، یہ جو لکھاری ہوتے ہیں، یہ کسی اور ہی دنیا کے باسی ہوتے ہیں، تخلیق کار اپنے ارد گرد جو دیکھتے ہیں، وہی ضبط ِ تحریر میں لاتے ہیں۔ ویسے سیپیوں سے سُچّے موتی چُن چُن کر، لفظوں کی دل فریب مالائیں پرونا، تصوّرات کو حقیقت کا رُوپ دینا تو بس نرجس ملک پر ختم ہے، خاص طور پر اگر موقع کسی عالمی دن یا تہوار کا ہو تو پھر الفاظ کی وہ زیبائش و آرایش ہوتی ہے کہ کیا کہنے۔ سچ کہوں تو میرا دل جب بھی دُکھی، بے چین ہو، مَیں آپ کی تحریریں نکال کر پڑھ لیتی ہوں۔ اِک اَن جانی سی عقیدت ہے مجھے آپ کی تحریروں سے۔ ایک طویل عرصے سےسنڈے میگزین باقاعدگی سے زیرِ مطالعہ ہے۔ زیادہ تر سلسلے پسندیدہ ہیں، کسی ایک آدھ صفحے ہی سے صرفِ نظر کرتی ہوں۔ (عروسہ شہوار رفیع)

ج:ارے عروسہ ! تم نے تو ہمیں کچھ مغرور سا کر دیا۔ ہمارا تو خیال تھا کہ زیادہ تر لوگ ہماری سیدھی کھری باتوں، سچّی تحریروں سے نالاں ہی رہتے ہیں۔

اچھے کلمات، اعترافات

’’یہ میرا باپ نہیں، چار سُو محبت ہے…‘‘ نرجس بیٹا! یہ کیا کہہ دیا۔ واقعی باپ چار سُو محبت ہی محبت، سراپا محبت ہے،اگر سمجھا جائے تو… ہمارے یہاں ماں کا احترام و عزت، اُس سے اظہار عقیدت کی روایت تو پھر بھی عام ہے۔ لیکن باپ… جس کے متعلق نبی کریمؐ کے صرف ایک جملے سے اُس کے بلند درجات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ’’باپ راضی تو رب راضی‘‘ لیکن اولاد پھر بھی باپ کی خدمات کو خراج پیش کرنے سے جھجکتی ہی رہتی ہے۔ وہ تو بھلا ہو ’’فادرز ڈے‘‘ کی رسم ڈالنے والوں کا کہ اس کے طفیل ہر سال ہمیں بھی کچھ اچھے کلمات، اعترافات سُننے کو مل جاتے ہیں۔ خاص طور پر تمہاری تحریر تو دل کو ایسی لگتی ہے، گویا تم خود اپنے ’’باپ ‘‘ کا پرتو ہو۔ بخدا دل بھر آتا ہے، آنکھیں نم کر دیتی ہو۔ ایک دن کےلیےہی سہی باپوں کےسوئے ’’وجود‘‘ کو جیسے جِلا بخش دیتی ہو۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ ساحر علی بگّا اور ان کی فیملی کے تاثرات پڑھ کر یقین کرو، اُس خاندان پر رشک آ رہا تھا۔ محمود میاں نجمی نے حضرت موسیٰؑ کے قصص کی دوسری قسط میں مزید کئی واقعات دل کو بھا جانےوالے پیرائے میں تحریر کیے۔ ماشاء اللہ۔ کھوجی لکھاری ڈاکٹر قمر عباس نے بھی دل خوش کر دیا۔ ضیاء محی الدین کے حوالے سے ان کی کھوج بڑی کام یاب رہی۔ نیوز اینکر علی انیق سیّد کی ’’کہی ان کہی‘‘ بس روایتی سوالات کے روایتی جوابات کے مصداق پڑھ لی۔ ہماری مانیں تو آپ اپنی مدرز، فادرز ڈے کی تحریریں اِن انٹرویو لینے والوں کو بار بار پڑھوایا کریں۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں شریف الحسن عثمانی کی تحریر نے بھی بہت متاثر کیا، البتہ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں صحرائی صاحب کی ’’لمس کی دستک‘‘ اِک ایسی دستک تھی، جس کا جواب نہ ہی دیا جائے تو اچھا ہے۔ ہاں ’’اِک رشتہ اِک کہانی‘‘ اور پیغامات بہت عُمدہ رہے۔ (چاچا چھکن، گلشن اقبال، کراچی)

ج:چاچا جی! عموماً بیٹی، ماں کی پرچھائیں ہوتی ہے، لیکن ہمیں بھی لگتا ہے کہ ہم اپنے باپ کا پَرتو ہیں۔ اگر ہماری تحریر سے آپ کا دل بھر آتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں تو یہ تو اچھی بات ہے۔ مَردوں کو بھی کبھی کبھار آنسو بہا لینے چاہئیں، اس طرح دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔

اگر اندازہ ہوتا؟

سنڈےمیگزین کا’’عید ایڈیشن‘‘ پڑھا، تمام مضامین اچھے اور معیاری تھے لیکن نگاہیں ’’قصص الانبیاء‘‘ تلاش کرتی رہیں۔ تین چار مرتبہ سارے صفحات الٹے پلٹے، پورا میگزین کھنگال ڈالا لیکن ’’قصص الانبیاء‘‘ نہ پایا۔ سوچا کہ شاید نہ چھاپنے کی کوئی وجہ کسی کونے کُھدرے میں لکھی ہو، لیکن وہ بھی نظر نہ آئی۔ مَیں سنڈے میگزین صرف ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کے مضامین ہی کی وجہ سے پڑھتا ہوں، پھر مضمون کو نیٹ سے ڈائون لوڈ کر کے اپنے واٹس ایپ گروپ پر شیئر کرتا ہوں۔ ’’قصص الانبیاء‘‘ کا سلسلہ نوجوان نسل میں جس قدر مقبول ہوا ہےاگر آپ کو اس کا اندازہ ہوتا، تو دوسرے مضامین کو اس پر فوقیت ہرگز نہ دیتیں۔ میری اور میرے واٹس ایپ گروپ کی آپ سے درخواست ہے کہ آئندہ اس سلسلے میں کوئی بریک نہ آنے دیں۔ (سید محمد آصف دہلوی، شہید ملت ٹائون، کراچی)

ج:بھئی واہ۔ کیا ہی عُمدہ تجزیہ ہے آپ کا۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ کون سا سلسلہ قارئین میں کس قدر مقبول ہے۔ اس ایک سلسلے کی برقراری اور مسلسل اشاعت کے لیے ہمیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، آپ تصوّر بھی نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی کبھی کبھار کچھ ناگزیر وجوہ کی بناء پر انتہائی مجبوری کے عالم میں کوئی بھی صفحہ، کہیں سے بھی ڈراپ کیا جاسکتاہے اورضروری نہیں کہ وہ وجوہ آپ سے شیئر بھی کی جائیں۔

نواب زادے کی عزت

’’سنڈے میگزین‘‘ میں ہمارا انٹرویو شائع کریں۔ اگر پورے صفحے پر شائع نہیں ہوسکتاتوآٹھ،دس سطروں ہی کا شائع کر دیں اور ساتھ ہماری ایک چھوٹی سی تصویر بھی لگائیں، اور پلیز ہمارے خطوط کی ایڈیٹنگ نہ کیا کریں۔ ایک ہزار بار یہ بات کہہ چکے ہیں، مگر آپ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کیا ایک نواب زادے کی آپ کے نزدیک یہی عزت ہے۔ (نواب زادہ خادم ملک، سعید آباد، کراچی)

ج:او بھئی! پالیسی میٹر میں کوئی عزت، بے عزتی نہیں ہوتی۔ ’’سنڈے میگزین‘‘ کی پالیسی ہے کہ اس میں فضولیات، لغویات کی اشاعت ممنوع ہے، تو خط سے وہی کچھ ایڈٹ کیا جاتا ہے، جو بہت غیر ضروری، بالکل بے سروپا ہوتا ہے۔

عظیم باپ کی عظیم بیٹی

’’سنڈے میگزین‘‘ باقاعدگی اور پابندی سے زیر ِمطالعہ رہتا ہے کہ یہ ہر طرح کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ سیاسی امور، دینِ اسلام، طب، ڈائجسٹ، اُمورِ خانہ داری، آرائش و زیبائش، نئی کتابوں اور عالمی اُفق سے متعلق بہت کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ یوں کہیے ’’سنڈے میگزین‘‘ لاجواب ہے۔ اس ہفتے ’’گفتگو‘‘ میں محمّد ہمایوں ظفر کا لیا ہوا انٹرویو، جو محترمہ سعدیہ راشد کا تھا، بہت ہی پسند آیا۔ ’’عظیم باپ کی عظیم بیٹی‘‘ سے کیا گیاانٹرویو ہمیں جہد ِمسلسل کی ترغیب دیتا ہے۔ امید ہے،آئندہ بھی ایسی ملاقاتیں کرواتی رہیں گی۔  (محمّد باسط اللہ بیگ، کھار پاڑہ، میرپورخاص)

عُمدہ پرنٹنگ، نکھرا، سُتھرا شمارہ

’’سنڈے میگزین‘‘ کا ’’پدر نامہ‘‘ (Father's Special) طلوع ہوا، تو دنیا نے دیکھا، پڑھا۔ خُوب صُورت، اسمِ بامسمیٰ۔ ساحر علی بگّا کے خانوادے سے سَجا سرورق شان دار تھا، لیکن اُن کی اہلیہ نظر نہیں آئیں، غالباً ’’فادرز ڈے اسپیشل‘‘ میں’’ حُبِ مادر‘‘ کو ضروری نہیں جانا گیاہوگا۔ سبحان اللہ! ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ اپنی پوری ہدایت و صداقت کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ محبوب و مقبول پیغمبرِ اسلام، حضرت موسیٰؑ(پانی سے نکلا ہوا) کا تذکرہ پڑھا، شاید ہی محمود میاں نجمی نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی حیات، نبوّت و خدمات کا کوئی گوشہ تشنہ رہنے دیا، الفاظ کا انتخاب بھی انتہائی محتاط ہے۔ بات چِھڑی ہے پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈے کی، تو میں بھی عُمر کے چھٹے عشرے کے آخر میں پہنچ گیا، ہمیشہ ایک ہی شور سُنا، پڑھا اور ٹی وی پر دیکھا کہ بچّوں کو حفظانِ صحت کے اُصولوں کے مطابق پاکستان بھر میں پولیو کے قطرے ’’مفت‘‘ پلائے جارہے ہیں۔ اِس کے باوجود، عالم یہ ہے کہ جن ایک دو ممالک میں مرض باقی رہ گیا ہے، اُن میں ہم بھی شامل ہیں۔ اِس بار کی خاص الخاص شے ’’لازم و ملزوم‘‘ میں ضیاء محی الدّین کا پیش کیا گیاتفصیلی تعارف تھا، اور یہ ’’ادبی محاکمہ‘‘ اُن کی حیات و خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا بھی نظر آیا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں محمّد ہمایوں ظفر نے’’جیو نیوز‘‘ کے اسمارٹ نیوز اینکر، علی انیق سیّد سے ملاقات کروائی، جو پسند آئی۔ ’’پیارا گھر‘‘ اپنی ٹھنڈک سمیت ہر ہفتے موجود ہوتا ہے۔ اس بار پیرزادہ شریف الحسن’’ فادرز ڈے‘‘ کے حوالے سے بہت اہم تحریر لائے۔’’ مرکزی صفحات‘‘ پر مدیرہ نے تین صفحات پر خُوب صُورت تحریر رقم کی۔ باپ کی ذات و خدمات کا شاید ہی کوئی پہلو ہو، جو احاطۂ تحریر میں نہ لایا گیا ہو۔ عالیہ کاشف کے مرتّب کردہ پیغامات بھی پسند آئے اور جریدے کے مقبولِ عام سلسلے میں حسبِ توفیق مجھ ’’خبطی پروفیسر‘‘ کے ایک بار پھر خُوب لتّے لیے گئے۔ اگلے جریدے کی بات کروں، تو دیکھ کے یقین ہی نہیں آیا کہ اتنی عُمدہ پرنٹنگ’’سنڈے میگزین‘‘ کی ہے۔ اِس بار تو شمارہ انتہائی نکھرا نکھرا نظر آیا۔ سرورق پر ماڈل کے چہرے کے نقوش، کلائی کی گھڑی کا وقت، کلابتو اور گوٹے کے کڑوں کا ایک ایک زاویہ روشن تھا۔ منور مرزا نے بھی اس بار بہت کُھل کے لکھا۔ مرکزی صفحات کی تحریر، عالیہ کاشف کی تھی اور’’ ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں بھی عالیہ نے ڈینٹل سرجن، پروفیسر ڈاکٹر سیّد محمّد کیفی کا بہت اچھا انٹرویو کیا۔ ’’کچھ توجّہ اِدھر بھی‘‘ کی تحریرات بھی توجّہ طلب رہیں اور آخری صفحے پر ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا جو چاند طلوع نظر آیا، تو کئی دوستوں اور مدیرہ صاحبہ سے بے حد مزے دار، ہفتے وار ملاقات ہوگئی۔ (پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی، گلبرگ ٹاؤن، کراچی)

ج: آج ایک بار پھر آپ کے 10 صفحاتی’’دو خطوط‘‘ سے حتی المقدور مغز ماری کے بعد بالآخر یہی نتیجہ برآمد کرنے میں کام یاب ہوئے ہیں، جو اِس وقت آپ کے سامنے ہے،مگرابھی بھی لگ رہا ہے کہ بہت کچھ ایویں ہی ہے، جسے مزید ایڈٹ کیا جاسکتا تھا۔

لکھنے پڑھنے سے محبّت

آپ کی زیرِ نگرانی ’’سنڈے میگزین‘‘ کی ہر ہفتے باقاعدہ اشاعت آپ اور آپ کی ٹیم کی ادب سے گہری وابستگی کا کُھلا ثبوت ہے۔ اور ساتھ ہی اِس بات کا اشارہ بھی کہ ابھی لوگوں کی لکھنے پڑھنے سے محبّت کم نہیں ہوئی۔ (شری مُرلی چندجی،گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)

قوم کے دِل کی آواز

استادِ محترم، پروفیسر منصور علی خان کا خط نظروں سے گزرا، تو ہماری بھی طبیعت خط لکھنے کو مچل اٹھی۔ پروفیسر صاحب نے’’قصص الانبیاء‘‘ کے مضامین کےسلسلے میں اپنے جن خیالات کا اظہار کیا، وہ اُمّتِ مسلمہ اور خاص طور پر پاکستانی قوم کے دِل کی آواز ہیں۔ دراصل، اس سلسلے نے اُن تمام مغرب زَدہ لوگوں کو آئینہ دِکھادیا ہے، جو یہود و نصاریٰ کے گُن گاتے نہیں تھکتے۔ اللہ تعالیٰ، محمودمیاں نجمی اورپروفیسرمنصورجیسے اساتذہ کو سلامت رکھے، جو آج اِس ضعیفی، پیری میں بھی اپنا فرض ادا کررہے ہیں۔ بلاشبہ، اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ’’قصص الانبیاء‘‘ کا یہ سلسلہ ’’سنڈے میگزین‘‘ کا وہ عظیم کارنامہ ہے، جس کے ہمارے معاشرے پر بڑےدُوررَس اثرات مرتّب ہوں گے۔ اِس قدر عمیق تحقیق کے بعد قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے ساتھ ایسے مضامین تحریر کرنا، ہرگز کوئی آسان اَمر نہیں اور اِس ضمن میں آپ اور آپ کی ٹیم، نیز، انتظامیہ بھی بہت مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یقیناً اللہ کے یہاں اِس صدقۂ جاریہ کا اجر تو آپ لوگوں کے لیے کچھ الگ ہوگا۔ (سدرہ فیصل، شادمان ٹائون، کراچی)

ج: اِن شاء اللہ تعالیٰ۔ اللہ آپ کی زبان مبارک کرے۔

نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری

کافی دنوں بعد ایک بار پھر حاضرِ خدمت ہوں۔ اِس شدید گرمی میں بھی باقاعدگی سے ’’سنڈے میگزین‘‘ ملتا رہا، بےحد شُکریہ۔ ساری تحریریں اچھی تھیں۔ منور راجپوت نے ’’ہائے یہ بے زبان‘‘ لکھا تو جانوروں کے لیے تھا، مگر آج کل مُلکِ عزیز میں انسان بھی’’بے زباں‘‘ ہی ہیں اور اگر منہگائی اِسی طرح بڑھتی رہی، تو وہ وقت دُور نہیں، جب ہم بےدر، بےگھر بھی ہوجائیں گے۔ یہ جو بڑی تعداد میں شیلٹر ہوم بنائے جارہے ہیں، غالباً اسی مقصد کے لیے ہیں۔ بجلی، گیس، پیٹرول، آٹا، دال، چاول، گھی، چینی، سبزی، پھل، دوا دارو سب ہی کچھ تو منہگا ہوگیا ہے، اوپر سے ٹیکسز کی بھرمار، پتا نہیں یہ ’’تبدیلی سرکار‘‘ آخر چاہ کیا رہی ہے۔ ایک بار ہی بم گرائیں، سب کو مار ڈالیں کہ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ کیا ہمیں اس’’ عمرانی حکومت‘‘ کے سبز باغ دِکھائےجارہے تھے۔ اللہ معاف کرے، اب تو آنکھیں بند کرتے بھی خوف آتا ہے کہ بند آنکھوں سےدیکھے جانے والے خوابوں کی ایسی ہی تعبیر ہوتی ہے۔ باقی آپ کا میگزین کم صفحات میں بھی اپنا معیار و وقار قائم رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کرے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے۔ ہم غریبوں کے پاس تو اور کوئی آسرا ہی نہیں۔ (ولی احمد شاد، ملیر، کراچی)

ج: وہ جلے دِل کے پھپھولے، جو ہمیں پھوڑنے تھے، وہ خون کے آنسو، جو ہمیں رونے تھے، سب آپ نے پھوڑ لیے، رولیے۔ اب ہم مزید کیا کہیں۔ یوں بھی اِس وقت تو پورا مُلک ہی اس شعر کی عملی تفسیر بنا ہوا ہے؎ ’’آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں…تو ہائے گُل پکار، میں چلّائوں ہائے دِل‘‘۔

نام وَر شیفس کے انٹرویوز

میگزین خُوب ہے، گھر کے سب ہی افراد شوق سے مطالعہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر ’’قصص الانبیاء‘‘ میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے متعلق پڑھ کر تو ایمان خُوب تازہ ہورہا ہے۔ نجمی صاحب کا اندازِ بیاں لاجواب ہے۔ اس بار ہیلتھ اینڈ فٹنس میں ڈاکٹر صاحب نےدانتوں اورمسوڑھوں سےمتعلق معلومات فراہم کیں اور جاپان تو واقعی جاپان ہے، اچھا مضمون تھا۔ ناقابلِ فراموش کی کہانیاں بھی سبق آموز لگیں۔ ایک گزارش ہے کہ’’کہی اَن کہی‘‘ میں جو انٹرویوز شایع کیے جاتے ہیں، تو اُن میں مُلک کے نام وَر شیفس کے نام بھی شامل کرلیں۔ ان سے متعلق کچھ جاننا چاہیں، تو کہاں سے جانیں۔(نرجس فاطمہ، ملّت گارڈن، ملیر کراچی)

ج: تجویز تو آپ کی معقول ہے۔ عمل درآمد کی کوشش کریں گے۔

                                                                                             فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

شمارہ موصول ہوا، سرورق پر اس مصرعے کے ساتھ ماڈل براجمان تھیں کہ ’’اس کو ادائے حُسن کہوں کہ حُسنِ ادا کہوں‘‘ مگر شعر اور ماڈل میں کچھ خاص مماثلت محسوس نہیں ہوئی۔ زیادہ کیا عرض کریں کہ بقول آپ کے سرِورق، اسٹائل کے صفحات خواتین کے لیے مختص ہیں۔ خیر، جریدہ اس بار بھی خاصا دبلا پتلا سا تھا، صرف20 صفحات پر مشتمل۔ اس قدر ڈائٹنگ سے جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں، دھیان رکھیے گا۔ ہماری ایک تجویز ہے کہ اتوار کے اخبار کی قیمت میں کچھ اضافہ کر دیں۔ اس طرح آپ لوگوں کی کچھ تو اشک شوئی ہوگی۔ وفاقی بجٹ پر منور مرزا کا تجزیہ بہترین رہا۔ ’’قصص الانبیاء‘‘ میں نجمی صاحب نے حضرت موسیٰؑ کے قصّے کی کچھ مزید تفصیلات رقم کیں۔ ’’گفتگو‘‘ میں خیبر پختون خوا اسمبلی کےقائدحزبِ اختلاف، اکرم درّانی کا انٹرویو شامل کیا گیا۔ شکوہ تھا کہ’’ نیب وہاں کرپشن کے باوجود خاموش کیوں ہے؟‘‘ تو جناب! او تو ساڈے بندے نے، اونہاں دے خلاف کارروائی کیوں ہون لگی۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں نجم الحسن عطا آٹومیشن ٹیکنالوجی کے عہد میں ہائر ایجوکیشن اور عمومی تعلیم کا موازنہ کر رہے تھے۔ انہیں شکوہ تھا کہ فورتھ جنریشن ایج میں پاکستان کا کردار نظر نہیں آتا، تو حکمرانوں کو کرپشن سے فرصت ملے تو جدید ٹیکنالوجی کی طرف دھیان دیں ناں۔ ’’اسٹائل‘‘ پر عالیہ کاشف کی تحریر تھی۔ ٹھیک ہی لگی، بس ماڈل کے الہڑ مٹیارن جیسے پوز ہضم نہیں ہوئے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں معروف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر سیّد محمد کیفی سے اچھی بات چیت کی گئی۔ نئی کتابوں پر ڈاکٹر قمر عباس کا بھی اچھا تبصرہ تھا۔ ’’متفرق‘‘ میں شاہان قریشی جاپانی صنعت کی خوبیاں بیان کر رہے تھے کہ جاپانی معیارپرسمجھوتا نہیں کرتے۔ واقعی صحیح بات ہے اور ایک ہم ہیں کہ ملاوٹ اور دو نمبری میں ثانی نہیں رکھتے۔ اِک سیال کوٹ کا تاریخی قلعہ ہی نہیں، مُلکِ عزیز کے اور بھی بے شمار قلعے، کھنڈرات میں تبدیل ہو چُکے ہیں اور پھر وہی بات، حکمرانوں کو کرپشن سے فرصت ملے، تو کچھ سوچیں ناں۔ ’’ناقابل فراموش‘‘ کے دونوں قصّے زبردست تھے۔ اب آجاتے ہیں اپنے صفحے پر، اس ہفتے کی اعزازی چٹھی محمد سلیم راجا کے نام رہی۔ اپنے ذکر خیر پر اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ’’سائیں بڑی مہربانی‘‘۔ آپ کی بات سو فی صد درست، لوگ کسی حال میں خوش نہیں ہوتے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ پر تمام اعتراضات فضول ہیں۔ یہ جس جگہ بھی شائع ہو، کم از کم ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل مقصد تو ان انبیاء کے قصص سے کچھ سبق حاصل کرنا ہے۔ دین و دنیا کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ ’’یہاں کیوں شایع کیا، وہاں کیوں نہیں شایع کیا‘‘ جیسی فضول بحث میں پڑے رہیں۔ ویسے’’آپ کا صفحہ‘‘ میں سب ہی لکھاریوں نے اچھے خطوط لکھے اور آپ کے جوابات بھی اچھے تھے۔ (شہزادہ بشیر محمد نقشبندی، میرپورخاص)

ج:نہ نہ کرتے بھی ’’اسٹائل‘‘ کے خوب اچھی طرح درشن کر ہی لیے۔ اور اخبار کی قیمت بڑھانے کی تو بات نہ ہی کریں، لوگ برانڈڈ کپڑوں، جوتوں، موبائل فونز پر تو جتنا مرضی ٹیکس دے دیں گے، لیکن اگر اخبار کی قیمت دو روپے بھی بڑھ گئی، تو وہ شور شرابا ہوگا کہ الامان الحفیظ۔ اور لوگوں کے لیے تو ہم بس یہی کہتے ہیں ’’دنیا کب چُپ رہتی ہے، کہنے دو جو کہتی ہے۔‘‘

گوشہ برقی خُطوط
  • تین ہفتے قبل میگزین میں میری تحریر شایع ہوئی، تو شُکریے کی ای میل کی۔ کوئی جواب نہ پاکر پھر ای میل کی۔ اب تیسری بار ای میل کررہا ہوں اور اس شکایت کے ساتھ کہ یہ خادم ملک اور پروفیسر مجیب جیسے لوگوں کے خطوط تو ہر ہفتے شایع ہوجاتے ہیں۔ ہم جیسے کبھی کبھار کے آنے والوں کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ (فیضان خان)

ج:آپ نے تو شُکریے کی ای میل بھی ’’لٹھ مار اسٹائل‘‘ میں کی ہے۔ غالباً ایک بار نہیں، اَن گنت بار بتایا جاچکا کہ ’’گوشہ برقی خطوط‘‘ محض ایک گوشہ ہے۔ ’’آپ کاصفحہ‘‘ اصولاً خطوط نگاروں کے لیے شروع کیا گیا تاکہ مکتوب نگاری کی دَم توڑتی روایت کا احیاء ہوسکے۔ اور پھر ای میلز کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ باری آتے آتے مہینوں لگ جاتے ہیں، ہفتوں کی تو بات ہی کیا۔ اگر آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ کو براہِ راست جواب دیا جائے تو یہاں ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ ہر ای میل کی وصولی کی رسید بذریعہ میگزین ہی دی جاتی ہے اور وہ بھی باری آنے پر، کیا سمجھے…؟؟

  • مَیں ایک گورنمنٹ اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہوں، ساتھ ہی اردو ادب کا طالب علم بھی۔ میگزین کچھ ہی عرصہ پہلے پڑھنا شروع کیا ہے۔ مندرجات نے کافی متاثر کیا۔ میرے خیال میں آج کل کے طلبہ میں اخلاق و کردار کی خاصی کمی پائی جاتی ہے، تو اس حوالے سے تحریریں وقتاً فوقتاً شامل ہوتی رہنی چاہئیں۔ نیز ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات پر خواتین کی بے جا نمائش سے گریز بھی ضروری ہے۔(محمد عادل، ڈسکہ ، سیال کوٹ)

ج:درست فرما رہے ہیں آپ۔ ہم آپ کی دونوں ہی باتوں سے سو فی صد متفق ہیں۔

  • میگزین اس لحاظ سے پرفیکٹ ہے کہ اس میں سیاسی، سماجی، معاشی و معاشرتی پہلوئوں کے ساتھ تفریحی پہلو بھی ضرور پیشِ نگاہ رکھا جاتا ہے۔ (عائشہ طارق، لال پُل، لاہور)
  • دو مضامین ارسال کیے ہیں، قابلِ اشاعت ہوں تو جگہ دے دیجیے گا۔ (مدثر اعجاز، لاہور)

ج:جو قابلِ اشاعت ہوتےہیں، وہ کسی سفارشی ای میل کےبغیر بھی شایع ہوجاتے ہیں۔

قارئینِ کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

[email protected]

سنڈے میگزین سے مزید