آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


بھارتی آئین سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بالی ووڈ اداکار ثاقب سلیم اور اداکارہ ہما قریشی کشمیریوں کی حمایت میں بول پڑے جس پر انہیں پاکستان جانے کا مشورہ دے دیا گیا۔

مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر جاری ظلم و ستم اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرنے کے خلاف جہاں پاکستانی عوام، معروف شخصیات اور فنکار آواز اُٹھا رہے ہیں تو وہیں بھارتی فنکار بھی کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف مختلف طریقوں سے آواز اُٹھا رہے ہیں۔

بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لیے آواز اُٹھائی، تو اس پر بھارتیوں نے انہیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

اداکارہ ہما قریشی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر ہر شخص کی اپنی سوچ اور رائے ہے، باقی لوگوں کی طرح میری بھی اس مسئلے پر اپنی سوچ ہے۔

ہما قریشی نے لکھا کہ کشمیر کے لوگوں پر جو ظلم و جبر ہو رہا ہے شاید کسی کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہے، کشمیر میں نظر بند ہونے والے اور خون ریزی کا شکار ہونے والوں میں بچے، عورتیں، نوجوان اور بوڑھےشامل ہیں۔

اداکارہ نے مزید لکھا کہ ایک بار ذرا خود کو اس جگہ پر رکھ کر دیکھیں تو پھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

اداکارہ کی جانب سے کیے جانے والے اس ٹوئٹ کے بعد بھارتی ہندو انتہا پسندوں نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا، کسی نے اداکارہ کے اقدام کو پروپیگنڈے کا نام دیا تو کسی نے ان کو پاکستان جانے کا مشورہ دے دیا۔

ایک بھارتی ہندو انتہا پسند نے اداکارہ کو مشورہ دیا کہ ’اگر یہ سب نہیں پسند تو آپ پاکستان چلی جائیں۔‘


ہما قریشی کے ٹوئٹ کے جواب میں ایک بھارتی نے طنز کیا کہ ’آپ جیسے لوگ ہی ملک کو توڑتے ہیں۔‘

ہما قریشی کی طرح ان کے بھائی اداکار ثاقب سلیم نے بھی کشمیری بھائیوں کے حق میں آواز اُٹھائی تو بھارتی ہندو انتہا پسندو ں کی جانب سے ان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پاکستان جانے کی تجویز دی گئ۔

ثاقب سلیم نے بھی اپنے ٹوئٹ کے ذریعے ان تمام لوگوں کو جواب دیا جنہوں نے اُنہیں اور ان کی بہن ہما قریشی کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا تھا۔

اداکار ثاقب سلیم نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ مجھے بھارتی ہونے پر فخر ہے، آپ لوگ میری فکر نہ کریں، میں جہاں بھی ہوں بالکل ٹھیک ہوں۔

اداکار نے ایک دوسرے ٹوئٹ میں ٹوئٹر صارف کو کرارا جواب دیا۔

ٹوئٹر پر صارف نے لکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ایسا بھی کیا غلط ہورہا ہے، اس ٹوئٹ کے جواب میں ثاقب سلیم نے لکھا کہ ’کچھ نہیں بھائی سب ٹھیک ہے کشمیر میں، وہاں صرف سیاسی رہنماوئوں کو نظر بند کیا ہوا ہے، کرفیو نافذ ہے، لوگوں کے آپس میں رابطے نہیں ہورہے، کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے، لیکن آپ پریشان نہ ہوں، مقبوضہ کشمیر میں کچھ نہیں ہوا ہے، وہاں سب ٹھیک ہے۔‘

اداکار کے اس جواب کے بعد صارف نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا۔

ایک بھارتی صارف کو جواب دیتے ہوئے ثاقب سلیم نے طنز کیا کہ’اتنی نفرت اچھی نہیں ہے یادو صاحب، کب نکلو گے ہندو مسلم سے باہر.

  اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے جہاں بھارتی صارفین کے مشوروں اور طنزیہ باتوں کا کرارا جواب دیا وہیں مثبت پیغامات بھیجنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ ہما قریشی کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے، اور ان کے خاندان کے کچھ لوگ ابھی بھی کشمیر میں رہائش پذیر ہیں اور ان کا اپنے خاندان والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر جہاں دیا مرزا، زائرہ وسیم اور دیگر شوبز شخصیات نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا تھا، اب وہیں اداکارہ ہما قریشی اور ان کے بھائی اداکار ثاقب سلیم نے بھی اس معاملے پر خاموشی توڑی ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید