آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز


درِ زنداں کھلا…!!

میں اڈیالہ جیل کی کھولی سے نکل کر مختصر سے مستطیل برآمدے میں چہل قدمی کرنے لگا۔ برآمدے کے باہر ایک بلند قامت آہنی جنگلا تھا جو مقفل تھا۔ ہماری چار کھولیوں کے مدمقابل برآمدے کے سامنے بھی ایسی ہی چار کھولیاں تھیں۔ ان کھولیوں کے قیدی بھی اپنے برآمدے میں نکل آئے تھے۔ یکایک تیز بارش شروع ہو گئی۔ میں اندر اپنے سیل میں بیٹھا اور بارش کا نظارہ کرنے لگا۔ سامنے کی ایک کھولی سے کسی دل جلے نے تان اٹھائی۔کس کا رستہ دیکھے؍اے دل اے سودائی؍ میلوں ہے خاموشی؍برسوں ہے تنہائی ؍ بھولی دنیا کبھی کی؍ تجھے بھی، مجھے بھی؍ پھر کیوں آنکھ بھر آئی؍ کس کا رستہ دیکھے

کشور کی آواز میں ساحر لدھیانوی کا لکھا یہ گانا میں بیسیوں بار سن چکا تھا۔ لمبی قید نے اس کی آواز میں عجب سوز بھر دیا تھا۔ میرے پہلو میں بیٹھے شاہ جی بولے۔ ’’جب بھی بارش ہو کوئی نہ کوئی گانا شروع کر دیتا ہے یہ‘‘ بارش برسے جا رہی تھی اور قیدی کا گیت قوس قزح کی طرح جھولا جھول رہا تھا۔ میری کھولی کے باہر برستی بارش کے سیمابی قطروں کی راہ میں کوئی ہرا بھرا درخت تھا۔ نہ لہلہاتا کھیت نہ سبز پتوں سے لدی جھولتی شاخیں۔ شاہ جی بولے ’’سر جی! بڑی سخت جگہ ہے یہ۔ یہاں تو پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا‘‘۔ میں نے واقعی اب تک کوئی پرندہ نہ دیکھا تھا۔ میرے دماغ میں ایک عجب سا خیال کلبلایا۔’’اگر ہتھکڑیوں، بیڑیوں اور کھولیوں پر قدرت رکھنے والوں کا بس چلتا تو وہ ہر قطرہ باراں کو بھی ہتھکڑی ڈال دیتے۔ دور افق پار بادلوں کے دیس میں ایک اڈیالہ بناتے اور بدمست سرمئی گھٹائوں کو HSBکی قصوری چکیوں میں بند کر دیتے۔

بارش ذرا دیر بعد تھم گئی، خبر اڑی کہ دوپہر کا لنگر آگیا۔ شاہ جی نے ہمارا کھانا وصول کیا۔ یہ آبِ تالاب جیسا گدلا شوربہ تھا جس میں کہیں کہیں سفید چنوں کے دانے تیر رہے تھے۔ بھوک ستا رہی تھی۔ میں نے دو نوالے لئے۔ ان دو نوالوں سے دل بھی بھر گیا اور پیٹ بھی۔ آخری کھولی کے نوجوان نے کہا ’’سر جی! آپ کے لئے ہم خود سبزی بناتے ہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا ’’سبزی؟‘‘ وہ بولا ’’جی سبزی۔ کریلے، بھنڈی، کدو، جو بھی پسند کریں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’یہ سب کہاں سے لائو گے؟‘‘ کہنے لگا۔ ’’سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ بس آپ بتائیں‘‘۔ میں نے بھنڈی کی فرمائش کی۔ وہ بولا ’’ٹھیک ایک بجے بھنڈی تیار ہوگی‘‘۔

چیونٹی کی رفتار سے ہی سہی، وقت اڈیالہ جیل کی قصوری چکی میں بھی لمحہ لمحہ گزر رہا تھا۔ میرے پاس گھڑی نہیں تھی۔ برآمدے میں ٹہلتے ایک قیدی سے وقت پوچھا ’’پونے ایک بجنے کو ہیں‘‘۔ وہ بولا۔ کوئلوں والی انگیٹھی پہ پکتی بھنڈی کی خوشبو آہنی پھاٹکوں سے بے نیاز میرے سیل تک آرہی تھی۔ بس سر جی! پندرہ بیس منٹ اور… شاہ جی نے ہانک لگائی، اور میں نے کسمساتی بھوک کو تھپکی دی، عین اسی لمحے ایک پولیس افسر کی معیت میں تین اہلکار احاطے میں داخل ہوئے۔ آٹھ متوازی کھولیوں میں ہبڑ دھبڑ سی مچی۔ اہلکاروں نے ہمارے برآمدے کے پھاٹک کا تالا کھولا اور سیدھے میری کھولی کی طرف آئے۔ بولے ’’آپ چلیں‘‘۔ میں نے پوچھا ’’کہاں‘‘؟ کہنے لگے ’’سپرنٹنڈنٹ صاحب کے پاس‘‘، میں نے سوچا شاید سیل تبدیل کیا جا رہا ہے۔ خاموشی سے ان کے ساتھ ہو لیا۔ باہر نکلے تو پھر وہی موٹر سائیکل پھر وہی وجد آفریں سواری، سپرنٹنڈنٹ ثاقب اپنے کمرے میں موجود تھے۔ خوش اطواری سے ملے۔ کہنے لگا ’’مبارک ہو آپ کی ضمانت ہو گئی ہے۔ رہائی کا حکم آ گیاہے‘‘۔ میں نے پوچھا ’’ضمانت کی تاریخ تو کل سوموار کو لگی ہے۔ آج اتوار کو یہ کیسے ہو گئی؟‘‘ ثاقب شاید میری معصومیت اور ناپختہ کاری پر مسکرایا۔ کہنے لگا ’’سر نہ مجھے کچھ معلوم ہے، نہ آپ کچھ پوچھیں‘‘۔ میں نے ویسٹ کوٹ کی جیب سے گلابی رنگ کی پرچی نکالی۔ ایک کارندہ بڑا سا رجسٹر لایا۔ میرے دستخط لئے اور چار ہزار روپے تھما دیئے۔ تھوڑی دیر بعد جاوید اقبال کو بھی بلا لیا گیا۔ دفتری کارروائی جلد مکمل کر لی گئی۔ درِ زنداں کھلا، گاڑی دروازے کے ساتھ لگی تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ صدر دروازے کے بجائے عقبی گیٹ نمبر ایک سے نکلیں۔ قصوری چکیوں کی چائے اور بھنڈیاں دھری رہ گئیں۔

میں اپنی اسیری اور رہائی کی کہانی کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر سے کلیتاً بے خبر ہوں۔ مجھے جیل سے باہر آکر معلوم ہوا کہ الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا، صحافتی برادری، سول سوسائٹی اور عوام نے کس کمال کی جنگ لڑی ہے۔ یہ سب کچھ ایک زندہ معاشرے کی تابندہ علامت تھا۔ میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور میرا سر ان کے بارِ احسان سے جھکا رہے گا۔ مجھے میڈیا سے معلوم ہوا کہ وزیراعظم نے بھی اظہارِ ناپسندیدگی کیا اور معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر نے بھی نوٹس لیا۔ جناب چیف جسٹس سے منسوب ایک بیان بھی میری نظر سے گزرا کہ ’’اس معاملے سے عدلیہ کو سبکی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے‘‘ ضمانت پر میری رہائی کو اب دو ہفتے ہو چلے ہیں۔ اس دوران عدلیہ، حکومت، پی ٹی آئی، ضلعی انتظامیہ، اسپیکر آفس، پولیس یا کسی بھی ادارے کے کسی ذمہ دار نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ میں بدستور ضمانت پہ ہوں اور نہیں جانتا کہ اس بحر کی تہہ سے کیا اچھلتا اور گنبد نیلوفری کیا رنگ بدلتا ہے۔

میں نصف شب کو دہشت گردوں کے انداز میں گرفتاری، بیٹی کو پڑنے والے دھکوں، اہلیہ کی کلائی کی چوٹ، ہتھکڑی ڈال کر عدالت میں لانے اور بازار میں گھمانے، اڈیالہ جیل کے HSBسیل میں ڈالنے اور سر عام تماشا بنانے کے معاملات میں سے کسی کی انکوائری یا تحقیقات نہیں چاہتا۔ اس لئے کہ میں جس عہد میں جی رہا ہوں، وہ بے لاگ تحقیق و تفتیش کی سکت نہیں رکھتا۔ مجھ سے تھانے کے اہلکاروں اور جیل کے ذمہ داروں نے بھی کوئی ناشائستہ سلوک نہیں کیا۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی صوابدید و اختیار سے ماوریٰ تھا۔ ان کے ہاتھوں میں بھی نوکری کے تقاضوں کی ہتھکڑیاں پڑی تھیں جن کی زنجیریں میری زنجیر سے کہیں زیادہ لمبی اور مضبوط تھیں۔

البتہ جناب چیف جسٹس کے ریمارکس میرے لئے نہایت حوصلہ افزا اور اہم ہیں۔ اس لئے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے اونچی مسندِ انصاف پر جلوہ گر ہیں۔ عزت مآب چیف جسٹس اپنے عدالتی فیصلوں کو شاہیر اقوالِ زریں، عالمی ادب کے شاہ پاروں اور شعری جمالیات سے مزین کرتے رہتے ہیں۔ اپنی مودبانہ التماس سے قبل میں ان کی توجہ اپنے عہد کی نابغہ ٔروزگار شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کے ایک شہرہ آفاق قول کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ مولانا نے کوئی ایک صدی قبل، غداری کے مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے کلکتہ کے ایک انگریز مجسٹریٹ کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہا تھا ’’تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں، میدانِ جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں میں ہوئی ہیں‘‘۔

جناب چیف جسٹس حقیقی عدل کیلئے خاصے سرگرم ہیں۔ انہوں نے ’’ماڈل کورٹس‘‘ یعنی ’’نمونہ تقلید‘‘ بننے والی عدالتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اگر وہ مناسب خیال کریں تو 27اور 28جولائی کو اسی اسلام آباد میں سپریم کوٹ کی ناک کے عین نیچے، ایک نادر روزگار نمونہ عدل تخلیق کرنے والی عدالتی کارروائی کا جائزہ ضرور لیں۔ جو سینئر وکلا کے نزدیک برصغیر کی تاریخ عدل کی اچھوتی نظیر ہے۔ ایسا اسلئے بھی ضروری ہے کہ خود جناب چیف جسٹس کے بقول ’’اس اقدام سے عدلیہ کو سبکی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے‘‘۔ اگر عزت مآب چیف جسٹس ’’عدلیہ کی سبکی اور شرمندگی‘‘ کے محرکات کا سراغ لگا سکیں تو میری ذاتی سبکی اور شرمندگی کا ازالہ بھی ہو جائیگا۔ (ختم شد)