آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اس تحریر سے کچھ دیر پہلے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو سفارتی محاذ پر ایک بہت بڑی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دوٹوک الفاظ میں دنیا کو بتا دیا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف اور صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہوگا اور سلامتی کونسل کی قرادادیں ہی اس مسئلے کا واحد حل ہیں۔ جموں و کشمیر کا معاملہ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں ہے بلکہ یہ وادی کے عوام کے حق خودارادیت کے ناگزیر حق سے منسلک ہے۔ حق خود ارادیت کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک قومی ریاست کے تمام افراد کو حق خودارادیت کا حق حاصل ہے۔ جموں و کشمیر ایک قومی ریاست کی تمام شقوں اور لوازم پر پورا اترتا ہے۔ جموں و کشمیر کی خود نظم و نسق کی ایک تاریخ ہے، اس کی اپنی ثقافت اور زبانیں ہیں اور اس میں 14ملین سے زیادہ افراد آباد ہیں۔ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کشمیریوں کے لئے اس لئے آواز نہیں اٹھاتا کہ وہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتا ہے بلکہ وہ اسے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے تحت ہی حل کرانا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت ہمیشہ بین الاقوامی برادری کو دھوکا دیتا ہے اور کشمیر پر مکمل طور قابض ہونا چاہتا ہے۔ یہ ایک طرح سے دستاویزی حقیقت ہے کہ تنازع کشمیر میں خود ارادیت ہی بنیادی مسئلہ ہے مگر بھارت اس کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر نے ’’حق خودارادیت‘‘ کو بین الاقوامی قانون کے ایجنڈے میں رکھا۔ چارٹر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کا اصول ’’اقوام عالم میں دوستانہ تعلقات استوار کرنا ہے‘‘۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 1948میں ہیومن رائٹس سے متعلق ایک عالمی اعلامیہ (یو ڈی ایچ آر) اپنایا۔ اس اعلامیہ کے آرٹیکل 2میں فرد کو بغیر کسی امتیاز کے تمام حقوق اور آزادی کا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 91کے باوجود بھارت نے جموں و کشمیر کے متنازع الحاق کو حتمی سمجھا اور اکتوبر1957میں پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کرکے کشمیر کو اپنا لازمی حصہ قرار دے دیا، جموں و کشمیر میں بھارت نواز سیاسی قیادت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت نے اپنی حیثیت تبدیل کر دی اور اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نہ صرف حقوق سلب کیے بلکہ بدترین درندگی کی مثالیں بھی قائم کیں جس سے ایک لاکھ سے زائد کشمیری اب تک اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ 1960سے 1964تک بھارت نے مصر کے صدر جمال ناصر، امریکی صدر کینیڈی اور دیگر کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کیا۔ یہ مسئلہ کشمیر تھا جس پر بھارت اور پاکستان نے دو جنگیں لڑیں، پاک بھارت جنگ 1965اور کارگل جنگ 1999اور اب تیسری جنگ تیار ہے۔ مارچ 1965میں ہندوستانی پارلیمنٹ نے کشمیر کو بھارت کا ایک صوبہ قرار دینے کا بل منظور کیا اور دعویٰ کیا کہ بھارت جموں و کشمیر میں ایک گورنر کا تقرر کرے گا۔ بھارت کے اپنے نمائندوں گپتا، ایس پی اگروال اور ایس آر بخشی نے سلامتی کونسل میں تحریری طور پر بتایا کہ بھارت کسی بھی حالت میں کشمیر میں اقوام متحدہ کی تجویز کردہ رائے شماری کے انعقاد پر راضی نہیں ہوگا۔ 1980میں ہندو فرقہ واریت کے خلاف جموں و کشمیر میں ایک نئی کشمیری جدوجہد کا آغاز ہوا۔ 1990کی دہائی کے اوائل میں، ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور جموں و کشمیر میں رائے شماری کا مطالبہ کیا جو کہ آج تک قائم ہے۔ بھارتی فورسز نے الحاق کے لئے بدترین طاقت کا نہتے کشمیریوں پر استعمال کیا۔ 1990کی دہائی سے لے کر آج تک آئی او ایف کے ذریعے انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیوں کے بارے میں واضح ثبوت ہیں کہ وہ حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کی آوازوں کو روکنے کے لئے ہر طرح کا تشدد اور بربریت کرتے ہیں مگر چونکہ بھارت نے کشمیر کا دنیا بھر سے رابطہ منقطع کیا ہوا ہے اور بین الاقوامی آزاد میڈیا کو وہاں تک رسائی نہیں ہے اس لئے دنیا کو فوراً اس بربریت کا پتا نہیں چل پاتا۔

تاریخی حقائق نے یہ ثابت کیا کہ تقسیم کے بعد کی بھارتی قیادت نے نہ صرف جموں و کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراداد کی حیثیت کو تسلیم کیا بلکہ جموں و کشمیر کے فیصلہ سازی کے عمل میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے موقف کو بھی قبول کیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ کشمیر کے بارے میں رائے شماری میں بھارتی حیثیت تبدیل ہو گئی۔ تمام وعدوں کے باوجود بھارت 1950کی دہائی سے ہمیشہ ہی کشمیریوں کو جموں و کشمیر پر فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس نے کسی بھی طرح کے مباحثے ثالثی یا رائے شماری کو غیر متعلقہ قرار دیا ہے۔

دوسری طرف کشمیر کے بارے میں پاکستان کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کو ایک ’متنازع علاقہ‘ سمجھا اور یو این ایس سی آر کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا پورا حق ہے۔ پاکستان کی انتھک کوششوں کی وجہ سے 23نومبر 2016کو اقوام متحدہ نے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد منظور کی جس میں لوگوں کے حق خودارادیت کی توثیق کا مطالبہ تھا۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان نے دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف اور کشمیری عوام کے غصب شدہ حقوق کی طرف کرائی۔ ممکن ہے کہ بھارت جلد ہی بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے دباؤ پر آرٹیکل 370کو ایک دفعہ پھر مقبوضہ کشمیر میں نافذ کر دے گا جو کہ پاکستان اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔