آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ وہ بے اختیار میئر ہیں، جس کے کنٹرول میں صرف 10فیصد کراچی ہے، تمام اختیارات حکومت سندھ نے سلب کئے ہوئے ہیں، جس کی عدم توجہی کے باعث کراچی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، برسر اقتدار رہنے والی ہر سیاسی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ تک ڈلیور کرنے میں ناکام رہی، متحدہ قومی موومنٹ نے بھی ملنے والی غیر معمولی طاقت کا غلط استعمال کیا، کراچی کا وارث کوئی نہیں بن سکا، کسی بھی حکمران کو کراچی سے دلچسپی نہیں رہی، خصوصاً کراچی کے وسائل استعمال کر کے ترقی حاصل کرنے والی بزنس کمیونٹی بھی کراچی کی ترقی میں دلچسپی نہیں رکھتی، صرف سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں ترقیاتی کام ہوئے لیکن کراچی کو کبھی بھی اس کا پورا حق نہیں ملا۔

لیکن عمران خان سے امید ہے کہ وہ کراچی کے مسائل کے حل اور ترقی کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔ وہ کمیونٹی کی تنظیموں بشمول ہیوسٹن کراچی سینٹر ایسوسی ایشن،PAGH،PACTاور دیگر کئی تنظیموں کی جانب سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ میٹ اینڈ گریٹ پروگرام سے خطاب کررہے تھے ،جس سے قبل ازیں کمشنر کراچی افتخار شنوانی، قونصل جنرل عائشہ فاروقی ، ہارون شیخ،سعید شیخ، ایم جے خان، سجاد برکی، ڈاکٹر مبشر چوہدری اور محمد ظہیر نے بھی خطاب کیا۔میئر کراچی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے کراچی کے مسائل کے حوالے سے سنجیدگی اور طرز عمل نے متاثر کیا،وہ کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کئے بغیر کراچی کی ترقی ممکن نہیں ، کسی سیاسی جماعت نے ایم کیو ایم کے سابق حکومتی الحاق کے وقت کئے گئے معاہدوں کو پورا نہیں کیا، غلطی ہماری بھی ہے، تاہم امید ہے کہ موجودہ حکومت کام کرے گی اور یہ بات سچ ہے کہ عمران خان کم از کم بد عنوان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ کے14اسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، جن کو بہتر بنانے کیلئے سمندر پار پاکستانی آلات اور مشینوں کی فراہمی کے ذریعے مدد کرسکتے ہیں، اس حوالے سے میں سعید شیخ کا ممنون ہوں جو اس سلسلے میں بھر پور تعاون اور مدد کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلدیہ کو ملنے والے پیسوں سے صرف تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے، لیکن اسے کچھ نہیں ملتا، بلدیہ کراچی کا بجٹ26بلین روپے ہے جبکہ پہلے شہر کا بجٹ300بلین ہے،وفاقی بجٹ کراچی کے ٹیکسوں سے بنتا ہے اگرکراچی ٹیکس نہیں دے تو وفاقی بجٹ نہیں بن سکتا،اس طرح سندھ کو کراچی90فیصد دیتا ہے ، کراچی سالانہ1300ارب ٹیکس دیتا ہے، یہ تمام باتیں،وزیر اعظم عمران خان کو گوش گزار کی ہیں لیکن وہ بھی 18ویں ترمیم کی وجہ سے مجبور ہیں، تاہم ہم نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ کراچی کو مکمل تباہی سے بچانے کیلئے آرٹیکل149استعمال کریں،سیاسی چپقلش کی وجہ سے کراچی تباہ ہو رہا ہے اور متاثر عوام ہو رہے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی تباہ ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر انہی اختیارات کے ساتھ آئندہ الیکشن ہونے ہیں تو بہتر ہے کہ نہ کرائے جائیں، یہ وقت اور پیسے کا ضیاع ہو گا ، انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کراچی کو16اضلاع میں تبدیل کر دیا گیا اور تمام اضلاع اور اتھارٹیز بلدیہ کے کنٹرول میں نہیں ہیں، میرا سوال ہے کہ میرے کراچی کا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے، دس سالوں میںدو ہزار ارب بجٹ پیش کیا گیا ہے وہ پیسہ کہاں گیا، ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہو گا۔

بلادی سے مزید