آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ربیع الثانی1441ھ 14؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہم ہر سال یوم آزادی پر یک زباں ہوکر یہ نغمہ گاتے ہیں،’’اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں‘‘ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کا انتخاب کیسے عمل میں آیا؟ آج یومِ آزادی کے موقع پر جب ہر سُو پرچموں کی بہار ہے، نوجوان،بچے، بوڑھے سبھی قومی پرچم کے رنگوں میں رنگے ہوئے ہیں، تو ایسے میں اس بات پر روشنی ڈالنا بھی اہم ہے کہ مسلم اکثریت کی نمائندگی کرنے والے مقدس رنگ سبز اور غیر مسلم اقلیت کے لیے امن و محبت اور بھائی چارے کے سفید رنگ کا انتخاب کیسے ہوا اور اس پر سجا چاند ستارہ کیوں بنایا گیا؟

قومی پرچم کا انتخاب

پاکستان کا قومی پرچم امیرالدین قدوائی نے قائداعظم کی ہدایت پر تیار کیا۔ قیامِ پاکستان سے 3دن قبل یعنی 11اگست 1947ء کو اسے قومی پرچم کا درجہ دیا گیا۔ انگریزوں نے تقسیم ہند کا اعلان کیا توسندھ کی صوبائی اسمبلی نے تقسیم کی شرائط کے مطابق اس کے حق میں تجویز منظور کی، پاکستان کی طرف سے قائداعظم اور بھارت کی طرف سے پنڈت جواہر لال نہرو اس کمیٹی میں شامل کیے گئے۔ کمیٹی کے اجلاس صبح وائسرائے کے گھر اور سہ پہر اورنگ زیب روڈ دہلی میں واقع قائد اعظم کی رہائش گاہ پر ہوتے تھے، جس میں صبح کے نتیجے اور آئندہ اجلاس کے ایجنڈے پر غور کرنے کے ساتھ دوسرے مسائل کا تصفیہ کیا جاتا تھا۔ ایک دن قائداعظم نے فرمایا،’’وائسرائے نےپاکستانی پرچم کے متعلق بحث چھیڑی اور کہا کہ بھارت کے نمائندے تو اس بات پر رضامند ہیں کہ باقی نوآبادیوں (کالونیز) کی طرح اپنے جھنڈے میں پانچواں حصہ برطانوی پرچم یعنی ’یونین جیک‘ کےلیے مخصوص کردیں، آپ کیا کریں گے؟ تو میں نے کہا کہ اپنے رفقا سے مشورہ کرکے مطلع کروں گا‘‘۔ اس پرسردار عبدالرب نشتر نے گزارش کی،’’یہ تجویز ماننی نہیں چاہیے، ہماری صورتحال باقی ماندہ برطانوی نوآبادیوں سے جدا گانہ ہے، وہ ممالک برطانوی لوگوں کے قبضے میں ہیں۔ برطانوی پرچم سے ان کا خاص تعلق ہے، ہم تو برطانیہ کے قبضے سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہمارا ان سے نہ نسلی تعلق ہے اور نہ مذہبی۔ ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہوگا۔ ایسا پرچم ہماری غلامی کی یاد گار رہے گا‘‘۔ سب کی متفقہ رائے یہی قرار پائی کہ وائسرائے کی تجویز نہیں ماننی چاہیے، لہٰذا قائداعظم نے وائسرائے کو کہا کہ بھارت کی اپنی صوابدید ہے لیکن پاکستان کئی وجوہات کی بنا پر ’یونین جیک‘ کو پرچم میں جگہ نہیں دے سکتا۔ بالآخر یہ طے پایا کہ چونکہ پاکستان میں کئی اقلیتیں موجود ہیں، اس لیے اگر سب کی نمائندگی کےلیے علیحدہ علیحدہ رنگ یا نشان کے پرچم رکھے گئے توموزوں نہ ہوگا، اس کے بجائے ایک حصہ سفید رکھا جائے جو تمام رنگوں کا مجموعہ ہے۔ اس طرح ایک تو سب اقلیتوں کی نمائندگی ہوجائے گی اور دوسرا پرچم میں سفید رنگ کا موجود ہونا ہمارے اسلامی ملک کی امن و صلح کی پالیسی کا بھی مظہر ہوگا۔ قائداعظم نے فرمایا کہ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ پاکستان کے پانچ صوبوں کی نمائندگی کےلیے پرچم میں پانچ ستارے بھی رکھے جائیں؟ سردارعبدالرب نشتر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ریاستوں کا الحاق بھی ہوگا۔ چند روز طویل بحث رہی اور پرچم کے کئی ڈیزائن تیار کیے گئے۔ پھر قائداعظم کو ایک نمونہ پسند آیا، جس کا ڈیزائن امیرالدین قدوائی نے تیار کیا۔ ماسٹر الطاف حسین اور افضال حسین نے پہلا پرچم اپنے ہاتھ سے تیار کیا، تاہم کچھ عرصے بعدپرچم کے حوالے سے خاصی دشواریاں سامنے آئیں، تب تک قائداعظم محمدعلی جناح رحلت فرما چکے تھے۔ لیاقت علی خان کی طرف سے دشواریوں کا ذکر جب وزراء اور اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا تو مسلسل بحث کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ پرچم کو اُسی حالت میں رہنے دیا جائے، جس طرح مجلس دستور ساز میں فیصلہ کیا گیا تھا۔

قومی پرچم کی اہمیت

قومی پرچم کا سرکاری نام ’پرچم ِ ستارہ و ہلال‘ ہے، جو گہرے سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے۔ اس میں تین حصے گہراسبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہے۔ سفید رنگ کا چاند ترقی اور ستارہ روشنی و علم کا استعارہ ہے۔ سرکاری تدفین، عمارتوں، گاڑیوں اور میزوں کے لیے قومی پرچم کے مختلف سائز مقرر کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے قومی پرچم لہرانے کی تقاریب یوم پاکستان (23مارچ)، یوم آزادی (14اگست) اور یوم قائد اعظم (25دسمبر) کے مواقع پر منعقد کی جاتی ہیں یا پھر حکومت وقت اگر چاہے تو کسی خاص موقع پر قومی پرچم لہرانے کا اعلان کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ قائد اعظم کے یوم وفات(11ستمبر)، علامہ اقبال کے یوم وفات (21اپریل) اور لیاقت علی خان کے یوم وفات(16اکتوبر) پر قومی پرچم سرنگوں رہتا ہے یا پھر کسی اور موقع پر جس کا اعلان حکومت وقت کرے۔ سرنگوں کی حالت میں پرچم ڈنڈے کی بلندی سے قدرے نیچے باندھا جاتاہے ۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید