آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت کی جانب سے کرفیو کے نفاذ کا آج تیرہواں روز ہے، وادی میں ہر طرف خوف کا ماحول ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، مقبوضہ وادی کا رابطہ مسلسل تیرہویں روز بھی دنیا سے منقطع ہے۔

مظلوم کشمیری خوراک، ادویات اور دیگر ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں، جس سے مودی کا ہندو ازم کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو کے باعث انٹر نیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہے جبکہ تمام رابطے منقطع ہونے سے کشمیری عوام کا رابطہ دنیا بھر سے کٹا ہوا ہے۔

بھارت نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے اور ہزاروں بھارتی فوجی تعینات کر رکھے ہیں، کرفیو کے باعث ضروریاتِ زندگی، بچوں کے لیے خوراک اور جان بچانے والی ادویات کی قلت کے باعث انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

قابض انتظامیہ نے سید علی گیلانی اور میر واعظ سمیت تقریباً تمام حریت رہنماؤں کو گرفتار اور نظر بند کر رکھا ہے جب کہ فاروق عبداللّٰہ، عمر عبداللّٰہ، محبوبہ مفتی سمیت 900 سے زائد سیاسی رہنما زیرِ حراست ہیں۔

گزشتہ روز جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں میں پابندیوں میں نرمی کی گئی لیکن مسلمان اکثریتی علاقوں میں تمام تر سختیاں برقرار رہیں۔

اپنی مٹی کے لیے کشمیری ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، وادی میں جگہ جگہ کشمیری نوجوانوں کے آزادی کے حق میں نعرے گونجتے رہتے ہیں۔

مقبوضہ وادی کی یک طرفہ حیثیت بدلنے کے خلاف ہر کشمیری بھارت کے خلاف یک آواز ہے اور دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنی مٹی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

ادھر حریت فورم نے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں سے بھارتی پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر آنے کی اپیل کر دی۔

حریت فورم کی جانب سے سری نگر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیری اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے آواز بلند کریں، گھروں سے باہر آ جائیں اور بھارت کی جانب سے عائد کرفیو اور پابندیوں کو توڑ دیں۔

حریت فورم نے کہا ہے کہ جموں کشمیر، کشمیریوں کی زمین ہے، جس کا فیصلہ وہ خود کریں گے، کشمیر ویلی، جموں اور کارگل کے لوگ بھارتی پابندیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی بھارتی مذموم سرگرمیوں کے خلاف احتجاج کریں۔

حریت فورم کا مزید کہنا ہے کہ کشمیری قوم کبھی بھی ہندو توا کی سازش کو قبول نہیں کرے گی اور ہندو بنیاد پرستوں کو کبھی بھی کشمیری اپنی سر زمین میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

بھارتی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل حریت فورم، سول سوسائٹی ،وکلاء تنظیموں، صحافیوں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سرکاری ملازمین نے مل کر کی ہے۔

واضح رہے کہ آج مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تاریخی میٹنگ ہونے جا رہی ہے، سب کی نگاہیں اس میٹنگ پر ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید