آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ہماری جامع مسجد ہے۔مسجد کے تینوں اطراف مسجد کی جائیدادیں ہیں ، جن سے مسجد کو معقول آمدنی ہوتی ہے۔مسجد کے نظم ونسق کے لیے ایک کمیٹی مقرر تھی، جس نے طویل عرصہ تک خدمت انجام دی، اب کچھ عرصہ پہلے کمیٹی کا نظم مجھ سمیت ، اہل محلہ اور معززین کو سپرد ہوا ہے۔ہم دریافت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ مسجد کی آمدنی تو ہے، مگر اسے کس ضرورت میں استعمال میں لایا جائے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ (عبدالقدیر)

جواب:۔مسجد کی آمدنی مسجد کی ضروریات میں خرچ کی جائے گی اور مسجد کی ضروریات کی درجہ بندی شریعت نے اس طرح کی ہے کہ

۱۔مسجد کے سلسلے میں سب سے پہلے اس کی ضروری تعمیر کو مقدم رکھا جائے گا، اگرچہ تمام آمدنی اس میں صر ف ہوجائے، اگر چہ واقف کی شرط اس کے برخلاف ہو،اگر چہ دیگر ضروریات پر خرچ کے لیے کچھ نہ بچے۔

۲۔ضروری تعمیر کے بعدآمدنی مسجد کی ان ضروریات پر خرچ کی جائے گی، جن کی عدم تکمیل کی صورت میں مسجد کے ویران اورمعطل ہونے کا اندیشہ ہو، جیسے:۔

الف۔امام ،خطیب اورمؤذّن کی تنخواہ۔ب۔مسجد کے خدّام جو صفائی کرتے ہیں، دریاں بچھاتے ہیں ،روشنی کا انتظام کرتے ہیں، چوکیدار وغیرہ۔ج۔بجلی، پانی کےاخراجات۔د۔مسجد کی غیر ضروری تعمیر جیسے رنگ وروغن ،پالش وغیرہ۔

۳۔الف :اگر مسجد کی آمدنی سے شق میں ۲ بیان کردہ تمام ضروریات پوری نہ ہوسکیں تو’’ اَلْاَہَم فَالْاَہَم ‘‘کے قاعدے سے پہلے امام ومؤذّن پر، پھر بجلی پانی کے اخراجات پر اور آخر میں غیر ضروری تعمیر مثلاً رنگ وروغن پر صرف کیا جائےگا، غرض پہلی ضرورت پہلے پوری کی جائےگی۔

اقراء سے مزید