آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستانی طالبہ کی فوٹوگرافی کو عالمی پذیرائی

 فوٹوگرافی کی شوقین پاکستانی طالبہ سماحہ جہانگیر کی تصویر معروف امریکے جریدے نیشنل جیوگرافک میگزین میں شائع ہوگئی۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی سماحہ جہانگیر ویسے تو پیشے سے اوپٹومیٹرسٹ ہیں لیکن اِس کے علاوہ اُن کو فوٹوگرافی، مصوری اور خاکہ نگاری کا شوق بھی ہے اور اُن کے اِسی شوق کی وجہ سےاُن کو عالمی سطح پر پذیرائی مِلی ہے۔

سماحہ جہانگیر ہر اُس لمحے کو کیمرے میں قید کرلیتی ہیں جو اُن کی آنکھ کو پسند آجاتا ہے، ایسا ہی اُنہوں نے  دُبئی میں کیا جب وہ گزشتہ دِنوں وہاں کی سیر کرنے گئیں۔

  اُنہوں نےوہاں ایک تصویر لی اور اسے نیشنل جیوگرافک کے پیج پر پوسٹ کردیا ۔ کچھ دِن بعد اُن کے پاس نیشنل جیوگرافک میگزین کی جانب سے میل موصول ہوئی، جس میں لکھا تھا کہ ہم آپ کی اِس تصویر کو اپنے میگزین میں شائع کرنا چاہتے ہیں۔

فوٹوگرافر سماحہ جہانگیر نے اپنی یہ کامیابی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر بھی شیئر کی، انہوں نے نیشنل جیوگرافک میگزین میں اُن کی شائع کردہ تصویر کا اسکرین شاٹ لے کر اپ لوڈ کیا اور لکھا کہ ’میں بہت زیادہ خوش ہوں کہ میری لی گئی تصویر کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے، مجھے اپنی اِس کامیابی پر اب بھی یقین نہیں آرہا  اور میں پاکستان کی پہلی خاتون فوٹوگرافر ہوں جس کی تصویر نیشنل جیوگرافک میگزین میں شائع ہوئی ہے۔‘


سماحہ جہانگیر کے مطابق اُن کو بچپن سے ہی آرٹسٹ بننےکا شوق تھا ، گھروالوں کی خواہش کی خاطر میڈیکل میں داخلہ لیا، جس کے بعد اُن کو لگا تھا کہ شاید اُن کا یہ خواب ادُھورا نہ رہ جائے لیکن اُنہوں نے ہمت کی اور اپنی فو ٹوگرافی کو جاری رکھا اور آج وہ ایک قابل فو ٹوگرافر بن گئی ہیں۔

فوٹوگرافر سماحہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ ’میں نے اپنی فو ٹوگرافی کی ابتدا اسمارٹ فون سے کی اور میں نےاس شوق کے لیے کسی انسٹیوٹ کا انتخاب نہیں کیا بلکہ خود سے ہی سب کچھ سیکھا، وقت کے ساتھ مجھے فریمنگ وغیرہ کے بارے میں معلوم ہوا اور پھر میں نے اپنا ایک کیمرہ خریدا اور اُس سے فوٹوگرافی کرنا شروع کی، میں اپنی غلطیوں سے آہستہ آہستہ سیکھ کر ایک بہترین فو ٹوگرافر بن گئی ہوں۔‘

اُنہوں نےکہا کہ ’میں جب کسی مرد فوٹوگرافر سے اِس مقصد کے حصول کے لیے مدد طلب کرتی ہوں تو مجھے طنزیہ انداز میں کہا جاتا ہے کہ ’تُم تو لڑکی ہو، تُم کیسے فو ٹوگرافی کر سکتی ہوں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’لڑکیوں کے لیے اسٹریٹ فوٹوگرافی کرنا تھوڑا مشکل کام ہے لیکن جب ہم میں جذبہ ہو تو ہم ہر نامُمکن کام کو مُمکن بنا سکتے ہیں۔‘

قومی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید