آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آج کی جدید دنیامیں مردم اور خانہ شماری کو ملکی تعمیر و ترقی میں بنیادی اور اہم ترین ضرورت قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ پیمانہ ہے جس سے ملک کی بڑھتی، گھٹتی آبادی کا تعین کیا جاتا ہے اور اسے بنیاد بنا کر ملک کی معاشی و اقتصادی پالیسی کے اہداف مقرر کئے جاتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی آبادی میں کس قدر اضافہ ہوا ہے اور اب ملک کو زرعی اجناس، روزگار اور صنعتی ترقی کی کتنی ضرورت ہے۔ کتنے پل اور سڑکیں مزید درکار ہونگی اس کے مطابق تعمیر و ترقی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر دس سال بعد مردم شماری اور خانہ شماری کی جانی چاہئے۔ خانہ شماری سے رہائشی ضرورتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بعض ہنگامی وجوہات کی وجہ سے ملک میں مردم شماری بروقت نہیں کرائی جاسکی اس کی ایک وجہ فوج کی مصروفیات بھی بتائی گئی ہیں ہماری فوج دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مصروف تھی پھر سیلاب اور طوفانی بارشیں بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئیں۔ موجودہ حکومت اس اہم اور بنیادی کام کی جلد از جلد تکمیل کیلئے اقدامات کررہی ہے اور اس حوالے سے صوبوں کو بھی آن بورڈ کیا گیا ہے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں مردم شماری کرانے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی غرض سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے ۔وزیر مملکت شیخ آفتاب کا کہنا تھا کہ 2018ء سے

قبل مردم شماری ہو جائے گی۔ ڈاکٹر نفسیہ شاہ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گزشتہ 17 سال سے مردم شماری نہیں ہوئی جس کی وجہ سے درست معاشی تخمینہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کی قرارداد بروقت بھی ہے اور درست بھی کہ ملک کا نظام حکومت موثر طور پر چلانے کیلئے حکومت کے سامنے ضروری کوائف ہونے چاہئیں تاکہ وہ ملک کے روشن مستقبل کیلئے ایسی منصوبہ بندی کرسکے جس سے تعمیر و ترقی کا پہیہ تیزی سے آگے بڑھے۔ حکومت کو صوبائی حکومتوں سے مشاورت کر کے اس حوالے سے ضروری اور فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں