آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وزیراعظم نواز شریف کی صدارت میں جمعہ کے روز ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں مردم شماری کوایک مرتبہ پھر متفقہ طور پر غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے اور اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ فوجی آپریشنز کے باعث 3 لاکھ جوانوں کا دستیاب ہونا ممکن نہیں تاہم اس امر کی یقین دہانی بھی ضرور کروائی گئی ہے کہ مردم شماری ہر صورت میں سال رواں ہی میں کرائی جائیگی اوراس کے آئندہ شیڈول کا اعلان صوبوں اور فوج کی مشاورت سے کیا جائیگا۔ اس حقیقت سے کسی بھی باشعور انسان کو کوئی انکارنہیں ہوسکتا کہ جب تک آبادی کے صحیح اعداد و شمار فراہم نہ ہوں اس وقت تک عوام کی تعلیم و صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر سہولیات کے بارے میں کوئی موثر لائحہ عمل وضع کیا جاسکتا ہے نہ ان کی غذائی ضروریات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے متعلق ہی کوئی فول پروف منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ملک میں مردم شماری کا کام گزشتہ قریباً دو عشروں سے تاخیر در تاخیر کا شکار ہوتا چلا آرہا ہے۔ بلوچستان کے ارباب اختیار صوبے میں بڑے پیمانے پر غیر مقامی لوگوں اور افغان مہاجرین کے آ بسنے کے باعث وہاں مردم شماری کرانے کے حق میں نہیں جبکہ سندھ اور کے پی کے کی حکومتوں کا خیال ہے کہ مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں قومی وسائل میں سے آبادی کے تناسب سے

حصہ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے ان کی حق تلفی ہورہی ہے۔شمالی وزیر ستان اور ملحقہ علاقوں میں جاری آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے مردم شماری کے لئے تین لاکھ فوجیوں کی فراہمی یقیناً مشکل ہے لیکن اگر ملک میں بلدیاتی ادارے پوری طرح مستحکم اور مضبوط ہوں تو یہ کام سول انتظامیہ کے زیر اہتمام کیا جاسکتا ہے اور اگر حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو شہری نظم و نسق کے ذمہ دار اداروں کو ہی یہ کام سنبھالنا چاہئے۔ ہر کام کی ذمہ داری فوج پر ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے اور اس کو وہی فریضہ ادا کرنا چاہئے جس کے لئے اسے تشکیل دیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں