آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’والد کے خلاف مقدمات فقط انتقام ہے‘

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو کا کہنا ہے کہ میرا سیاست میں آنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں ہے

عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں، صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات فقط انتقام ہے۔ نیازی حکومت کا کرپشن کے خلاف اقدامات واقعتاً منافقت اور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

بختاور بھٹو نے کہا کہ میری والدہ کا سیاسی کردار ختم کرنے کے لیے میرے والد پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں۔ مذموم سازش کے تحت 90 کی دہائی سے میرے والد کے خلاف لغو الزامات لگانا شروع کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے: بختاور بھٹو نے شیخ رشید کے بیان کو قتل کی دھمکی قرار دیدیا

اُن کا کہنا تھا کہ میرے والد نے بطور سیاسی رہنما جب کبھی جرت مندانہ قدم اُٹھایا، جھوٹے الزامات اُن کی ذات پر تھونپ دیئے جاتے ہیں، ہمارے والد کو پہلے بھی جھوٹے الزامات کے تحت 11 سال جیل میں قید رکھا گیا۔ بعدازاں عدالتوں نے انہیں مذکورہ تمام الزامات سے باعزت بری کیا۔

2010 میں میرے والد کی زیرِ قیادت حکومت نے آئینی اصلاحات متعارف کرائیں۔ مذکورہ اصلاحات کے تحت صدر کو حاصل وہ اختیارات ختم کردیئے گئے، جو ماضی میں فوجی آمروں نے بنائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمارے والد جیل میں تھے، تب ہم اپنی والدہ کی شفقت کے زیرِ سایہ چھوٹے بچے تھے۔

دوران انٹرویو بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بھیانک حقیقت ہم سے چھپائی جارہی ہے کہ ہمارے والد پر جیل میں کیا کیا ظلم ہو رہے ہیں۔ اب ان کی دوری ہمارے لیے حبسِ دم جیسی ہے۔

میرے والد عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، ہائی بلڈ ، شگر سمیت دیگر امراض بھی انہیں لاحق ہیں جبکہ حکومت میرے والد کی درست انداز میں میڈیکل ٹیسٹ کروانے کی اجازت دینے سے بھی گریزاں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ والد کو وہ طبی سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں، جو بطور شہری اور سابق صدر ان کا حق ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آصف علی زرداری کو گرفتار کرلیا گیا

بختاور بھٹو زرداری نےاپنے انٹرویو میں بتایا کہ حد ہے، انہیں جیل کی کھولی میں ایک چھوٹا سا فرج رکھنے بھی نہیں دیا جا رہا کہ جس میں وہ انسولین رکھ سکیں۔

اس کے علاو ہ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری پارلیمان کی بالادستی، انسانی حقوق، مساوات اور جمہوریت کے متعلق اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، وہ پُرعزم، دوراندیش اور بااُصول نوجوان سیاسی رہنماہیں۔

بلاول بھٹو آئندہ نسلوں کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہیں اور وہ پاکستان میں سیاست کےلیے پرفیکٹ فِٹ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ’اگلی باری پھر زرداری‘: بختاور بھٹو

انہوں نے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں ہے، بطور چیئرپرسن زیبسٹ کام کرنا باعثِ خوشی ہے۔ میں ٹوئٹر پر بہت سرگرم ہوں، لیکن حکومتی معاملات سے بالکل دور ہوں۔

انٹرویو کے اختتام میں بختاور بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نےاپنے نانا، ماموں اور والدہ کو کھو دیا، سیاست میں ایک خاندان کا بہت خون بہایا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید