آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

باہر کے کھانے سے بانجھ پن اور کینسر کا خطرہ زیادہ

ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ مسلسل باہر کا کھانا کھانے سے بڑی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگر انہیں ترک کردیا جائے تو صحت مند زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر انسان گھر کا بنا کھانا کھائے یا پھر خود اپنی غذا تیار کرکے کھائے تو اس میں بانجھ پن کے ساتھ ساتھ کینسر جیسی جان لیوا بیماری کے پیدا ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔

یہ نیا مطالعہ کینسر سے بچاؤ کے لیے تحقیق کرنے والے امریکی ادارے سائلینٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں سامنے آیا۔

اس ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے باہر کا کھانے کھانے اور گھر پر بنا کھانے والے تقریباً ایک ہزار افراد میں علیحدہ علیحدہ تحقیق کی۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ باہر کا کھانا کھانے والوں میں ہمیشہ قائم رہنے والے زہریلے کیمیکل شامل ہوجاتے ہیں جبکہ گھر کا بنا کھانا کھانے والوں میں یہ مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

اس ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیمیکل کو پی ایف اے ایس کہا جاتا ہے جو ہمارے ماحول میں موجود ہوتے ہیں جو کچھ مصنوعات کی پیکنگ میں شامل ہوجاتے ہیں جن میں فاسٹ فوڈ کے ریپرز اور مائیکرو وویو پاپ کورن کی پیکنگ وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم گھر پر کھانا بناتے وقت گھر سے باہر موجود اس آلودگی کا خطرہ کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ ہمارے ماحول میں موجود ان زہریلے کیمیکلز سے حفاظت کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں ہے بالخصوص پی ایف اے ایس جیسے کیمیکلز کے جو ختم نہیں ہوتے۔

پی ایف اے ایس کا مطلب پولی فلورو الکائل سبسٹینسز ہیں جو 1930 میں سائنسدانوں کے سامنے آئے تھے۔

یہ کیمیکلز جو جسم میں یا اس ماحول میں پیدا ہونے کے بعد کبھی ختم نہیں ہوتے بانجھ پن کے خطرے کو بڑھاتے ہیں، کولیسٹرول میں اضافہ، ہارمونل اور قوت مدافعت کے نظام کو متاثر کرتے ہیں جبکہ کینسر کا بھی خطرہ بڑھاتے ہیں۔

سائلینٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کے مطابق جو لوگ گھر کا بنا کھانا کھاتے ہیں ان میں پی ایف اے ایس کے پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں جبکہ ایسے لوگ جو ریسٹورنٹ میں کھانے کے شوقین ہیں ان میں ان کیمیکلز کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

اس حوالے سے تحقیق دانوں کا ماننا ہے کہ آپ کے کھانے پر جتنے ریپرز لپٹے ہوئے ہوں گے اس پر ان کیمیکلز کے لگنے کا خطرے اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

انہوں نے پاپ کارن کھانے کے شوقین کو خبردار کیا کہ اس کی پیکنگ میں سب سے زیادہ پی ایف اے ایس کیمیکل ہوسکتا ہے، تاہم اگر انہیں گھر میں بنایا جائے تو یہ محفوظ ہوسکتے ہیں۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید