آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دورہٴ جمیکا کے بعد میری دوسری منزل امریکہ تھی۔ امریکہ کا شمار پاکستان کے بڑے تجارتی پارٹنرز میں ہوتا ہے۔ 2011-12ء میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مجموعی تجارت 5.8/ارب ڈالر تھی جو ہماری مجموعی ایکسپورٹ کا تقریباً 20% ہے جس میں سے 3.8/ارب ڈالر پاکستان سے امریکہ کو ایکسپورٹ اور امریکہ سے پاکستان کو ایکسپورٹ 2/ارب ڈالر تھی۔ پاکستان سے ایکسپورٹ کی جانے والی اشیاء میں ٹیکسٹائل مصنوعات، لیدر اور چاول جبکہ امریکہ سے ایکسپورٹ کی جانے والی اشیاء میں خام کاٹن، مشینری، ہوائی جہازوں کے پرزے وغیرہ شامل ہیں۔ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے امریکہ سے تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکہ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔ ہیوسٹن میں زیادہ تر پاکستانی بزنس کرتے ہیں جس میں ان کا گیس اسٹیشنز کا کاروبار قابل ذکر ہے۔
دورہٴ ہیوسٹن کے دوران میری پہلی میٹنگ ہیوسٹن کے میئر کی انٹرنیشنل ٹریڈ کی کونسل کے صدر سے سٹی ہال میں ہوئی جس میں ہیوسٹن میں مقیم تمام کمیونٹی کے بزنس لیڈرز شریک تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کی27 ویں بڑی معیشت ہے جس کی جی ڈی پی 488 بلین ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستان جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے دنیا میں نہایت اہمیت رکھتا ہے اور جلد ہی پاکستان اور امریکہ باہمی تجارتی معاہدے(BIT)

پر دستخط کرنے والے ہیں جس سے دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کو تحفظ حاصل ہوجائے گا۔ اس موقع پر میں نے پاکستان میں انرجی اور ٹیکسٹائل سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے موقعوں پر روشنی ڈالی۔ رات کو ہیوسٹن میں متعین پاکستانی قونصل جنرل عاقل ندیم نے پاکستانی قونصلیٹ ہیوسٹن میں پاکستانی کمیونٹی اور میڈیا کے ساتھ ایک عشایئے کا اہتمام کیا تھا۔ عشایئے میں PAGH کے صدر تسلیم صدیقی، پاکستان چیمبر آف کامرس امریکہ کے صدر قاضی خالد، ہیوسٹن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر خالد خان اور ڈاکٹر اعظم علی بیگ نے اہل خانہ کے ساتھ شرکت کی۔ ہیوسٹن میں مقیم پاکستانی، پاکستان بالخصوص کراچی میں امن و امان کی ناقص صورتحال،آئندہ الیکشن اور ملک میں جمہوریت کے تسلسل کیلئے خاصے فکرمند نظر آئے۔ میں نے اپنی تقریر میں انہیں حقیقت سے آگاہ کیا کہ یہ صحیح ہے کہ ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ہماری معیشت اور امن و امان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ملک میں 2 سال لگاتار شدید بارشوں اور سیلاب سے بھی ہمیں 10 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان نے معیشت کے کچھ شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اس سال14بلین ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر بھیجی ہیں، ملک میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے باوجود گزشتہ سال ہماری ایکسپورٹ24 بلین ڈالر سے زیادہ تھیں، افراط زر میں کمی کرکے اسے سنگل ڈیجٹ 8% تک لایا گیا ہے، کراچی اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ سال بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا 100 انڈیکس 17,288 سے تجاوز کرگیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا بجٹ خسارہ 7% تک جاپہنچا ہے۔ حکومت کے اسٹیٹ بینک کے ذریعے کمرشل بینکوں سے لئے گئے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے ، امن و امان کی ناقص صورتحال کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور آج ڈالر 100 روپے کی حد سے تجاوز کرچکا ہے۔ میں نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتیں ملک میں شفاف اور منصفانہ الیکشن کیلئے پُرعزم ہیں اور ہر حالت میں ملک میں جمہوریت کی بحالی چاہتی ہیں۔ اس موقع پر شرکاء نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے حق اور دہری شہریت کے حوالے سے بھی مجھ سے سوالات کئے۔ میں نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں ہر چیز خراب نہیں اور نہ ہی ہر چیز اچھی ہے، ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم کن حالات سے گزر رہے ہیں۔
دورہٴ ہیوسٹن کے دوسرے دن پاکستان چیمبر آف کامرس امریکہ جس کی شاخیں امریکہ بھر میں موجود ہیں نے ہیوسٹن کے معروف انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر میں میرے اعزاز میں ایک عشایئے کا اہتمام کیا۔ شدید بارش کے باوجود ہیوسٹن میں متعین پاکستان کے قونصل جنرل عاقل ندیم اور کمرشل قونصلر سید فواد علی شاہ، پاکستان چیمبر کے عہدیداروں اور ممتاز بزنس مینوں نسیم رحیم، پی جے سواتی، پرویز اقبال، اٹارنی فرح، مطلوب خان، ذکی مرزا کے علاوہ امریکی و پاکستانی بزنس مینوں، بینکرز، لائرز اور ملکی و غیر ملکی میڈیا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پاکستان چیمبر کے صدر خالد قاضی اور بانی صدر اشرف عباسی نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت، مارکیٹ رسائی، باہمی تجارتی معاہدے(BIT)، آئل اینڈ گیس، پاک ایران گیس پائپ لائن، پاکستان ٹیکسٹائل سٹی اور پاکستانی معیشت کی کارکردگی اور 2014ء کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر مجھ سے اظہار خیال کرنے کو کہا۔ میں نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ انرجی کا بحران ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں8% سالانہ انرجی کی کھپت میں اضافے کے باوجود حکومت نے انرجی پیداوار میں اضافے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جس کی وجہ سے آج ہمیں 4 سے5 ہزار میگاواٹ بجلی اور 2 بلینMMCF گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ حکومت نے قطر سے LNG گیس امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے SSGC پر LNG ٹرمینل کی تعمیر کیلئے ٹینڈرز طلب کئے جارہے ہیں۔ اس موقع پر عشایئے میں موجود بزنس مینوں نے LNG ٹرمینل میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔ ایران گیس پائپ لائن کے بارے میں، میں نے بتایا کہ قومی مفاد میں حکومت اس پروجیکٹ کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی ڈونرز ایجنسیاں اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے سے گریز کررہی ہیں۔ ایران میں گیس پائپ لائن کا کام مکمل ہوچکا ہے، پاکستان کے حصے کی پائپ لائن کی تکمیل کیلئے ایران نے500 ملین ڈالر کے نرم شرائط پر قرضے کی پیشکش کی ہے اور اس معاہدے پر جلد ہی دستخط ہونے والے ہیں۔ اس موقع پر میں نے پاکستان ٹیکسٹائل سٹی پروجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ جنوری 2014ء سے یورپی یونین پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دے رہا ہے جس کے باعث ہم یورپی مارکیٹ میں بغیر کسٹم ڈیوٹی اپنی اشیاء ایکسپورٹ کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ چائنا میں اجرتوں اور بزنس کی لاگت میں 20% سالانہ اضافے کی وجہ سے چائنا آہستہ آہستہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی ایکسپورٹ میں غیر مقابلاتی ہوتا جارہا ہے جس کا فائدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعتوں کو ہوگا لیکن اس کیلئے ہمیں اپنی صنعتوں کی پیداواری گنجائش کو بڑھانا ہوگا جس کیلئے پاکستان ٹیکسٹائل سٹی ایک آئیڈیل پروجیکٹ ہے۔ میں نے شرکاء کو پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کی ایکسپورٹ میں عالمی رینکنگ کے بارے میں بتایا۔دورے کے دوران ہیوسٹن میں مقیم مختلف پاکستانی بزنس مینوں اور پروفیشنلز سے ملاقات کے بعد میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے مقابلے میں، میں نے وطن سے دور پاکستانیوں کے دلوں میں ملک سے محبت اور لگن کا زیادہ جذبہ دیکھا جس کی میں تہہ دل سے قدر کرتا ہوں۔ امریکہ میں مقیم دوسرے پاکستانیوں کی طرح میری بہن اور بہنوئی ڈاکٹر اعظم علی بیگ ہیوسٹن میں مقیم ہیں اور وہ نہایت پابندی سے پاکستانی ٹی وی چینلز پر خبریں اور مختلف ڈسکشن پروگرامز دیکھتے ہیں۔ ہیوسٹن میں زیر تعلیم میری بھانجی جاسیہ جو کافی عرصے سے پاکستان نہیں آئی ہے مجھ سے کراچی کے حالات کے بارے میں بے شمار سوالات کرتی رہی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا نہایت منفی تاثر پیش کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پاکستان کے بارے میں مثبت باتوں کا بھی ذکر کریں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں پاکستان کا بہتر تاثر پیدا ہوسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں