آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان میں اِدھر الیکشن ہوتے ہیں اُدھر سال کے اندر اندر دہائی دی جانے لگتی ہے کہ ’’جمہوریت بچائو، جمہوریت پکائو اور جمہوریت بیچو‘‘۔ جب ان کے اور باقی سب کے خزانے کھول کر دیکھے جاتے ہیں تو اشرفیاں، ہیرے جواہرات اتنے ہوتے ہیں کہ قارون کے خزانے کا محاورہ بھی بے معنی لگتا ہے۔ سوائے قائداعظم، لیاقت علی خان، بھٹو صاحب اور جونیجو صاحب کے سب جگہ کراچی والا کچرا، تھیلوں، تجوریوں، چھتوں اور بستروں کے علاوہ سلامت رہیں، غیر ممالک کے بینک، جائیدادیں اور جزیرے جو خریدے جاتے ہیں اللہ کا عذاب تو خیر ان کے نصیب ہی میں پہلے دن سے ہوتا ہے مگر ہماری بے وقوف قوم، ان کے ہرکاروں کے ذریعے کبھی رقم، کبھی پٹرول پمپ، کبھی محلات اور ٹھیکے لے کر غریب پھر ان کے بھر ے میں آجاتے ہیں، کچھ سربراہ پہلے دن سے ہی اپنے طور طریقوں سے، بالکل اسی طرح جیسے پوت کے پائوں، پالنے ہی میں نظر آ جاتے ہیں۔ اب تھڑا سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ قومی اور بین الاقوامی امور چلانے کے لئے کرائے کے کارندے تخت پوش پر بٹھائے جاتے ہیں۔ حرف بیچنے والوں کی بولی لگتی ہے۔ ہم جیسے لوگ اپنی خواہشوں کے خوابوں کو خود ہی مسل دیتے ہیں کہ جانتے ہیں کہ شاہوں کے در دولت کے عوض بڑی رسوائی ملتی ہے۔ کہیں کہیں غوث بخش بزنجو، کہیں ایدھی، کہیں ڈاکٹر مبشر حسن بار بار کہتے ہیں کہ ہم نہ کہتے تھے! بیگم بھٹو کے آصف زرداری کو ایئر پورٹ پر کہے ہوئے فقرے یاد بھی آئیں تو کیا حاصل کہ اب تو غور کرنا چاہئے کہ ہمیں بار بار یہ کیوں کہنا پڑ رہا ہے کہ ’’دنیا ہماری بات نہیں سمجھ رہی‘‘۔ رہا ٹرمپ تو اسے سال دو سال پہلے تک افغانستان کا محل وقوع معلوم نہیں تھا۔ اب آپ لوگوں نے کشمیر کا سوال اٹھا دیا، اس کی بلا جانے کشمیر کا مسئلہ۔ سیاست کو تو ماریں گولی، مجھے یہ بتائیں کہ لالچ، ہوس اور دولت جمع کرنے کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔ یہاں میں کسی کا نام اسلئے نہیں لوں گی کہ ہم فقیروں کے علاوہ اس ملک میں صرف شرفا رہتے ہیں، نسل در نسل خزانے چلاتے چلاتے، اپنی نسلوں کو بھی انہی راستوں پر ڈال کر پوچھتے ہیں وہ کہ ’غالب کون‘ ہے جب ہی تو تجزیہ بتاتا ہے کہ ایران میں 400یونیورسٹیاں اعلیٰ درجے کی ہیں جبکہ پاکستان میں صرف ایک یونیورسٹی ہے۔ ضرورت بھی کیا ہے۔ علم حاصل کرنے والے پاکستان میں تو بل گیٹس نہیں بن سکتے کہ کمایا ہوا پیسہ، ضرورت سے زیادہ ہو تو عالمی سطح پر وظائف جاری کئے جائیں۔ سید بابر علی کی ایک یونیورسٹی پہلے تھی۔ اب تو ہماری دوستوں نے، ریٹائرمنٹ کے بعد، اپنی اپنی یونیورسٹی بنا لی ہے۔ لبرل آرٹس، نئے موضوعات اور جدید تحریکات میں ان لوگوں کو تربیت دے رہی ہیں جو عالمی سطح پر بڑی مارکیٹ رکھتی ہیں۔

ہمارے ملک میں گزشتہ ڈیڑھ برس میں کئی دعوے اور وعدے کئے گئے۔ پھر بدلے گئے۔ ابھی یہ سیل رواں جاری ہے۔ پہلے جوشخص بھی 62برس کا ہوا، کہا گھر جائو۔ پھر کیا دیکھا کہ 75برس تو کیا 80برس کے لوگ مشیر بنائے جانےلگے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ملیحہ لودھی جس نے واقعی تقریباً ساری حکومتوں کا ذائقہ چکھا اور تجربہ حاصل کیا۔ اس کی جگہ میری عمر کے ریٹائرڈ صاحب کو اقوام متحد ہ میں نمائندہ مقر رکر دیا گیا ہے۔ خیر یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں، اب دیکھیں نا، سوئیڈن کی سولہ سالہ لڑکی موسمیاتی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے کیلئے عالمی سطح پر سارے ملکوں کو بتا رہی ہے کہ ’’زمانہ قیامت کی چال چل گیا‘‘ قوموں کے نمائندے بجائے اس کا ساتھ دینے کے، کہہ رہے ہیں، یہ ذرا سی بچی ہے، اسے کیا خبر سائنس اور قدرت کے معجزات کی۔ اصل میں ساری دنیا میں ایک چوتھائی امبانی قسم کے رئیس لوگ ہیں۔ وہ47 منزلہ مکان بنا کر دولت ظاہر کر دیتے ہیں اور ہمارے ملک کے لوگ آف شور کمپنیاں بنا کر غیر ممالک میں دولت کے انبار لگا لیتے ہیں جبکہ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ بے تحاشا سرمایہ، قوموں کے ذہن پر قبضہ کر کے مائوف اور مجہول کر دیتا ہے۔

اگلے دن ہمارے وزیر تعلیم نے ایک تقریر میں کہا کہ ہم یکساں نصاب تعلیم لا رہے ہیں، یہ کہتے کہتے انہوں نے ڈیڑھ سال گزار دیا۔ اس عرصے میں ان کے ماتحت جو ادارے بغیر سربراہ کے ضائع ہو رہے ہیں ادھر توجہ ہی نہیں۔ شاید اسلئے افواہ ہے کہ ان کی تقریر بدلنے کیلئے، کسی اور محکمے میں ان کو بھیجا جا رہا ہے۔ حالانکہ اگر وہ نصاب بدلنے اور تعلیم عام کرنے میں سنجیدہ ہوتے تو ایک چکر کیوبا کا لگا لیتے تو قوم اور ان کی تعلیم بھی ہو جاتی اور صحت بھی اچھی ہو جاتی۔ اس ڈیڑھ سال بعد، یار لوگ پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کی بات کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ یکساں نصاب تعلیم کیا یکساں نفسیات پیدا کر سکتا ہے۔ بات شروع کی تھی سرمائے کی، عقل کا سرمایہ کم اور زر کا سرمایہ، نیب کے ذریعے افشا ہو رہا ہے۔ کسی چہرے پر شرمندگی نہیں مگر بات نا پرسی کے زمانے سے شروع کر کے، اب آجاتی ہوں 222یا 313افسروں پر، فرانس سے لے کر آسٹریلیا تک میں جزیرے خرید کر رہنے والوں کے نام اس لئے نہیں بتاتی کہ عدالتِ عظمیٰ نے بھی ان کے بارے میں کچھ بھی نہ لکھنے کا حکم دیا ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید