آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍شعبان المعظم 1440ھ 25؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اچھے معاشروں میں تعمیر و ترقی کا عمل غالب جبکہ بے سمت اور بے ترتیب معاشروں میں شکست و ریخت اور قتل و غارت کے تکلیف دہ مناظر زیادہ دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔ پاکستان جو کبھی ایک پُرامن اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ملک تھا ، اُسے آج دہشت گردی  فرقہ پرستی اور بدامنی کے عفریت نے بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ صرف کوئٹہ شہر کی گنجان بستیوں میں دہشت گردوں نے جنوری اور فروری کے مہینوں میں ہزارہ قبیلے کے دو سو کے لگ بھگ باشندے شہید اور چار پانچ سو زخمی کر ڈالے ہیں۔ چشمِ فلک نے دوبار ہزاروں عورتوں  بچوں  جوانوں اور بزرگوں کی سسکیوں  آہوں اور آنسووٴں کا سیلِ بلاخیز اُمڈتے دیکھا ہے۔ کراچی چند برسوں سے شدید بدامنی کا شکار ہے۔ پندرہ بیس شہریوں کا قتل اور اغوا برائے تاوان ایک معمول بن چکا ہے اور ایک بھی قاتل قانون کی گرفت میں نہیں آیا ہے۔ پچھلے دو سال سے فاٹا سے ملحقہ علاقے بھی دہشت گردی کی زد میں ہیں اور مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد (مرحوم) خودکش حملوں میں بال بال بچے تھے۔ گزشتہ ہفتے پشاور میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے اندر لیویز کی وردی میں دہشت گرد داخل ہوئے اور چار پانچ اہلکار شہید کر ڈالے۔بعد میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خالد کندی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انہی دنوں لاہور میں

ایک بہت بڑے آئی سرجن ڈاکٹر علی حیدر اپنے گیارہ سالہ بیٹے کے ہمراہ شہید کر دیے گئے جنہوں نے ہزاروں افراد کو بینائی عطا کی تھی اور جو اپنے عقائد میں بڑے معتدل تھے۔
ہماری قومی قیادت کو سرجوڑ کر اِس انتہائی خوفناک صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے عملی قدم اُٹھانے چاہئیں۔ یہ امر جواب طلب ہے کہ 10جنوری کے بعد ہزارہ قبیلے پر 16فروری کو دوسری بار قیامتِ صغریٰ ٹوٹی اور سول انتظامیہ اور قومی سلامتی کے ادارے شیعہ کمیونٹی کو تحفظ دینے اور دہشت گردی کے لرزہ خیز سانحے کی روک تھام میں کیوں ناکام رہے جبکہ بروقت ماسٹر مائنڈ کی نشان دہی کر دی گئی تھی۔ کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی فیصلہ ساز شخصیتیں بیرونی دوروں کے علاوہ اقتدار کے پُرپیچ کھیل میں ہمہ تن مصروف ہیں  ورنہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے فوراً بعد 10جنوری کے خونیں واقعے کے ذمے داروں کے خلاف ایک موٴثر ٹارگٹڈ آپریشن کیا جانا چاہیے تھا اور لشکرِ جھنگوی کے فدائین جو کھلے بندوں اہلِ تشیع کے بارے میں اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کرتے ہیں  اُنہیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکتا تھا۔ گورنر راج کے بعد صدر ، وزیر اعظم اور گورنر بلوچستان کی طرف سے ہزارہ قبیلے کو تحفظ فراہم کرنے اورامن دشمنوں پر مضبوط ہاتھ ڈالنے کے لیے قابلِ اعتماد انتظامات نہیں کیے گئے جس کے باعث دہشت گردی کا ایک اور ہولناک واقعہ رونما ہوا جس نے پورا ملک کو ہلا کے رکھ دیا تھا اور خفیہ ایجنسیوں اور قومی سلامتی کے اداروں کی نااہلی کا بھی تاثر قائم ہوا ہے۔ وہ ٹارگٹڈ آپریشن جو صدرِ مملکت  وزیر اعظم اور آرمی چیف کی حالیہ ملاقات کے بعد شروع کیا گیا ہے  وہ چودہ جنوری کو بھی کیا جا سکتا تھا۔
میرے خیال میں اب ہمیں اس حشر بداماں سانحے پر ماتم کناں رہنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا اور سبق سیکھنا چاہیے۔ پہلا سبق یہ کہ فیصلوں میں تاخیر اور اُن پر عمل درآمد میں غفلت برتنے پر قابلِ علاج دکھ بھی سرطان بن جاتے ہیں۔ دوسرا سبق یہ کہ دھرنوں میں بچوں  عورتوں اور نوجوانوں کو بہت بڑی تعداد میں لانے سے صورتِ حال میں بڑی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں  جیسا کہ نوے گھنٹوں بعد میتوں کے دفنانے کے وقت دیکھنے میں آئی ہیں۔ایک اور سبق یہ حاصل ہوا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کو اوّلین اہمیت دینا ہو گی۔ ایم کیو ایم کے جناب وسیم احمد نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب میں لشکرِ جھنگوی کی پشت پناہی کی جا رہی ہے حالانکہ وزیر اعلیٰ پنجاب دہشت گردی کے خلاف جہاد پر نکلے ہوئے ہیں اور عوام کو اِس خطرے کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے حرکت میں لا رہے ہیں۔ میری دانست میں پاکستان داخلی اور خارجی خطرات میں گھرا ہوا ہے جن سے نمٹنے کے لیے امن کی تمام طاقتوں کو منظم اور متحد ہونے کے ساتھ ساتھ گہرے تدبر اور زبردست مستقل مزاجی سے کام لینا ہو گا ۔ خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بازپُرس ایک حد تک ضروری ہے  مگر اُن کے بارے میں یہ تاثر پھیلانا کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں یقینی طور پر ملکی مفاد کے خلاف سمجھا جائے گا۔ اِس طرح جنگ کی حالت میں اُن کی ہر کارروائی پر انگلیاں اُٹھانا بھی ہرگز قرینِ حکمت نہیں۔
تخریب کے دھندلکوں میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب شہباز شریف نے لاہور میں ریپڈ بس سروس کا جدید نظام تعمیر کر کے اُمید کے چراغ روشن کر دیے ہیں اور نئی نسل کو شاندار مستقبل کی نوید سنائی ہے۔ اِس عظیم الشان کارنامے کی تحسین کے لیے دیدہٴ دل وا کرنا ہو گا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کا وفاق اور تینوں صوبے بدترین قسم کی نااہلی  بدعنوانی اور بدامنی کی زد میں ہیں اورکوئی قابلِ ذکر انفراسٹرکچر تعمیر نہیں کر سکے  پنجاب کے وزیر اعلیٰ جن کے اندر افکارِ تازہ اور قوتِ نافذہ کی بجلیاں کوندتی رہتی ہیں  اُنہوں نے گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں بائیس ارب کے وسائل سے وہ معجزہ تخلیق کیا ہے جو لاہور کے مسافروں کے وژن اور کلچر میں صحت مند تبدیلی اور وسعت پیدا کرے گا  اُنہیں نظم و ضبط کا پابند بنائے گا اور اُن کے اندر اچھے شہری کے اوصاف پیدا کرے گا۔ اِس جدید بس سروس سے لاہور کا بہت بڑا طبقہ مستفید ہو گا اور اُنہیں بڑے بڑے کام کر گزرنے کا ولولہ اور حوصلہ بخشے گا۔
اِس منصوبے میں ہزاروں لوگ روزگار حاصل کر چکے ہیں جو صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اپنے فرائض بڑی ذمے داری سے ادا کر رہے ہیں۔ اِس تعمیراتی عجوبے پر وہ لوگ بھی بہت خوش نظر آتے ہیں جس کی زد میں اُن کی دکانوں کا ایک حصہ آیا ہے۔ کوئی تین لاکھ کے لگ بھگ شہریوں نے افتتاح کے موقع پر تاریخی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا جو اپنی خوش بختی پر بہت نازاں دکھائی دیتے تھے۔ اُمید ہے کہ وہ اپنے اِس قیمتی اثاثے کی خود حفاظت کریں گے اور اپنے وزیر اعلیٰ کی خداداد صلاحیتوں  توانائیوں اور خدمت ِخلق کے بے لوث جذبوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے رہیں گے۔ اُن کی شبانہ روز کاوشوں نے پاکستان کا چہرہ نکھار دیا ہے اور اُمنگوں اور آرزووٴں کی ایک جوت جگائی ہے۔ اِس منصوبے میں ترکی نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ہر مرحلے پر قابلِ قدر تعاون کا ثبوت دیا اور پنجاب حکومت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب موٹر وے کی طرح ہر شہر سے یہی مطالبہ کیا جائے گا کہ ہمیں بھی ریپڈ بس سروس کا نظام جلد سے جلد فراہم کیا جائے۔ میرے خیال میں ہمارے سیاسی قائدین کے لیے تنگ نظری کے تنگ ناکے سے نکل کر اچھے کاموں کی ستائش اور کھلے دل سے اُن کی تعریف کا کلچر اپنانے میں اب دیر نہیں کرنی چاہیے کہ مثبت رویوں ہی سے قوم کے اندر مایوسی کے بجائے سرخوشی کے زمزمے نغمہ ریز ہوں گے اور باہمی احترام کی خوشبو ہر سُو پھیلتی جائے گی۔ تب تخریب کی وحشت کم اور عظمت ِتعمیر کی ست رنگ شفق پھوٹے گی اور اُفق تا اُفق پھیلتی جائے گی۔ بلوچستان کے سیاسی لوگ اکثر یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ اگر ہمیں شہباز شریف کچھ مدت کے لیے ڈیپوٹیشن پر دے دیے جائیں تو وہ ہمارے صوبے کی بھی تقدیرسنوار دیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں