آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

غلام بن کر زندگی نہیں گزاریں گے، مولانافضل الرحمٰن

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہم اس ملک میں غلام بن کر زندگی نہیں گزاریں گے، خدا کے لئے ہمیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہنے دو۔

آزادی مارچ کاررواں سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ دوستی کو قبول کریں گے، دوستی ہم نے امریکہ اور یورپ سے بھی کی ہے لیکن غلامی قبول نہیں کریں گے ہم دنیا میں عزت و وقار سے جینا چاہتے ہیں، ہم دنیا میں اور خطے میں اپنے دوست بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہی بابری مسجد مسلمانوں سے لے لی گئی ہے اور تم نے کرتارپور کا افتتاح کردیا ہے، بھارت نے کیا کیا، بابری مسجد کا فیصلہ دے کر ادلے کا بدلہ لے لیا، جہاں آئین سبوتاژ ہوا ہے تو پھر وہ ملک نہیں رہے۔ تمہاری نظریں ناک سے آگے نہیں جاتیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انشاء اللہ ہم نے ملک کو ٹھیک کرنا ہے، پاکستان کا مستقبل سدھارنا ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے اس کو ہم نے بنایا ہے اور اس کو آباد رکھیں گے، ہم نے ایک آواز بننا ہے، پاکستان کے مستقبل کو مضبوط کرنا ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان عظیم مقاصد کے لئے حاصل کیا گیا، لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں، پاکستان کو مغرب کا گروی بناکر رکھ دیا گیا ہے، پاکستان کو کالونی بنا دیا گیا ہے، نام ہم آزادی کا لیتے ہیں۔

سیرت النبیؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگوٹھا چھاپ اسمبلوں کو تسلیم نہیں کریں گے، انگوٹھا چھاپ اسمبلیاں وجودمیں لاکر سمجھتے ہیں ہرفیصلہ ہم کریں گے، ہم ملک میں ایک باوقار، جائر اور آئینی حکومت لانا چاہتے ہیں تاکہ عوام عزت کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال نومبر میں پہلا ملین مارچ کراچی میں کیا تھا، آج آزادی مارچ سیرت کانفرنس میں تبدیل ہوا ہے، دنیا کو پیغام جارہا ہے کہ پاکستان کے عوام حضورﷺ سے کس قدر محبت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد کے پشاور موڑ پر جاری جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ دھرنے میں گزشتہ روزسیرت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں علماء اور سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے تھے۔

قومی خبریں سے مزید