آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جعلی انتخابی نتائج ناقابل قبول ہوں گے، عبداللہ عبداللہ

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے حالیہ انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی رکوانے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ وہ اتنخابات کے جعلی نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ عبداللہ کے ان خیالات سے 28 ستمبر کو افغانستان میں ہونے والے انتخابات کے نتائج مزید غیر یقینی کا شکار ہوگئے ہیں۔

کابل میں اپنے حامیوں سے ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روکا جانا چاہیے۔

اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے افغان چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ ہم اس عمل کو دھوکا دہی کرنے والوں سے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ دھاندلی زدہ الیکشن کو قبول نہیں کریں گے، اس کے نتائج ہمارے لوگوں کے شفاف ووٹوں کی بنیاد پر ہی ہونے چاہیئں۔

خیال رہے کہ عبداللہ عبداللہ گزشتہ دونوں مرتبہ افغان صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے لیکن دونوں ہی مرتبہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اب وہ اپنے سیاسی مستقبل کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

علاوہ ازیں وہ حالیہ عام انتخابات میں لاکھوں ووٹوں کی درستی پر بھی متعدد مرتبہ سوال اٹھا چکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس مرتبہ افغانستان کی تاریخ کے شفاف ترین ووٹنگ ہوئی تھی، جس کے لیے ایک جرمن کمپنی نے بائیومیٹرک مشینیں فراہم کیں تھیں تاکہ ایک شخص کو دو مرتبہ ووٹ ڈالنے سے روکا جائے۔

تاہم بے ضابطگیوں کی وجہ سے ابتدائی 10 لاکھ ووٹ ضائع ہوگئے جبکہ ووٹنگ ٹرن آؤٹ بھی بہت کم رہا جہاں 3 کروڑ 70 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک کے 96 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرف 18 لاکھ ووٹ ہی ڈالے جاسکے۔

اس حوالے سے افغان چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ مسائل ان 3 لاکھ ووٹوں پر ہے جو مشین کی مدد سے ریکارڈ کیے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان ووٹوں میں کچھ بیلٹ کے ساتھ جو تصاویر ہیں وہ اصلی شناختی کارڈ کے بجائے نقلی شناختی کارڈ سے لی گئی ہیں۔

عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ مشاہدہ کرنے والے بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کریں گے جس کی مدد سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے دعوؤں کو مزید ہوا ملے گی۔

افغان انتخابات کے نتائج کا اعلان 19 اکتوبر کو ہونا تھا لیکن اس میں 2 مرتبہ پہلے ہی تاخیر کردی گئی ہے، جبکہ حکام نے اس کی وجہ تکنیکی خرابی قرار دیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید