آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بغداد پر قبضے کے بعد ہلاکو خان نے معتصم باللہ کے سامنے برتنوں میں سونا، چاندی اور ہیرے جواہرات رکھ دیئے جو اس کی فوج نے معتصم کے محلات سے ہی اتارے تھے اور کہا ”جو کچھ جمع کر رکھا تھا اب اسے تناول فرمائیے“۔ معتصم نے تعجب سے ہلاکو خان کی طرف دیکھا اور کہا ”بھلا میں یہ کیسے کھا سکتا ہوں؟“ اس پر ہلاکو نے شرارت آمیز لہجے میں کہا”تو پھر اسے اتنی حفاظت کے ساتھ کیوں رکھا تھا؟“ ہلاکو نے محل کے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر سونا چاندی اور ہیرے، جواہرات سے لبریز دیوہیکل صندوقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معتصم سے کہا”ان صندوقوں کے فولاد سے اپنی فوج کے لئے تیر اور تلواریں کیوں نہ بنوائیں اور یہ تمام ہیرے جواہرات اپنے عوام اور وفادار سپاہیوں میں کیوں تقسیم نہ کئے؟ اگر تم انہیں اپنی سپاہ اور عوام پر خرچ کر دیتے تو آج میرے سپاہی اتنی آسانی سے تمہارے محل کی چوبیں نہ اکھاڑتے“۔ یہ سن کر معتصم سے کوئی جواب نہیں بن پا رہا تھا۔ بے بسی کے عالم میں جواب دیا”شاید مشیتِ ایزدی یہی تھی“۔ تاتاریوں کے خاقان نے کہا ”اچھا! تو اب ہم آپ سے جو بھی سلوک کریں اسے بھی مشیتِ الٰہی ہی سمجھنا“۔ یہ طنز سن کر معتصم کی آنکھیں شرمندگی اور ندامت سے جھک گئیں“۔
اسی ہلاکو خان کے دادا ”چنگیز خان“ نے پون صدی پہلے ”سمرقند و بخارا“ کو

تاخت وتاراج کیا تھا۔ مسلمانوں کے قدیم اور عظیم تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی شہروں کو اتنے برے طریقے سے نیست و نابود اور تباہ وبرباد کیا تھا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ چنگیز خان کے لشکر نے مسلمان خواتین کے آنچل تارتار کئے، نوجوانوں کو قتل کردیا گیا، مساجد ومدارس کو اصطبلوں میں تبدیل کردیا گیا، علماء کو زندانوں کی نذر کردیا گیا، سیاسی رہنماؤں کو پھندوں پر لٹکا دیا گیا، بوڑھوں کو بے یارومددگار تڑپنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ جس وقت چنگیز خان نے سمرقند و بخارا پر یلغار کی اس وقت بھی مسلمان حکمران عیاشیوں میں مگن تھے۔ چنگیز خان کی لشکرکشی نے کسی کو بھی نہ چھوڑا۔ سمرقند و بخارا کے سقوط پر مسلمان آج تک آنسو بہا رہے ہیں۔اندلس کے زوال کے بھی یہی اسباب تھے۔ مسلمان حکمران اپنی عیاشیوں میں مصروف تھے۔ ذاتی اختلافات تھے، قومیت اور عصبیت کے جھگڑے تھے، علماء چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر الجھے ہوئے تھے، قوم میں اتفاق واتحاد کا فقدان تھا۔ عیسائی بادشاہ فرڈی نینڈ اور ملکہ ازابیلا نے اندلس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ مسلمان حکمرانوں نے جب آخری بار اپنی عظیم الشان اور پُرتعیش محل کی طرف دیکھا تو بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اس حالت پر کسی مسلمان عورت نے اس پر فقرہ کسا جس ملک وقوم کی تو مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکا اب عورتوں کی طرح آنسو بہانے کا کیا فائدہ؟
سلطنت مغلیہ کا حال بھی دیکھ لیں۔ آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی، مگرجب حکمران عیاش اور مفاد پرست ہوگئے تو حالات بدل گئے۔ روہیلہ بڑا ظالم شخص تھا۔ جب وہ مسند نشین ہوا تو ہزاروں کو تہ تیغ کیا۔ مغل بادشاہ تیمور کو قتل کر کے اس کی آنکھیں نکال دیں، پھر اس کے حرم کو رقص کا حکم دیا۔ جن شہزادیوں کا چہرہ بھی چشم فلک نے نہ دیکھا تھا وہ ننگے سر ناچتی اور آنکھوں سے آنسو بہاتی رہیں پھر وہ ظالم اُٹھا، اس نے کمر سے خنجر کھولا اور مسند پر آرام کی غرض سے لیٹ گیا پھر اچانک روہیلہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا، تمہیں اپنی قسمت پر آنسو نہیں بہانے چاہئیں میں سویا نہیں تھا بلکہ نیند کا دکھاوا کیا تھا۔ میرا مقصد تمہارے اندر موجود غیرت وحمیت کی جانچ کرنا تھا۔ تم میں جرأت زندہ ہوتی تو تم مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالتیں لیکن تمہارا رقص میں مگن رہنا یہ بتاتا ہے کہ جرأت ختم ہو چکی ہے لہٰذا تمہارے پاس صرف بے بسی کے آنسو ہیں اور وہ قومیں جن کے پاس آہوں کے دھویں کے سوا کچھ نہیں ہوتا، تاریخ انہیں دھول بناکر اُڑادیتی ہیں۔قارئین!جب ہم پاک وطن پر منڈلائے سیاہ بادل، حکمرانوں کے عیش و عشرت، علماء کو فروعی اختلافات میں الجھا ہوا، سسکتے بلکتے عوام کی حالت زار، مجموعی طور پر پوری قوم کو بے حس و بے بس دیکھتے ہیں تو مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ تاریخ ذہن کے نہاں خانوں پر گردش کرنے لگتی ہے۔ کانوں میں ہلاکو اور معتصم کی یہ گفتگو گونجنے لگتی ہے۔ چنگیز خان، ہلاکو خان اور فرڈی نینڈ کی سفاکیاں، مسلم حکمرانوں کی عیاشیاں اور مسلم قوم کی بے بسیاں اور بے حسیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ ملکوں اور قوموں کی حالت نزع میں جو حالت ہوتی ہے، ہم اسی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل بھیانک طوفانوں کی زد میں معلوم ہوتا ہے۔ ترکی میں افغانستان کے ایشو پر خفیہ میٹنگ اور ملک بھر میں دھرنوں کے بعد آثار بتا رہے ہیں پاک وطن میں کوئی کھیل کھیلا جانے والا ہے ۔ استعماری عزائم رکھنے والے ممالک کے خفیہ اداروں نے پورے ملک میں جاسوسی نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے سمیت امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیکڑوں خفیہ ٹھکانے ہیں۔ جن میں سے اسلام آباد میں 5، بلوچستان میں 31، سندھ میں 15، پنجاب میں 21، خیبر پختونخوا میں 23، قبائلی علاقہ جات 12، آزاد کشمیر 7، گلگت بلتستان میں 3، جبکہ قبائلی علاقوں میں موجود 12 ٹھکانے ہیں۔ بلیک واٹر، اور مغربی این جی اوز میں موجود ملک دشمن افراد نے نوجوانوں کو اُکسانا شروع کردیا ہے۔ ملکی معیشت آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ قومی ادارے کرپشن اور اقربا پروری کی بنا پر تباہ ہو رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ملکی مفاد اور سلامتی کو بالائے طاق رکھ کر اپنے اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں سرگرداں ہیں۔ مذہبی جماعتیں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہی ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ میں تین کروڑ عوام کی عزت، جان اور مال ہر وقت خطرے میں ہے۔ اغوا کے خطرے سے تاجروں نے منڈیوں میں، صنعت کاروں نے فیکٹریوں میں، بچوں نے تعلیمی اداروں میں اور خواتین نے تفریح گاہوں میں جانا چھوڑدیا ہے۔ سلامتی کے ادارے خواب خرگوش میں ہیں۔ ہر آنے والا دن وطن عزیزکیلئے خطرات کی آندھیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ الیکشن شاید ملکی تاریخ کا مشکل ترین اور اہم ترین الیکشن ہو۔ اس کے بعد ملک ترقی کے زینے پر چڑھے گا یا پھر خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔
پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ جب ملک وقوم پر مشکل اور کڑا وقت آ جائے، اندرونی اور بیرونی سازشیں ہونے لگیں،قومی سلامتی خطرے میں پڑجائے تو ان گمبھیر حالات میں تمام افراد، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر،کسی بھی سیاسی جماعت، کسی بھی حلقے سے ہو متحد ہوجاتے ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات اور لڑائی جھگڑوں کو روک لیتے ہیں باہم مل کر بیٹھ کر غوروفکر کرتے ہیں، سوچتے ہیں اور پھر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ جتنی سازشیں ریاست مدینہ کے خلاف ہوئیں، اس وقت جتنے دشمن مسلمانوں کے تھے، اتنے رہتی دنیا تک شاید کسی کے نہ ہوں۔ آپﷺ نے کس تدبر، حکمت، سیاسی بصیرت سے سب سازشوں کو ناکام بنایا،کس طرح دشمنوں کا مقابلہ کیا قوم وملک کی حفاظت کی۔ مدینہ کو مثالی و ناقابل تسخیر ریاست بناکر مسلمانوں کو پیغام دیا کہ یوں ملک وقوم کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ان حالات میں ملک کی مذہبی قیادت کو ملک وقوم کی رہنمائی کرنی چاہئے کہ ملکی سلامتی کیسے ممکن ہے؟ خانہ جنگی سے بچاؤ کیسے ہو؟ سازشوں سے کیسے نمٹا جائے؟ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے اس وقت رہنماؤں کی بعینہ وہی حالت ہے جو سقوط بغداد کے وقت تھی۔ آج پھر حالات کے تیور یہی بتا رہے ہیں قوم کی حفاظت اور ملکی سلامتی کیلئے اگر ہم بھی متفق و متحد نہ ہوئے، علماء میں سے کسی نے امام احمد بن حنبل، ابن تیمیہ، مجدد الف ثانی جیسا کردار ادا نہ کیا تو پھر خاکم بدہن استعماری اور سامراجی قوتیں حکمرانوں کو چھوڑیں گی اور نہ ہی اہلِ علم بخشے جائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں