آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قارئین یقین کریں ہر صبح اُٹھ کر اللّٰہ سے دعا کرتا ہوں کہ آج کے دن کوئی اچھی خبر سننے کو مل جائے، اخبارات کا مطالعہ ختم ہو جاتا مگر قوم کے لئے کوئی بھی اچھی خبر نظر نہیں آتی۔ 

سیاست دانوں کی تکرار، نیب کی کارروائیوں، سرکاری گھپلوں میں اضافے، یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد دل ڈوب سا جاتا ہے۔ یا اللّٰہ! یہ قوم کو کیا ہوگیا ہے پہلے تو ہزاروں کا گھپلا بھی عوام کو برداشت نہیں ہوتا تھا، صرف 25پیسے چینی کے نرخوں میں اضافے نے ایوب خان کی حکومت کو ہلا دیا تھا۔ 

چند روپے سرکاری ٹیکسوں کے گھروں پر بڑھانے پر کراچی والوں نے گھروں پر کالے جھنڈے لہرائے تھے کہ حکومت نے ٹیکس واپس لے لیا، مگر آج قوم کو کیا ہو گیا ہے۔ 

ہر ٹیکس سرچارج، مہنگائی کو وہ خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ آج ہمارے حکمران جو مہنگائی، ٹیکسوں کو ختم کرنے کے 18، 19سال سے دعوے کر رہے تھے، صرف ایک ہی سال میں اپنے تمام دعوے ہوا میں اُڑا کر کہتے ہیں کہ یہ ماضی کے حکمرانوں کا کیا دھرا ہے۔ 

اس وقت پوری اپوزیشن ڈھیر کی جا چکی ہے، اکیلے بچے سیاستدان کے ہاتھوں پہلے اسلام آباد یرغمال بنا، پھر جب 14دن کچھ نہ ہو سکا تو ایکشن پلان بی سے پورا ملک جام کر دیاگیا۔ 

گویا ایک طرف پورے ملک میں مہنگائی، لا قانونیت دوبارہ قوم کو جھیلنا پڑ رہی تھی، اب کھلا ٹکٹ دے دیا گیا کہ جہاں چاہو دھرنا دو، راستے بلاک کرو۔ پہلے ملک بھر کے کنٹینرز پکڑ کر اسلام آباد بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے لاہور سے آگے جانے والے ٹرانسپورٹرز مجبور ہو گئے، مال اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹ رہی۔ 

اب جب مولانا فضل الرحمٰن نے پلان بی کا اعلان کیا تو اُن کے پیلی وردی والے اب شہری وردیوں میں ملک کے ہر کونے میں پھیل کر پورے پاکستان کو بلاک کر رہے ہیں۔ اس ڈر سے ٹرانسپورٹرز اپنے کنٹینرز کی ترسیل بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، حکومت اُن کو کوئی تحفظ نہیں دے رہی ہے۔

دن رات کرتار پورکا ڈھنڈورا پیٹ کر سکھوں کی ہمدردیاں سمیٹی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور سندھو مہاراج زندہ باد کے نعرے لگا کر قوم کو بہکایا جا رہا ہے۔ 

نواز شریف علاج کے لئے باہرجا رہے ہیں تو زرداری صاحب کی صحت جواب دے رہی ہے، یہ سب کیا ڈرامہ ہے؟ سرکار کے بااختیار حساب دان (حفیظ شیخ) 17روپے کلو ٹماٹر کی صدا لگا رہے ہیں مگر کوئی خریدار ہی نظر نہیں آ رہا ہے۔

 البتہ 300کی صدا لگانے والوں کے آگے قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ وہ مجبوراً ٹماٹر خرید کر کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔ اُدھر مولانا فضل الرحمٰن میڈیا پر آنے کے بعد اس مہنگائی کے خلاف تو رسماًہی کہہ رہے ہیں، اگر وہ عوام سے کہتے میں اس مہنگائی کے خلاف مارچ کر رہا ہوں تو واقعی عوام اُن کا ایسا ساتھ دیتےکہ حکمران بھول جاتے کہ آزادی مارچ کیا ہوتا ہے اور مہنگائی مارچ کیا ہوتا ہے۔

مگر قوم کو بیوقوف بنانے میں ہر سیاست دان شامل ہے، ایک وقت روٹی، کپڑا اور مکان قوم کے سروں پر سوار رہا، اُس کا نشہ اُترا تو مذہبی نعرےلگائے گئے، پھر نئے نئے نعرے وجود میں آتے گئے اور ڈوبتے گئے، آخری نعرہ ووٹ کو عزت دو بھی اپنی موت آپ مرنے پر مجبور ہے، آزادی مارچ کا ڈراپ سین تو ہو چکا ہے۔ اب کیا نیا گل کھلنے والا ہے، کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگر اس نئے دھرنے کو نہ روکا گیا تو کیاپھر قوم قومی ترانہ سنےگی۔ اللّٰہ اس پاکستان کی بہتری کے اسباب پیدا فرمائے (آمین)۔

اب میں کچھ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر کرتا چلوں کہ بھارتی سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے بابری مسجد کے انہدام کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع جگہ پر مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

پانچوں جج اتفاق رائے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ منہدم مسجد کی جگہ ایک ہندو ٹرسٹ کے حوالے کر دی جائے جو وہاں مندر تعمیر کرے۔ حکومت کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کو متبادل کے طور پر ایودھیا میں کسی مناسب جگہ پر 5 ایکڑ زمین فراہم کرے تاکہ وہاں وہ اپنی مسجد تعمیر کر سکیں۔ فیصلہ آنے سے کئی روز پہلے ہی سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ 

پیرا ملٹری فورسز کے ہزاروں سپاہی ایودھیا ہی نہیں ملک بھر میں تعینات کئے جا چکے تھے اور پورے صوبے میں جگہ جگہ کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے نگرانی کا عمل جاری تھا۔ ایودھیا اور علی گڑھ میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا اور باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا کہ 31اضلاع اور بنگلور، بھوپال، جے پور، کانپور، ممبئی اور کئی دوسرے بڑے شہروں میں دفعہ 144نافذ کر دی گئی تھی۔ 

بابری مسجد 1528میں مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر تعمیر کی گئی تھی۔ 1992ء میں اس پر حملہ کرکے اسے مسمار کر دیا گیا۔ اس کے بعد پورے بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے جن میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 

ہندو انتہا پسندوں کا دعویٰ تھا کہ بابری مسجد کی تعمیر کرنے والے جنرل میر باقی نے یہاں موجود رام مندر کو منہدم کرایا تھا۔ وہ اس جگہ کو رام کی جنم بھومی بتاتے ہیں۔ انیسویں صدی سے اس حوالے سے کشمکش جاری تھی۔

ہندوؤں اور مسلمانوں کی طرف سے مقدمات دائر کئے جاتے رہے، یہاں تک کہ بی جے پی نے اسے ایک سیاسی ایشو بنا کر جذبات کو بھڑکایا، اس کے بڑے بڑے لیڈروں (جن میں ایل کے ایڈوانی بھی شامل تھے) نے معاملے کو انتہا تک پہنچا دیا۔ اس سانحے نے بھارتی سیاست میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے لئے تیل کا کام دیا، محاذ آرائی اور تصادم کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک رکنے میں نہیں آ رہا۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کئی صدیوں تک بابری مسجد میں اذان کی صدائیں بلند ہوتی رہیں، یہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی رہی۔ رہا مسئلہ کشمیر اس کو بھارتی نیندسلا دیا گیا ہے، دنیا کی نظروں سے آہستہ آہستہ دور ہوتا جا رہا ہے اب کشمیریوں کی فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہے۔