آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تاریخ کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم کو آسٹریلیا میں ٹیسٹ فتح کی تلاش

يہ سطورر تحریر کرتے ہوئے کوئی مسرت نہیں ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم2019کا اختتام ایسے وقت میں کرنے جارہی ہے جب ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ کی ناکامیوں کی طویل فہرست تاریخ میں درج ہوگئی ہے اور ٹیسٹ تاریخ کے 4 ہی میچز باقی بچے ہیں ،2 آسٹریلیا میں ہونے ہیں اور 2 ہوم گرائونڈز پر سری لنکا کے خلاف ،ٹیم اب تک سنگل ٹیسٹ میچ بھی نہیں جیت سکی ہے ، آسٹریلیا میں کبھی ٹیسٹ سیریز نہ جیتنے والی ٹیم سنگل میچ جیت بھی سکے گی؟ قومی کرکٹ ٹیم کا آسٹریلیا میں ریکارڈ بہتر نہیں ہے۔ 

قومی کیمپ میں موجود بولنگ کوچ وقار یونس کے لئے یہ 90کے عشرے کا زمانہ بھی نہیں ہے جب انہیں ساتھی بولر وسیم اکرم کے ساتھ دنیا کی ٹاپ بولنگ لائن کی مدد حاصل تھی،کلاس کے بیٹسمین تھے ،اسی طرح کیمپ میں موجود ہیڈکوچ ،چیف سلیکٹر مصباح الحق کاماضی قریب 2016کاوقت بھی نہیں ہے جب انکے ساتھ یونس خان جیسے تجربہ کار بیٹسمین تھے،دونوں وقتوں میں پہلی سیریز جیتنے کی امید تھی مگر پوری نہ ہوئی بدقسمتی سے یہ دونوں بطور کرکٹرز وہ کارنامہ آسٹریلیا میں سر انجام نہ دے سکے جو کبھی پہلے نہیں ہوسکاتھا تو اب ماضی کے مقابلے میں کمزور اور کم تجربہ کار ٹیم سے کیا امید کی جاسکے گی،2016میں مصباح کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نے برسبین کے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں 490کے ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں مین آف دی میچ کا ٹائٹل جیتنے والے اسد شفیق نے آسٹریلوی کپتان کو ناخن کترنے پر مجبور کردیا تھا ،ٹیم صرف 39 رنزسے ہاری تھی، اگلے ٹیسٹ میلبورن میںجب ٹیم کو 443رنزپر اننگ ڈکلیئر کرنی پڑی ،بارش اور وقت کی کمی کے باوجود آسٹریلیا نے 3گھنٹے میں میچ جیتا اور ایسا ہی کچھ آخری ٹیسٹ میں سڈنی میں ہوا،پاکستانی شائقین آسٹریلوی سر زمین پر سنگل ٹیسٹ کی فتح کو ترس رہے ہیں،آخری مرتبہ 1995میں سڈنی کے مقام پر ٹیم 74رنزسے جیتی تھی۔ آسٹریلیا میں 12 سیریز ہوئی ہیں۔ 

پاکستان 3ڈرا کھیل سکا ،35ٹیسٹ میچز میں سے قومی ٹیم گنتی کے 4میچ ہی جیت سکی ہے 24ہارے ہیں اور 7 ڈرا کھیلے ہیں۔میلبورن میں 10 اور سڈنی میں 8میچز کھیل کر 2،2 جیتے ہیں،باقی تمام گرائونڈز میں فتح کا راستہ ہی تلاش کرتے رہے ۔1956ء سے 2019 ء 63 سال کا طویل عرصہ ، 24ٹیسٹ سیریز اور 64 ٹیسٹ میچ ،پاکستان7سیریز میں جبکہ آسٹریلیا 12سیریز میں فاتح رہا 5سیریز برابری پر ختم ہوئیں ۔ہوم گرائونڈ پر گرین کیپس نے 5جبکہ عرب امارات میں2 سیریز جیتی، عرب امارات و سری لنکا میں ایک سیریز میں آسٹریلیا فاتح رہا۔ اس کے مقابلہ میں آسٹریلیا نے اپنے ملک میں9پاکستان میں دو اور سری لنکا و متحدہ عرب امارات میں منعقدہ ایک سیریز جیتی۔ 

انگلینڈ میں 2010ء میں کھیلی گئی 2میچوں کی سیریز 1-1سے برابر رہی۔ دونوں ممالک کے درمیان اب تک کی آخری سیریز عرب امارات میں 2018کے سیزن میں کھیلی گئی جس میں پاکستان1-0سے کامیاب رہا۔ دونوں ملکوں کے مابین کھیلے گئے64میچوں میں سے پاکستان محض 15میں کامیابی حاصل کر سکا جبکہ اسے 31میں شکست ہوئی 18میچ برابر رہے۔ آسٹریلوی ٹیم اپنے ملک میں پاکستان سے1995-6کی سیریز میں آخری مرتبہ کسی ٹیسٹ میچ میں شکست سے دو چار ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک قریب24سال میں پاکستان نے آسٹریلیا میں 4سیریز کے12ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔

تمام میں اسے شکست ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1998-99ء سےاب تک صرف ایک ٹیسٹ میچ ڈرا ہوا۔ اس سال آسٹریلوی ٹیم نے پاکستان میں 3میچ کھیلے تھے دو میچ ڈرا رہے۔آسٹریلیا سیریز 1-0 سے جيت گيا تھا۔اسکے بعد سے اب تک21میچ کھیلے جا چکے ہیں۔ایک میچ آسٹریلیا نے گزشتہ سال عرب امارات میں ڈرا کھیلا ہے۔16میں آسٹریلیا اور صرف 4میں پاکستان فاتح رہا ۔21نومبرسے برسبین میں پہلا معرکہ ایک مرتبہ پھر نئے کپتان اظہر علی کی قیادت میں شروع ہورہا ہے ۔29نومبر سے ایڈیلیڈ میں ڈے نائٹ پنک بال ٹیسٹ شروع ہوگا،یہ سیریز آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے ،پاکستان کی پہلی انٹری ہےآسٹریلیا 5میچز کھیل چکا ہے،اسکے پاس 56پوائنٹس ہیں،یہ سیریز 120 پوائنٹس کی ہوگی،ایک میچ کی فتح پر ہی 60 پوائنٹس مل جائیں گے۔

پریکٹس میچزمیں بیٹسمینوں نے رنزکے انبار لگائے ہیں ،گزشتہ دورے میں یادگار اننگ کھیلنے والے اسد شفیق امیدوں کا مرکز ہونگے، اظہر علی،بابر اعظم،اسد شفیق،حارث سہیل ،شان مسعود کے علاوہ بیٹنگ لائن نئے چہروں پر بھروسہ کرنے پر مجبور ہوگی،بولنگ میں عمران خان نے پریکٹس میچ میں اچھا کرنٹ دکھایا ہے جبکہ 16سالہ پیسر نسیم شاہ کی لاٹری کا نکلنا بھی معجزے سے کم نہیں ہوگا،یہ ٹیم تاریخ کی کمزور ترین ٹیم ہے جسکے پاس تجربہ کم ہے،دیکھا جائے تو پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ٹیسٹ کپتان مصباح،ریورس سوئننگ کے بادشاہ وقار یونس جیسا تجربہ ڈریسنگ روم تک ہی محدود ہوگا۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید