آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر24؍جمادی الاوّل 1441ھ 20؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اچھے ہیں یا بُرے، سرِدست اس سے غرض نہیں لیکن عمران خان اور میاں نواز شریف کی طرح آصف علی زرداری بھی ایک قومی جماعت کے سربراہ ہیں۔

نواز شریف سابق وزیراعظم تو آصف علی زرداری سابق صدرِ پاکستان ہیں۔ گرفتاری کے وقت آصف علی زرداری، میاں نواز شریف سے زیادہ بیمار تھے۔

جب سے دونوں جیل گئے تب سے اُن دونوں کی صحت اور حالت کی خبر ہمیں صرف اور صرف حکومت یا پھر حکومتی ذرائع کے حوالے سے پہنچتی ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں ایک سرکاری اہلکار نے رابطہ کرکے مجھے بتایا کہ زرداری صاحب کی صحت ٹھیک نہیں اور اگر خاکمِ بدہن اُنہیں کچھ ہوا تو اُن جیسے سرکاری افسروں کیلئے مصیبت بن جائے گی۔

مجھے یہ بھی تشویش لاحق ہوئی کہ اللہ نہ کرے اگر ایک اور لاش پنڈی سے سندھ گئی تو یہ قومی صحت کیلئے بھی نہایت خطرناک ہوگا چنانچہ 17اکتوبر 2019کو ایک ٹویٹ کے ذریعے میں نے زرداری صاحب کی صحت کا معاملہ حکومت اور قوم کے سامنے لانے کی کوشش کی لیکن حسبِ روایت کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اکتوبر کے آخری ہفتے میں اچانک میاں نواز شریف کی صحت کی خرابی کا معاملہ سامنے آیا۔

میاں نواز جوڈیشل ریمانڈ پر سرکار یا بالفاظ دیگر قومی احتساب بیورو کی تحویل میں تھے۔ کسی اپوزیشن والے نے نہیں، تبدیلی سرکار کے ڈاکٹروں نے ہمیں بتایا کہ میاں نواز شریف کی حالت ٹھیک نہیں۔

اس دن کے بعد میڈیا بھی میاں نواز شریف کی صحت کی خبر لینے اور دینے لگا جبکہ اُن کا خاندان اور پارٹی رہنما بھی دن رات اُس کا رونا رونے لگے لیکن معاملہ بنیادی طور پر پنجاب حکومت اور اُس کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ہاتھ میں رہا۔ کوئی اور نہیں بلکہ پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد قوم کو روزانہ میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق بریف کرتی رہیں۔

دیکھئے پروگرام ’جرگہ سیلم صافی کے ساتھ‘ کا ایک کلپ....تفصیلی پروگرام آج شب 10 بجکر5منٹ پر


ڈاکٹروں کی ٹیمیں کسی اور نے نہیں بلکہ پنجاب حکومت نے بنائیں۔ کسی اور نے نہیں، خود ڈاکٹر یاسمین راشد نے قوم کو یہ بُری خبر سنائی کہ میاں صاحب کو دل کا معمولی دورہ پڑا ہے۔ یہی سرکاری ڈاکٹر بتاتے رہے کہ میاں صاحب کے پلیٹلٹس کی کمی کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور یہ کہ اُنہیں بیرونِ ملک علاج کیلئے بھیج دینا چاہئے۔

اِس دوران خود وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ اُنہوں نے شوکت خانم کے ڈاکٹروں اور ذاتی ذرائع سے بھی تصدیق کی ہے کہ میاں صاحب کی بیماری جینوئن اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ میاں صاحب کی صحت کیلئے دعا بھی کی اور پھر اپنے چہیتے معاون خصوصی نعیم الحق سے بیان بھی جاری کروایا کہ وزیراعظم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میاں نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

جب پنجاب حکومت کی ڈاکٹروں کی ٹیم اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ ساتھ ان کے بدترین مخالف عمران خان کی گواہی بھی سامنے آئے تو پوری قوم یقین کرکے تشویش میں مبتلا ہوئی جبکہ ان کے ہمدرد ان کی صحت کیلئے دعائیں کرنے لگے۔ دوسری طرف حکومت کے ہمدرد اس تشویش میں مبتلا ہوگئے کہ اگر میاں نواز شریف کو کچھ ہوگیا تو نہ صرف حکومت پر الزام آئے گا بلکہ پنجاب کو بھی ایک بھٹو مل جائے گا۔

چنانچہ حکومت کا ہر ہمدرد کوشش کرنے لگا کہ میاں صاحب جلد از جلد علاج کیلئے بیرونِ ملک چلے جائیں۔ اس دوران شہباز شریف نے عدالتوں سے رجوع کیا۔ عدالتوں کے سامنے ایک طرف میاں نواز شریف کی حالت کے نازک ہونے سے متعلق ڈاکٹروں کی ٹیم کی رپورٹس تھیں اور دوسری طرف وزیر صحت اور وزیراعظم پاکستان کی گواہیاں۔

چنانچہ اس بنیاد پر عدالتوں نے میاں صاحب کو ضمانت پر رہا کیا۔ اس دوران نجانے کیوں اچانک وزیراعظم کی سوچ بدل گئی اور انہیں احساس ہونے لگا کہ میاں نواز شریف کے بغیر شرط کے باہر چلے جانے سے ان کی حکومت کو نقصان ہوگا چنانچہ کابینہ کی آڑ لے کر ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے ایڈیمنٹی بانڈ کی شرط لگا دی گئی، جسے سیاسی وجوہات کی بنا پر ان کے بھائی اور جماعت نے قبول کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔ ای سی ایل سے نام نکالنا حکومت کا اختیار ہے، عدالت نے صرف ایڈیمنٹی بانڈز کا معاملہ دیکھنا تھا کہ یہ شرط قانونی ہے یا نہیں۔

عدالت نے ایڈیمنٹی بانڈز کی شرط ختم کرکے اس کی جگہ نواز شریف اور شہباز شریف کے حلف ناموں کو کافی سمجھا۔ بہرحال نواز شریف بیرونِ ملک روانہ ہوگئے لیکن ان کے روانہ ہوتے ہی عمران خان کے ترجمانوں، وزیروں اور مشیروں نے واویلا شروع کردیا۔

وہ میاں نواز شریف کی بیماری کو ڈھونگ قرار دینے لگے۔ کوئی ان کے سوٹ کا حوالہ دے کر مذاق اڑانے لگا تو کوئی یہ کہتا رہا کہ یہ کیسا مریض ہے کہ جو ہر حوالے سے ہشاش بشاش لگ رہا ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سائبر مجاہدین نے عدلیہ پر تنقید شروع کر دی اور اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ خود وزیراعظم بھی طیش میں آئے اور چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر عدلیہ پر اپنا غصہ نکالا۔ اب قوم حیران ہے کہ بیرونِ ملک جانے سے پہلے نواز شریف کی صحت سے متعلق ڈاکٹر یاسمین راشد اور وزیراعظم کا پہلے والا موقف درست تھا یا پھر موجودہ تائو پیچ ڈرامہ ہے۔

پی ٹی آئی کے جو رہنما اس وقت نواز شریف کی بیماری کو ڈرامہ ثابت کر رہے ہیں، درحقیقت اپنے قائد عمران خان، ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ڈاکٹروں کی ٹیم کو جھوٹا یا پھر نااہل قرار دے رہے ہیں۔ اگر واقعی میاں نواز شریف کی حالت تشویشناک نہیں تھی تو پھر مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں کیساتھ ساتھ وزیراعظم، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف بھی قوم اور عدالتوں کو گمراہ کرنے کا مقدمہ بننا چاہئے۔

بہرحال وقت ثابت کرے گا کہ میاں نواز شریف کا بیرونِ ملک جانا واقعی ضروری تھا یا پھر جو کچھ ہوا ہے وہ اسکرپٹ اور ڈیل کا نتیجہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو حکمران ایک شخص کی بیماری کو اس طرح ڈیل کر رہے ہوں، وہ ملک کے حساس اور سنگین ترین مسائل کو کس طرح ڈیل کر رہے ہوں گے۔

ادارتی صفحہ سے مزید