آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ18؍شعبان المعظم 1440ھ24؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مجھے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بریفنگ میں شامل ہونے کا پہلی بار موقع ملا اور میں شادکام واپس آیا۔ پانچ گھنٹوں کی مصاحبت میں کچھ نئی باتوں کا علم ہوا اور زیادہ تر دانش مندی کے موتی سمیٹنے کو ملے۔ پورے ملک سے چالیس کے لگ بھگ ایڈیٹر ¾ کالم نگار اور ٹی وی اینکرز مدعو تھے جو بہت اہم قومی اور بین الاقوامی امور پر آرمی چیف کے ساتھ بڑی بے تکلفی اور کمال مہارت سے تبادلہ ¿ خیال کرتے رہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ جنرل صاحب ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں اور اُن کی شخصیت میں ایک حلم اور ایک وضع داری پائی جاتی ہے اور اُن کی باتوں سے دانائی اور گہرائی کا احساس ہوتا ہے۔ اُنہوں نے اپنی بریفنگ کے آغاز ہی میں یہ واضح کیا کہ ہماری بقا اور فلاح کا راز آئین اور قانون کی پاسداری میں ہے جس کی رُو سے ریاست کے تین بنیادی ستون مقننہ ¾ انتظامیہ اور عدلیہ ہیں اور اُن میں سے ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنے اور اپنے اختیارات استعمال کرنا چاہئیں۔ خرابی اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب دستور اور قانون سے انحراف کیا جاتا ہے۔ وہ جب یہ اصولی باتیں کر رہے تھے ¾ تو میں اُن کی نشست کے دائیں ہاتھ بیٹھا تھا اور اُن کے چہرے کے تاثرات بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ یہ اُن کے قلبی احساسات ہیں جن میں کسی مصلحت کی آویزش معلوم نہیں

ہوتی۔ غالباً وہ ملکی تجربات اور تاریخ کے مطالعے سے اِس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ فوج کو سیاست سے الگ تھلگ رہنا اور منتخب حکومت سے امکان کی حد تک تعاون کرنا چاہیے۔ میں جب اپنے آرمی چیف کی زبان سے یہ باتیں سن رہا تھا تو مجھے عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ ماضی میں ہم نے اپنے بعض فوجی سربراہوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ آئین کیا ہے ¾ چند صفحات پر مشتمل ہے جو کسی وقت بھی ردی کی ٹوکری میں ڈالے جا سکتے ہیں اور ایسے حادثات ہماری قومی زندگی میں کئی بار آئے بھی ہیں ۔ 1971ءمیں سقوطِ ڈھاکہ اِس لیے پیش آیا تھا کہ پاکستان کے دونوں بازوو ¿ں کے سیاست دان اور اُس وقت کے فوجی حکمران ایک نئے دستور کی تدوین پر متفق نہیں ہوئے تھے اور فوجی آپریشن اور غیر ملکی مداخلت سے ہمارا وجود دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔جنرل کیانی کے جس بنیادی پیغام نے ہمیں اعتماد کی دولت سے سرشار کیا ¾ وہ اُن کا جمہوریت کے تسلسل اور بروقت اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر غیر متزلزل یقین کا اظہار تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے عمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم نے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اُترنے نہیں دیا اور منتخب حکومت کےساتھ ہر مرحلے میں تعاون کیا اور اب شفاف انتخابات کا انعقاد ہمارا مشن اور میرا خواب ہے اور مجھے خوشی ہے کہ ہم اِس خواب کی تعبیر کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ قوم کیلئے اُنکی طرف سے مژدہ جانفرا یہ تھا کہ فوج انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت نہ ٹیکنوکریٹ حکومت کی حمایت، نہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرےگی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اُنہوں نے 2007ءمیں آرمی چیف کا منصب سنبھالتے ہی فوج کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے تھے اور 2008ءکے انتخابات میں تمام قومی اداروں کو غیر جانب دار رہنے کے احکام جاری کر دیئے تھے۔ اُنہوں نے جمہوری تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق عوام کو حاصل ہے اور فوج کو اِس امر سے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ اچھے یا برے لیڈر چنتے ہیں اور جو حکومت بھی قائم ہوئی،آئین کے مطابق ہم اِسکے جائز احکام بجا لائینگے۔
میرے خیال میں جنرل کیانی کی یہ سوچ سیاست دانوں کو بڑے اعتماد کے ساتھ انتخابات کے عمل میں بھرپور حصہ لینے کا حوصلہ دے گی اور طالع آزما قوتوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو گی۔ اب تمام وسوسوں اور اندیشوں کو ختم ہو جانا چاہیے جو بعض حلقے فوج کے بارے میں پیدا کر رہے تھے کہ وہ کبھی عمران خاں کے غبارے میں ہوا بھر دیتی ہے اور کبھی کینیڈا سے شیخ الاسلام کو انتخابات کا عمل تلپٹ کرنے کی دعوت دیتی ہے اور کبھی ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم کرنے کے لیے تنکے جمع کرتی رہتی ہے۔ اُن کی باتوں سے یہ تاثر بھی زائل ہو جانا چاہیے کہ فوج میاں نواز شریف کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتی۔ آرمی چیف کا یہ دوٹوک بیان کہ ہم انتخابات کے نتائج کھلے دل سے تسلیم کریں گے ¾ شکوک و شبہات کے تمام جالے صاف کر دیتے ہیں اور انتخابی عمل کو ایک اعتبار اور ایک تحفظ عطا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں اگرچہ یہ واضح عندیہ دیا کہ وہ اپنے منصب کی میعاد ختم ہونے پر اِس میں کوئی توسیع قبول نہیں کریں گے ¾ مگر یہ اُمید پیدا ہوئی ہے کہ اُنہوں نے اپنی چھ سالہ قیادت میں فوج کی جمہوریت کے ساتھ وابستگی کو جس قدر مستحکم کر دیا ہے ¾ وہ مستقبل میں بھی قائم رہے گی اور سول ملٹری تعلقات میں جو ایک عظیم میثاق وجود میں آیا ہے ¾ اُس کا احترام اور اُس کی روح کے مطابق اُس پر عمل کیا جائے گا۔ میری نظر میں جنرل کیانی سویت یونین کے گورباچوف کے بجائے فرانس کے ڈیگال ہیں جو اپنے ملک کو زوال سے نکال کر عروج کی طرف لے گئے تھے۔

اتوار کی ڈیپ بریفنگ میں بہت ساری پہلو دار اور فکر انگیز باتیں ہوئیں ¾ مگر جنرل کیانی نے بنیاد پرستی کی جو توضیح کی ہے ¾ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بنیاد پرست احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ¾ کیونکہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل کرتے اور میانہ روی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ پاکستان میں اُن کی عظیم اکثریت آباد ہے ۔ مغرب میں بنیاد پرست کو مذہبی شدت پسند سمجھا اور اُسے قابلِ گردن زنی قرار دیا جاتا ہے۔ پس یہی وہ فرق ہے جس نے مسئلے کو سنگین بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ میری نظر میں مذہبی انتہا پسند وہ ہے جو مذہب کے معاملات میں اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگتا ہے اور اُس کی شریعت سے اختلاف کرنے والے کو اسلام سے خارج قرار دیتا ہے۔ تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جب کوئی فوجی میدانِ جنگ میں ہوتا ہے ¾ تو اُسے دہشت گردی کا سامنا ہوتا ہے اور اُسے دشمن اور دوست میں واضح فرق اختیار کر کے فوری اقدام کرنا ہوتا ہے۔ جنرل کیانی صاحب کا خیال تھا کہ معتدل اور متوازن مسلمانوں کا احترام اور انتہا پسند لوگوں سے مذاکرات اور دہشت پسندوں کے خلاف طاقت کا استعمال پوری تیاری سے کیا جانا چاہیے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کو مذاکرات سے قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے کہ اِسی کے ذریعے وہاں امن اور استحکام آ سکتا ہے۔ اِس لیے ہم نے امریکہ پر مصالحت کی پالیسی اختیار کرنے پر زور دیا ہے اور وہ صحیح راستہ پر آگیا ہے۔ اِس کے برعکس پاکستانی طالبان ہماری ریاست ¾ ہمارے دستور اور ہماری جمہوریت کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں اور ہزاروں شہریوں اور فوجیوں کو شہید کر چکے ہیں۔ اُن سے مذاکرات کے لئے سیاسی اور فوجی قیادت کو ایک مشترکہ حکمت ِ عملی طے کرنا ہو گی۔
میرے دل سے ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ کے لئے دعا نکلی جنہوں نے اس نازک صورتحال میں بڑے قرینے سے آرمی چیف کی بریفنگ کا اہتمام کیا جس نے قوم کو امید، یقین اور ایک بہارآفریں مستقبل کا پیغام دیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں