آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کی قومی سیاسی قیادت نے طالبان اور انتہا پسند گروہوں سے مذاکرات کی حمایت کردی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے۔ قومی سیاسی قیادت کا یہ اتفاق رائے دو کل جماعتی کانفرنسوں میں آیا‘ پہلی کانفرنس کا اہتمام پہلے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے کیا تھا جبکہ دوسری کانفرنس کی میزبان جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ ف) تھی۔ ان کل جماعتی کانفرنسوں میں شرکت کرنے والی سیاسی‘ دینی اور قوم پرست جماعتیں پاکستان کے عوام کی نمائندہ ہیں اور ان کے اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر ہیں۔ ان جماعتوں کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کی بات کی جارہی ہے تو بعض عناصر یہ تاثر پیدا کرسکتے ہیں کہ پاکستانی قوم طالبان سے ہار مان گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم نے طالبان سے ہار نہیں مانی بلکہ ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے دانشمندی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ریاست کے ذمہ دار ادارے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں مذکورہ بالا دونوں کل جماعتی کانفرنسوں کے اعلامیے غور سے پڑھے جائیں تو ان میں قومی سیاسی قیادت کی اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ ملک میں امن اور آئین و قانون کی عملداری قائم ہو۔ بس یہی خواہش غیر سیاسی اور غیر مرئی قوتوں میں نظر

نہیں آئی جو گزشتہ 66 سال سے ملک کے سیاہ سفید کی مالک بنی ہوئی ہیں۔ سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کی اپروچ میں یہی بنیادی فرق ہے۔ عوام کے ساتھ تعلق کی وجہ سے سیاسی قوتوں کو سوچنے کا انداز کچھ اور ہوتا ہے اور جو قوتیں عوام کی اجتماعی دانش کی نفی کرکے ”قومی مفادات“ کا تعین کرتی ہیں‘ اُن کے سوچنے کا انداز بالکل دوسرا ہوتا ہے۔ان قوتوں نے قومی مفادات کے تحفظ کے نام پر ایسی حکمت عملی اپنائی‘ جس نے پاکستان کو ایک ایسی جہنم بنا دیا ہے جہاں بدامنی کی آگ جسموں کے ساتھ ساتھ روحوں کو بھی جلا رہی ہے۔
کچھ حلقے یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا دونوں کل جماعتی کانفرنسیں غیر مرئی قوتوں کے اشارے پر کرائی گئی ہیں کیونکہ ان قوتوں کو طالبان سے مذاکرات کےلئے سیاسی مینڈیٹ چاہئے تھا کہ طالبان کو ایک ایسی قوت تسلیم کرلیا جائے اور مستقبل کی سیاست میں اُن کا کردار متعین ہوجائے۔ پاکستانی قوم کو اس بات پر یقین ہے کہ اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قوتیں اپنی اجتماعی دانش کے مطابق اپنا آزادانہ سیاسی کردار ادا کرسکیں۔ اس بات کے عملی مظاہر بھی سامنے آچکے ہیں۔ملک کی تمام سیاسی‘ مذہبی اور قوم پرست جماعتیں کئی باتوں پر اتفاق رائے پیدا کرچکی ہیں‘ جو پہلے کبھی نہیں تھا۔مثلاً تمام جماعتیں چاہتی ہیں کہ ملک میں جمہوریت قائم ہو۔ بعض جماعتیں اپنا روایتی سیاسی کردار ترک کرچکی ہیں اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے ہر عمل سے دور ہوچکی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس امر پر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ غیر سیاسی قوتوں خصوصاً آمرانہ حکومتوں نے پاکستان کی سلامتی‘ یکجہتی اور مفاد کے لئے جو حکمت عملی یا پالیسیاں بنائیں وہ نہ صرف غلط بلکہ ملک کےلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوئی ہیں۔ اُن کی خارجہ پالیسی درست تھی اور نہ داخلہ پالیسی اچھی تھی۔ ان قوتوں نے جس طرح کا پاکستان بنا دیا ہے اُس پاکستان میں کوئی رہنا نہیں چاہتا۔ قومی سیاسی قیادت کی سوچ اور رویوں میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔ اس تبدیلی کے تناظر میں دونوں کل جماعتی کانفرنسز کو دیکھنا چاہئے۔ ان سیاسی جماعتوں کے قائدین کو علم ہے کہ طالبان کون ہیں اور پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کس کے مفاد میں ہے۔ کانفرنسوں میں وہ سیاسی قائدین بھی موجود تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے حامی رہے ہیں اور وہ سیاسی رہنما بھی شریک تھے جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ آج بھی طالبان کو تعاون اور مدد فراہم کررہے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی گئی ہے کیونکہ کانفرنس میں وہ بھی سیاسی قائدین شامل تھے جن کے بے شمار ساتھی دہشت گردی کا شکار ہوئے اور جنہوں نے بہت زیادہ لاشیں اٹھائیں۔ پوری قومی سیاسی قیادت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کسی ”اسٹرٹیجک پلاننگ“ سے نہ جوڑا جائے۔ مسئلہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں امن قائم ہو‘ جسے ان کانفرنسوں کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ تجزیئے اور تبصرے بہت ہوں گے، قیام امن کے لئے رکاوٹیں بھی پیدا کی جائیں گی لیکن امن ہرحال میں قائم ہونا چاہئے۔ قیام امن کی اس خواہش کو مرنے نہیں دیا جائے۔ اگر کوئی قوم امن قائم کرلیتی ہے تو یہ اُس کی شکست نہیں بلکہ جنگ مسلط کرنے والوں کی شکست ہے۔ ہمیں قومی سیاسی قیادت کی نیت اور اجتماعی دانش پر یقین کرنا چاہئے۔ اگرچہ اندرون خانہ بہت سے معاملات ہوں گے لیکن اجتماعی دانش کے تحت کئے جانے والے فیصلوں کے نتائج ہمیشہ بہتر نکلتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کی سیاسی اور معاشی طاقت دنیا کے اُن ملکوں کے پاس ہے جہاں امن ہے۔ دنیا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے خواہشمند سامراجی ممالک صرف ایک فارمولے پر عمل کررہے ہیں، وہ فارمولا یہ ہے کہ ”بدامنی کو باہر دھکیل دو اور اپنے ہاں امن برقرار رکھو“۔ سرد جنگ کے خاتمے کے اور ”یک قطبی دنیا“ کے قیام کے بعد سامراجی طاقتوں نے بدامنی کے ہتھیار کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ”امریکہ اور برطانیہ نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اپنے ظاہری ملٹری آپریشنز کا بجٹ 50 فیصد کم کیا اور خفیہ آپریشنز کا بجٹ میں 500 فیصد یعنی 5 گنا اضافہ کیا۔ ان دو ملکوں کا یہ بجٹ اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کا ہے“۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان دو ملکوں کے خفیہ آپریشنز کی وجہ سے اُن کی دنیا بھر میں مداخلت ملکوں کی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ گلی اور محلے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ جنگجو گروپس تو اُن کے نزدیک بہت بڑی حیثیت کے حامل ہیں‘ سیاست‘ صحافت‘ ثقافت‘ سماجی خدمات اور دیگر شعبوں میں معمولی کردار ادا کرنے والے لوگ بھی اُن کے اہداف میں شامل ہیں۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ”اسٹرٹیجک فرینڈز“ کے ذریعے عالمی طاقتوں کو شکست دیں گے اور اس خطے میں بھارت پر بھی بالادستی حاصل کرلیں گے تو اُنہیں اپنے اس خیال پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ وہ ”اسٹرٹیجک فرینڈز“ بھی بڑی طاقتوں کے لکھے گئے اسکرپٹ کے مطابق اپنا اپنا کام کررہے ہوں گے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مخصوص فرقہ وارانہ اور نسلی سوچ کے حامل ”اسٹرٹیجک فرینڈز“ نے پاکستان کو دہشت گردی اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اُلٹا پاکستان کے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ پاکستان کے طاقتور حلقے مخصوص فرقہ وارانہ اور نسلی سوچ کے حامل ہیں اور وہ پاکستان کو ایک ”نسلی فرقہ وارانہ“ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ اس مخصوص سوچ کی وجہ سے پاکستان میں خونریزی اور دہشت گردی کو نہیں روکا جارہا ہے اور اُنہیں اس ملک میں تحفظ دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اس مخصوص اپروچ کی وجہ سے عالمی طاقتوں کے لئے بھی آسانی پیدا ہوگئی ہے کہ وہ پاکستان میں نسلی‘ لسانی اور فرقہ وارانہ تضادات کو مزید تیز کریں اور یہاں بدامنی پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کریں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کو بھلا دیں۔ غلطیاں ہم سب سے ہوئی ہوں گی،کسی سے زیادہ اور کسی سے کم۔ ہمیں خفیہ سامراجی نعرے ”بدامنی کو باہر دھکیلو“ کے بجائے صرف اپنے ملک میں امن قائم کرنا چاہئے۔ قومیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی ہیں اور غلط سوچ کو انتہائی جرا ¿ت کے ساتھ ترک کردیتی ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں جرمنی کے چار ٹکڑے ہونے کے بعد ایک ٹکڑے مغربی جرمنی نے جب اپنا آئین مرتب کیا تو اُس میں سب سے پہلا فقرہ یہ تحریر کیا ”نسل پرستی پھر کبھی نہیں“۔ پاکستان کے طاقتور حلقے بھی اپنی اسٹرٹیجی بدل سکتے ہیں۔ سیاسی قوتیں اپنی سوچ مکمل طور پر تبدیل کرچکی ہیں۔ امن بنیادی ضرورت ہے۔ امن کے لئے نظریات‘ حکمت عملیوں اور نظریہ ہائے ضرورت کی قربانی کوئی بہت بڑی قربانی نہیں ہے۔ اچھے طالبان بھی ہوں گے لیکن پاکستان کی سلامتی سب سے زیادہ اہم ہے۔ جس کا بس چلے‘ وہ اس ملک سے بھاگنا چاہتا ہے۔ ریاستی اداروں پر اعتماد ختم ہوگیا ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہئے کہ امریکہ اور اُس کی اتحادی افواج کے انخلاءکے بعد افغانستان میں پاکستان کے حامی حکومت بنائیں یا کوئی اور۔ پاکستان کو اپنے داخلی امن پر توجہ دینا چاہئے۔ لوگ لاشیں اُٹھا اُٹھا کر تھک گئے ہیں اور شدید عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔ پاکستان کی داخلی سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ہماری پالیسیاں دنیا بھر کی بدامنی کو پاکستان کے اندر سمیٹ کر لے آئی ہیں۔ اس صورتحال پر کوئی بھی فخر نہیں کرسکتا۔ قومی سیاسی قیادت نے اسی لئے قیام امن پر زور دیا ہے۔ جے یو آئی کی کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہر اُس عمل کی حمایت کی جائے گی جس سے ملک میں امن قائم ہو۔ طالبان سے مذاکرات بھی ایک عمل ہے۔ قیام امن کے لئے دیگر کئی عوامل ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے اے این پی کے اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ عسکریت پسند اور تشدد کا ناسور کسی ایک جماعت‘ صوبے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ ملک کی بقائ‘ ترقی اور خوشحالی کا انحصار اس مسئلے کو صحیح طور پر حل کرنے میں ہوگا اور جمہوری نظام کا استحکام مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک میں امن کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔ ان دونوں اعلامیوں میں صرف اور صرف امن کے قیام کو بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اے این پی کی اے پی سی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ”خون آلود دامن کو خون سے نہیں دھویا جاسکتا بلکہ پُرامن مذاکرات کے پانی سے خون کے دھبے دھوئے جاسکتے ہیں“۔ لہٰذا یہ واضح ہونا چاہئے کہ قوم نے طالبان سے مذاکرات کی بات کرکے ہار نہیں مانی ہے بلکہ وہ امن چاہتی ہے‘ جو طالبان سمیت سب کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں