• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال رواں کے ابتدائی دس دنوں میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ روز ہلاکت خیز بم دھماکے کی شکل میں دہشت گردی کی دوسری بڑی واردات کا وقوع پذیر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ امن دشمن عناصر ایک بار پھر اپنی مذموم سرگرمیاں تیز کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ تین روز پہلے لیاقت بازار نامی شہر کے معروف کاروباری مرکز کے قریب میکانگی روڈ پر ہونے والے دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور سیکورٹی فورسز کے ارکان سمیت 14لوگ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق تازہ کارروائی کے ہدف سیٹلائٹ ٹاؤن کے نواحی علاقے کی ایک مسجد اور اس سے متصل مدرسے کو اس وقت بنایا گیا جب وہاں مغرب کی جماعت ہو رہی تھی۔ صوبائی وزیر داخلہ نے دھماکے کے نتیجے میں ڈی ایس پی امان اللہ اور امام مسجد سمیت پندرہ افراد کے جاں بحق اور انیس کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ خود کش کارروائی تھی یا نصب کیے گئے بم کا دھماکا۔ ان امور کی وضاحت تحقیقات کے نتائج سامنے آنے پر ہی ہوگی جس کا سلسلہ حکومت اور پولیس کے ذرائع کے مطابق شروع کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کرنے لگی تھی کہ کوئی طالبان رہنما بھی اس واردات کا نشانہ بنے ہیں لیکن افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مسجد میں کسی طالبان رہنما کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی باتیں قطعی من گھڑت ہیں۔ ان کے ٹویٹر پیغام کے مطابق دھماکے کی جگہ پر نہ کوئی طالبان رہنما موجود تھا نہ وہاں کوئی اجلاس جاری تھا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مسجد میں بم دھماکے کا نشانہ بننے والے ڈی ایس پی امان اللہ پولیس ٹریننگ کالج سریاب روڈ میں فرائض انجام دے رہے تھے اور ایک ماہ قبل ان کے نوجوان بیٹے نجیب اللہ کو سریاب روڈ ہی پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ لہٰذا قوی امکان ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرنے کی وجہ سے اس واردات کا اصل ہدف ڈی ایس پی امان اللہ ہی ہوں اور دہشت گردوں نے انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے پوری مسجد کو ہدف بنا ڈالا ہو۔ امید ہے کہ تحقیقات میں اس پہلو کو پوری طرح پیش نظر رکھا جائے گا۔ صوبائی وزیر داخلہ کا یہ موقف کہ ’’شہر کے اندر بڑی مساجد کے حفاظتی انتظامات سخت ہیں لیکن گلی کوچوں کی مساجد میں سیکورٹی کا تھوڑا بہت مسئلہ ہوتا ہے، دشمن نے گلی کوچے کی اس مسجد کو اپنے لیے آسان ٹارگٹ سمجھ کر حملہ کیا‘‘ اگرچہ قابل فہم ہے لیکن یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ ایسے پولیس افسر کی حفاظت کے لیے قرار واقعی انتظامات کیوں نہیں کیے گئے جو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اہم خدمات انجام دینے کی بنا پر دہشت گردوں کی نگاہوں میں اس حد تک کھٹک رہا تھا کہ ایک ماہ پہلے ہی اس کا بیٹا ان کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کا ہدف بنایا جا چکا تھا۔ ڈی ایس پی امان اللہ شہید کو اس عرصے میں دہشت گرد عناصر کی طرف سے دھمکیوں کا ملنا عین قرین قیاس ہے اور تحقیقات میں اس کے شواہد مل جائیں تو بم دھماکے کے ذمہ داروں کا تعین آسان ہو جائے گا۔ وزیراعظم، آرمی چیف اور وزیراعلیٰ نے مسجد میں نماز باجماعت کے دوران بم دھماکے میں درجنوں افراد کے نشانہ بنائے جانے کو بجا طور پر ایسی مذموم کارروائی قرار دیا ہے جس کا ارتکاب کسی حقیقی مسلمان کی جانب سے ممکن نہیں۔ تحقیقات کے حوالے سے افواج پاکستان کے ترجمان کی فراہم کردہ یہ اطلاع اطمینان بخش ہے کہ فرنٹیر کور اور پولیس نے علاقے کو سیل کرکے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کردیا ہے، تاہم پچھلے چار ماہ میں کوئٹہ میں چونکہ دہشت گردی کی کم ازکم چار بڑی وارداتیں ہو چکی ہیں، اس لیے انسدادِ دہشت گردی کے انتظامات کا ازسر نو جائزہ لے کر انہیں مزید بہتر بنایا جانا وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔

تازہ ترین