آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
موجودہ وفاقی حکومت نے جو چند روز میں بلوچستان کا سنگین سیاسی مسئلہ حل کرنے میں ناکامی کا داغ لئے قصہ ماضی بننے والی ہے۔ برسراقتدار آکر پہلے تو ماضی کی غلطیوں کوتاہیوں اور زیادتیوں پر بلوچ عوام سے معافی مانگی۔ پھر ناراض بلوچوں کو ہتھیار ڈالنے کا ”قیمتی“ مشورہ دے کر مذاکرات کی پیشکش کی اور بار بار کی۔ حکومتی بزر جمہروں کا خیال تھا کہ بلوچ معافی مانگنے سے سب کچھ بھول کر ”راہ راست“ پر آجائیں گے اور دوڑے دوڑے آ کر مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائینگے۔ ساتھ ہی اپنے ہتھیار حکومت کے قدموں میں ڈال دینگے مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ بلوچ مزاحمتی تنظیمیں آج بھی پوری قوت سے سرگرم عمل ہیں اور ان کے سرمچار ریاستی مفادات، سیکورٹی فورسز کی چوکیوں، قافلوں اور حساس تنصیبات کے علاوہ ان لوگوں پر حملے کر رہے ہیں جنہیں وہ ریاست کے مخبر قرار دیتے ہیں۔ ان میں آباد کاروں کے علاوہ خود بلوچ بھی شامل ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2012ء میں بم دھماکوں راکٹ باری بارودی سرنگوں کے پھٹنے، دستی بموں کے حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور فائرنگ کے تقریباً ساڑھے آٹھ سو واقعات رونما ہوئے جن میں 683 عام لوگ اور سیکورٹی فورسز پولیس اور لیویز کے 183 اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ایک ہزار سے زائد زخمی اس کے علاوہ ہیں۔ مزاحمتی تنظیموں کے مطابق اس دوران تقریباًپانچ سو

بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں اور سیکڑوں افراد لاپتہ کر دیئے گئے۔ 88 لاپتہ افراد کی تصدیق تو حکومت بھی کر رہی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایسے درجنوں افراد بازیاب کرائے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد وشمار پچھلے سال دسمبر تک کے ہیں۔ 2013ء کے پہلے دو مہینوں میں ہونے والی قتل و غارت اس کے علاوہ ہے جس میں بڑا حصہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کا ہے جو علیحدگی پسندوں کے لئے ایک اضافی امداد ہے۔ حکومت بلوچستان نے اب مزاحمت کاروں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ پہاڑوں سے اتر آئیں اور مزاحمت کئے بغیر ہتھیار ڈال دیں تو انہیں دس دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا اور ہر طرح کے تحفظ کے علاوہ ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے 50 کروڑ روپے مختص کر دیئے گئے ہیں اور ان میں سے ساڑھے چار کروڑ روپے جاری بھی کئے جا چکے ہیں۔ اب یہ ساڑھے چار کروڑ کن لوگوں کو دیئے جائینگے اور باقی کے ساڑھے 45 کروڑ کن کے حصے میں آئینگے۔ اس کا پتہ تو وقت آنے پر ہی چلے گا لیکن ایک بات طے ہے۔ وہ یہ کہ جس طرح بلوچ مزاحمت کار اور ناراض لوگ مذاکرات کے لئے اسلام آباد نہیں پہنچے اسی طرح محض حکومت کے ایک اعلان پر وہ ہتھیار بھی نہیں ڈالیں گے۔ نہ وظیفے قبول کرینگے کیونکہ ایسا کرنا بلوچوں کی روایات، سماجی ضابطوں اور عمومی مزاج کی نفی ہے اور حکومت نے اب تک سیاسی محاذ پر ایسا کچھ نہیں کیا جو بلوچ عوام اور ان کی قیادت کے لئے قابل قبول ہو۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سارے بلوچ، پاکستان سے علیحدگی نہیں چاہتے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سارے بلوچ اپنی سرزمین پر حق حاکمیت اور اپنے وسائل پر مکمل اختیار چاہتے ہیں۔ یہ حق اور اختیار انہیں پاکستان کے اندر مل جائے تو وہ اس کے لئے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے ملک کی مقتدر قوتوں نے انہیں سینے سے لگانے کی بجائے ہمیشہ دیوار سے لگانے کی پالیسی اپنائی۔جبکہ انہیں اپنا بنانے کے لئے ضروری ہے کہ آبرومندانہ مذاکرات کے ذریعے ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔ بلوچ دھمکیوں کی زبان نہیں سمجھتے۔ تعلیم اور شعوروآگہی کے فروغ نے زمانے کے کئی اطوار بدل دیئے ہیں لیکن اس دور میں بھی بلوچ اپنی صدیوں پرانی قبائلی روایات اور سماجی ضابطوں کوحرزجاں بنائے ہوئے ہیں۔پگڑی اور تلوار ان کے روایتی لباس کا طرئہ امتیاز ہے۔ پگڑی، عزت، غیرت اور ننگ و ناموس کا نشان ہے جبکہ تلوار اس کے تحفظ کی علامت بلوچ سوشل کوڈ میں اسے لج اور میار کا نام دیا گیا ہے جسے زندگی اور موت جیسی اہمیت حاصل ہے۔ بلوچی ضرب المثل ہے کہ جہاں لج اور زمین کا مسئلہ آ جائے وہاں سرکٹوانے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ آتشیں اسلحہ ایجاد ہونے سے پہلے تلوار سب سے اہم ہتھیار تھا اور بلوچ سماج میں اس شخص کی تعظیم کی جاتی تھی جو تلوار بازی میں ماہر ہو اور ساتھ ہی مہمان نواز اور سخی بھی ہو۔ جنگوں میں کسی قبیلے کا جانباز مارا جائے تو شناخت کے لئے دیکھا جاتا تھا کہ تلوار کا زخم اس کے سینے پر ہے یا پیٹھ پر۔ اگر سینے پر ہو تو اس شخص کو اپنا قرار دے کر احترام سے اٹھایا جاتا تھا اور اگر زخم پیٹھ پر ہو تو کہا جاتا تھا کہ یہ شخص ہم میں سے نہیں۔ ہتھیار ڈالنے کو بزدلانہ فعل اور بے غیرتی تصور کیا جاتا تھا۔ اس کی بجائے قتل ہونے کو بہتر اور افضل سمجھا جاتا تھا۔ بلوچ کوڈ کا یہ اصول آج بھی بلوچوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ پہاڑوں پر لڑنے والوں کو وظیفوں اور مراعات کا لالچ دے کر ہتھیار ڈالنے پر مائل کیا جا سکتا ہے خوش فہمی اور سعی لاحاصل کے سوا کچھ نہیں۔
بلوچستان کی سیاسی اور مزاحمتی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے، بات چیت کو بارآور بنانے اور مسئلے کا قابل عمل اجتماعی حل تلاش کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ بلوچوں کے اس نفسیاتی پس منظر کو ملحوظ رکھا جائے۔ مناسب ہوگا کہ جس طرح آل پارٹیز کانفرنس نے خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے رسم و رواج کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان سے گرینڈ یا لویہ جرگہ کے ذریعے رابطے کا فیصلہ کیا ہے، اسی طرح بلوچستان کے سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لئے بلوچوں کے مزاج اور روایات کے مطابق قابل قبول طریق کار اختیار کیا جائے۔ آئندہ عام انتخابات میں ابھرنے والی قومی قیادت کو اس سلسلے میں مثبت اندازفکر کے ساتھ پیش قدمی کرنا ہوگی۔ یہ بھی خیال رہے کہ مسئلے کے حتمی حل میں بلوچستان کے پشتونوں کو بھی پوری طرح شریک کیا جائے۔ پشتون علیحدگی کی تحریک کا حصہ نہیں اس لئے مسئلہ بلوچستان کے حوالے سے بلوچوں کا ہی ذکر کیا جاتا ہے مگر آبادی کے لحاظ سے بلوچوں اور پشتونوں کی تعداد میں کوئی بڑا فرق نہیں۔ دونوں کے علاقے بھی دوچار شہروں کو چھوڑ کر الگ الگ ہیں۔ پھر ان کے مسائل و مطالبات میں بھی تضادات موجود ہیں۔ پشتونوں کی اکثریت اپنا الگ صوبہ چاہتی ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ جب تک ایسا نہیں ہوتا پشتونوں کو بلوچوں کے مساوی حقوق دیئے جائیں اسلئے مسئلے کے آخری حل میں بلوچوں اور پشتونوں میں حقوق و اختیارات کے حوالے سے توازن کی ضرورت ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں