آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عمان کے سلطان قابوس تقریباً پچاس سال حکمران رہنے کے بعد گزشتہ ہفتے انتقال کرگئے۔ وہ ایک انتہائی بدحال ملک کے، نہایت نامناسب طریقے سے حکمران بنے تھے۔ اپنے والد کو معزول کرکے انہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا اور تب جوان تھے جب حکومت سنبھالی۔

دیگرعرب ممالک کی طرح وہ بھی جمہوری طریقے سے حکمران نہیں بنے تھے اور سلطان کے نام سے بادشاہی کررہے تھے لیکن غلط طریقے سے حکمران بننے کے باوجود انہوں نے بڑی حد تک صحیح طریقے سے، عوام کی خوشی کو مدنظر رکھ کر حکمرانی کی اور عمان کو ایک خوشحال ملک بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اپنے سیاسی اور خاندانی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا اور نہ احتساب کے نام پر پکڑدھکڑ کی۔

وہ ہر مخالف کوگلے لگا کر اپنا بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ اپنے بدترین مخالف کو تلاش کرتے لیکن جیل میں ڈالنے کے بجائے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونِ ملک بھجواتے۔

یوں ان کے مخالفین کی نئی نسل نہ صرف ملک کے لئے اثاثہ بن جاتی بلکہ اپنے بڑوں کے برعکس ان کی گرویدہ بھی ہوجاتی۔ انہوں نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی اور آج ان کا ملک عرب ممالک کے تعلیم یافتہ ممالک میں شمار ہوتاہے۔

ان کا کمال دیکھ لیجئے کہ لباس، خوراک اور کلچر میں قدیم عرب روایات کو بھی زندہ رکھا لیکن قوم کو جدید اور تعلیم یافتہ بھی بنا دیا۔ عرب قبائلیت آج بھی دوسرے عرب ممالک کی بنسبت عمان میں نمایاں نظر آتی ہے لیکن تکبر اور اکھڑپن نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ بھی دیکھئے:اومان کے سلطان قابوس انتقال کرگئے


عمان عرب دنیا کا وہ ملک ہے جہاں بڑی تعداد میں پاکستانیوں (بالخصوص بلوچوں) انڈین، سری لنکن، بنگلہ دیشیوں اور افریقیوں کو شہریت دی گئی ہے لیکن وہاں عرب اور عجم کے مابین کوئی تنائو یا تفریق نظر نہیں آتی۔ مشرق وسطیٰ جیسے خطے کے وسط میں عمان، مغرب کی طرز پر انسانی تنوع کا ایک حسین مسکن بن گیا ہے ۔

عمان میں 86فی صد مسلمان،6اعشاریہ5فی صد عیسائی اور5 اعشاریہ5فی صد ہندو رہتے ہیں اور ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق اپنے دین پر عمل کرتا ہے ۔ ماضی قریب میں وہاں سے مذہبی بنیادوں پر کشمکش یا لڑائی جھگڑے کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی کیونکہ سلطان قابوس کی ریاست،مذہب کو سیاست اور سفارتکاری کے ٹول کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کررہی تھی۔

اسی طرح وہاں فقہی تنوع بھی کسی دوسرے عرب ملک کے بنسبت بہت زیادہ ہے۔وہاں واضح اکثریت ابازی فقہ کے حامل لوگوں پر مشتمل ہے۔ خود سلطان قابوس بھی ابازی تھے۔

اسی طرح وہاں کی آبادی تقریباً پانچ فی صد شیعہ ہے لیکن فقہی ہم آہنگی کا یہ عالم ہے کہ سب فقہ کے حامل مسلمان ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں جبکہ فقہی بنیادوں پرالگ مسجد بنانے کا کوئی تصور بھی نہیں۔

سب سے بڑا کارنامہ جو سلطان قابوس نے سرانجام دیا وہ ان کی غیرجانبدار خارجہ پالیسی تھی۔ مغربی ممالک کے ساتھ بھی بہترین تعلقات اور روس یا چین کے ساتھ بھی ۔ سعودی عرب سے بھی دوستی اور ایران سے بھی دوستی ۔ پاکستان سے بھی یاری اور ہندوستان سے بھی یاری۔

عمان کی سرحدیں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یمن سے ملی ہوئی ہیں۔تینوں ممالک کے ساتھ ماضی میں سرحدی تنازعات بھی رہے لیکن تینوں کے ساتھ انہوں نے سرحدی تنازعات تقریباً ان کی مرضی کے مطابق حل کئے کیونکہ ان کا اصول یہ تھا کہ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات درست نہ ہوں تو کوئی ملک امن سے نہیں رہ سکتا۔

یمن میں اتنے سالوں سے جنگ جاری ہے اور وہاں سے دونوں فریقوں کے زخمی انسانی اور مذہبی بنیادوں پر عمان میں علاج کے لئے بھی لائے جاتے ہیں لیکن یمن کے کسی فریق نے اس کی حکومت پر کبھی مداخلت یا جانبداری کا الزام نہیں لگایا۔

ایک زبان اور مذہب کے حامل یمن جیسے ملک کی جنگ کے اثرات سے اپنے ملک کو محفوظ رکھنا معمولی کارنامہ نہیں۔عرب ملک ہوکر بھی ایک طرف اگر عمان کی سرحدیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں تو دوسری طرف سمندر کے ساتھ ایران سے بھی اس کی سرحد بہت کم وقت کی مسافت پر واقع ہے ۔

ایران اور سعودیہ دونوں نے ماضی میں بھرپور کوشش کی ہے کہ عمان کو اپنے تنازعے میں ساتھی بنالیں لیکن سلطان قابوس نہ صرف اس سے دور رہے بلکہ دونوں ممالک ان کو یکساں اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ایک وقت پر عمان کی حکومت نے ایران اور امریکہ کے مابین رابطہ کارکا کام بھی کیا لیکن پھر بھی سعودی عرب کو ناراض نہیں ہونے دیا۔

عمان نے کئی تنازعات میں کئی فریقوں کے مابین ثالثی تو کی لیکن کسی تنازعے کا حصہ نہیں بنا۔ اس کا اندازہ سلطان قابوس کے جنازے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں ایران کے نمائندے بھی تھے اور سعودی حکومت کے بھی، جس میں اخوان المسلمون کے لوگ بھی شریک تھے اور ان کے قاتل سیسی کے بھی، جس میں امریکہ اور یورپ کی حکومتوں کی بھی نمائندگی تھی اور کم وبیش تمام عرب ممالک کی بھی۔

عمان کے پڑوس میں ایران عراق جنگ ہوئی لیکن سلطان قابوس نے اس کے اثرات سے اپنے ملک کو محفوظ رکھا۔ ایران سے عمان کی دوستی ہے اور وہاں شیعہ آبادی بھی بڑی تعداد میں رہتی ہے ۔

دوسری طرف امریکہ عمان کو علاقے میں اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے لیکن امریکہ اور ایران کے تنازعے میں عمان کا کوئی کردار ہے اور نہ کوئی بھونچال آیا ہوا ہے کہ دونوں کی جنگ سے عمان میں بھی قیامت برپا ہوجائے گی۔

سوال یہ ہے کہ اگر عمان جیسا ملک اپنے آپ کو ایران اور سعودی عرب کے تنازعے میں اپنے آپ کو مکمل غیرجانبدار رکھ سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں رکھ سکتا؟۔

اسی طرح اگر عمان جیسا ملک اپنے آپ کو پڑوسی ملک یمن میں جاری جنگ کے اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے تو پاکستان افغانستان کے حالات سے کیوں نہیں رکھ سکتا؟ اسی طرح اگر عمان جیسے ملک میں شیعہ اور سنی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں اور اگر وہاں کے سنی سعودی عرب کے حق میں اور شیعہ ایران کے حق میں مظاہرے نہیں کررہے ہیں تو ہمارے ہاں یہ سلسلہ کیوں بند نہیں ہوسکتا۔

اگر ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے سلطان قابوس اتنے جائز کام کرسکتے ہیں تو ہمارے حکمران کیوں نہیں؟

ادارتی صفحہ سے مزید