آپ آف لائن ہیں
جمعہ16؍ذی الحج 1441ھ7؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوشل میڈیا پر کم لائیکس کی وجہ جانتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر کم لائیکس کی وجہ جانتے ہیں؟


سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں فالوور ہونے کے باوجود آپ کی تصاویر، ویڈیوز یا پھر اسٹیٹس کو صرف گھر والے یا پھر قربت رکھنے والے لوگ ہی لائیک کرتے ہیں جبکہ دیگر افراد آپ کی فرینڈ لسٹ میں ہونے کے باوجود آپ کے اسٹیٹس کو پسند نہیں کرتے۔

اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ان کے بارے میں پتہ لگانے کے لیے نیو جرسی کی رووان یونیورسٹی کے محققین نے ایک تحقیق کی۔

اپنی اس تحقیق میں انہوں نے یہ پتا لگانے کی کوشش کی کہ کس طرح کی تصاویر یا ویڈیوز یا پھر اسٹیٹس پر لوگ مائل ہوتے ہیں اور انہیں پسند کرتے اور شیئر کرتے ہیں جس کی وجہ سے فرینڈ لسٹ مزید بہتر ہوتی جاتی ہے۔

محققین نے اپنی تحقیق میں اخذ کیا کہ ایسے افراد جو اپنی تصاویر میں فلٹرز کا استعمال کرتے ہیں، اُنہیں ایسی تصاویر سے کم لائیکس ملتے ہیں جو بغیر کسی فلٹر کے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تصاویر پر زیادہ سے زیادہ لائیکس ملیں، تو اس میں اپنے ذاتی نوعیت کے کام ، مصروفیات اور دلچسپی کے کام کے دوران تصاویر بھی لگائیں۔

ایک تحقیق دان ڈاکٹر سیویون ہونگ کا کہنا تھا کہ ضرورت سے زائد فلٹرز کا استعمال اور اپنے آپ کو اچھے سے اچھا دکھانا صرف آپ کی خواہش ہوسکتی ہے لیکن یہی دوسروں کو آپ کی تصویر یا ویڈیو کو لائیک کرنے اور اس پر بات کرنے سے دور کر دیتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ تحقیقی مقالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خود کو بناکر دکھانے سے لوگ زیادہ متاثر نہیں ہوتے اور اس پر بات کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ آپ کی فلٹر ہوئی  تصویر کو لوگ پسند نہیں کرتے اور اسے جعلی سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر سیویون ہونگ کہتی ہیں کہ صرف حقیقی چیزوں اور تصویر کی جانب ہی آپ کے دوست مائل ہوتے ہیں۔

محققین کا دعویٰ ہے کہ سوشل میڈیا پر لائیکس اور تصاویر یا ویڈیوز پر تبصرہ کرنے اور اس کی ناپسندیدگی سے متعلق یہ پہلی ریسرچ ہے۔

اپنی تحقیق میں محققین نے ایک ہزار 8 سو 73 سیلفیز کو اپنے مقالے کا حصہ بنایا اور بعد میں ان پر آنے والے لائیکس اور تبصروں کی جانچ کی۔

انہوں نے اپنے نتیجے میں یہ بات اخذ کی کہ جو تصاویر بغیر کسی فلٹر کے شائع کی گئیں انہیں زیادہ لوگوں نے پسند کیا اور اس پر تبصرہ کیا جبکہ ایسی سیلفیز جن پر فلٹر کا استعمال کیا گیا تھا انہیں کم پسند کیا گیا۔

اسی طرح پسند آنے والی سیلفیز کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں نے اپنے کام کے دوران یہ سیلفی لیں، انہیں اور بھی زیادہ پسند کیا گیا۔

محققین نے تجویز پیش کی ہے کہ سوشل میڈیا صارفین اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو شیئر کرنے سے قبل احتیاط سے کام لیں اور جائزہ لیں کہ کیا یہ ان کی تصویر اتنی پسند کی جاسکتی ہے جتنا وہ سوچ رہے ہیں؟

ڈاکٹر سیویون ہونگ کہتی ہیں کہ چونکہ یہ سیلفیز اپنی تعریف میں آپ کی شخصیت کی نمائندگی کر رہی ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اس میں آپ اپنی ذاتی معلومات جیسے آپ کا کام یا آپ کے ارد گرد کا ماحول بھی لوگوں کو بتائیں۔

اس تحقیق کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کا انتخاب کیا گیا تھا جبکہ یہ تحقیق کمپیوٹرز ان ہیومن بیہیویئر جرنل میں بھی شائع ہوئی۔

خاص رپورٹ سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید