آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
سیاست دانوں کو انتخابات کا بخار چڑھا ہوا ہے الیکشن جیتنے کےلئے طرح طرح کے داﺅ پیچ ہو رہے ہیں جو پارٹی یہ دیکھتی ہے کہ دوسری سیاسی پارٹی اس کے خلاف محاذ کھڑا کر رہی ہے، تو وہ اس پارٹی کو نیچا دکھانے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے سیاست کو سیاست ہی رہنے دینا چاہئے اس کو مخصوص ذاتی مفادات کا، تعصبات کو پھیلانے کا اور ان کو کامیابی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔ یہاں ہمارے ملک میں یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ سیاست کو دشمنی تک لے جایا جا رہا ہے، سیاست داں سیاست دانوں کے خلاف نفرتیں پھیلا رہے ہیں ایک مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا جمہوریت کا نظام اس کی اقدار ایک مہذب معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، جمہوریت میں یا کوئی اور نظام ہی کیوں نہ ہو اگر وہاں آئین و قانون کی عملداری نہیں ہو گی تو نہ ایک محترم معاشرہ وجود میں آئے گا نہ وہاں امن و امان قائم ہوگا نہ وہاں انسانی حقوق کا احترام ہوگا۔
جمہوریت نمبرز کا گیم ہے اعداد و شمار کا جھمیلا ہے، جدھر زیادہ لوگ ہوں گے وہ حق اور سچ کو پس پشت ڈال دیں گے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے کہ اس میں ایک کریمنل، ایک اوباش، ایک دھوکے باز، ایک جعلی ڈگری رکھنے والا، ایک برا آدمی، ایک کرپٹ آدمی سب ووٹ دے سکتا ہے نہ صرف ووٹ دے سکتا ہے بلکہ قیادت بھی سنبھال سکتا ہے۔پاکستان میں میڈیا

اتنا طاقتور اور آزاد ہو گیا ہے کہ سیاست دانوں کا کوئی عیب، کوئی جھوٹ، کسی قسم کا کرپشن، عوام سے نہیں چھپ سکتا۔ گزشتہ پانچ سال میں میڈیا نے عوام میں سیاسی اور شعوری بیداری پیدا کرنے میں بے مثال کارکردگی کا ثبوت دیا ہے لیکن بیداری اور شعور دینا اپنی جگہ ہے، ووٹرز میں بیداری کو اس جانکاری کے حق کو ملک کی بہتری کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کا مرحلہ پست ہے وہ مجبوریوں کے تلے دبا ہوا ہے وہ جانتا ہے جو اس سے ووٹ مانگ رہا ہے وہ کرپٹ ہے پہلے بھی عوام کا اور ملک کا سرمایہ کھا گیا ہے لیکن وہ اس کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتا اس لئے کہ اس کو برادری کے ساتھ رہنا ہے وہ برادری کا سربراہ ہے اگر وہ اسے ووٹ نہیں دے گا تو اس کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔ کوئی اپنے سردار کے خلاف، جاگیردار کے خلاف، سرمایہ دار کے خلاف ووٹ دینے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی نہیں آسکتی شفاف اور غیر جانبدار الیکشن ایک خواب ہیں۔الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کتنا ہی ایماندار آدمی کیوں نہ ہو وہ Mindset تبدیل نہیں کر سکتا۔ پھر یہ کہ اس پر بھی دباﺅ بڑھایا جا رہا ہے الیکشن کمیشن کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اخبارات میں کیا کچھ نہیں شائع ہو رہا۔ میڈیا نے ہر بند اور ڈھکی چھپی بات عوام کے سامنے رکھ دی ہے سیاست داں وہ مسائل جو انہیں پارلیمان میں حل کرناچاہیئں عدالتوں کے ذریعے حل کرانا چاہتے ہیں سیاسی مسائل کا حل عدالت نہیں ہے جب ایسا ہوتا ہے تو عدالتوں پر انگلیاں اٹھتی ہیں، اس لئے یہ روش ختم ہونی چاہئے۔جس طرح اب الیکشن کمیشن پر اعتراضات کئے جا رہے ہیں الیکشن کمیشن کو بلاوجہ مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہاں سب ناسمجھ اور آئین کو نہ سمجھنے والے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے ایشو پر الیکشن کمیشن دباﺅ پڑنے پر اپنے فیصلے سے ہٹ گیا، یہ ایک سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کا تبصرہ ہے کیا اس طرح آزاد خود مختار الیکشن کمیشن آزادی سے اور غیر جانبداری سے فرائض انجام دے سکے گا۔ صرف یہ نہیں اب ادارے اداروں پر تنقید کر رہے ہیں الیکشن کمیشن کے بارے میں سپریم کورٹ کے ریمارکس روزنامہ جنگ کی 3 مارچ کی بڑی سرخی ہے ۔ ”نئی حلقہ بندیاں مردم شماری کے بغیر بھی ہو سکتی ہیں الیکشن کمیشن بظاہر عدالتی حکم پر عمل نہیں کرنا چاہتا“ اسی صفحے پر آئینی ماہرین کے حوالے سے بھی ایک خبر ہے جس میں آئینی ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ”الیکشن کمیشن توہین عدالت کا مرتکب ہوا ہے۔“
جس قسم کے بیانات الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کے عزت و وقار ان کی بے داغ شہرت اور ایمانداری اور آئینی سوجھ بوجھ کیلئے چیلنج بن رہے ہیں اس کے نتائج ساری سیاسی بساط کو الٹ سکتے ہیں۔ 18 کروڑ کی آبادی میں ایک بھی غیرجانبدار اور ایماندار شخص نہیں مل رہا جس کو وزیراعظم بنایا جا سکے اور اس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ جو بھی وزیراعظم بنے گا اسے مک مکا کا نتیجہ قرار دیا جائے گا۔ ابتدا میں یہ صورت حال ہے تو الیکشن کے انعقاد کے بعد کیا ہوگا۔ جس طرح کچھ لوگ لہجے بدل بدل کر الیکشن کمیشن کے خلاف بول رہے ہیں اس کا ردعمل غیر متوقع بھی ہو سکتا ہے۔ جس زمانے میں معراج خالد کو عبوری وزیراعظم بنایا گیا تھا تو فخرالدین جی ابراہیم نے آئینی اختلاف کی بنا پر وزیر قانون کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا پھر ایسا ہی ایک دفعہ انہوں نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا دونوں بار آئینی اختلاف وجہ بنا۔
ہمیں صبر و ضبط اور برداشت سے کام لینا چاہئے اگر اس دفعہ ایسا واقعہ رونما ہوا تو آئینی پیچیدگیاں اتنی ہو جائیں گی کہ ریاست کے ادارے اپنا وقار قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ جس طرح الیکشن کمیشن کو لہجے بدل بدل کر ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اس کے نتائج اچھے نہیں ہو سکتے۔ مخصوص مفادات کی خاطر الیکشن کمیشن کو دیوار سے لگانے کا عمل ختم ہونا چاہئے اگر الیکشن کمیشن کا ردعمل بھی اسی طرح سامنے آیا یا الیکشن کمشنر نے اپنی عزت و وقار آئینی حیثیت کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے استعفیٰ دیا تو تصور نہیں کیا جا سکتا کہ کیا ہو سکتا ہے؟

ادارتی صفحہ سے مزید