آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ16؍جماد ی الثانی 1440ھ 22؍ فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یک ایسے موقع پر جبکہ امریکہ افغانستان سے ”الٹے پاﺅں“ واپس ہورہا ہے۔یہ تاریخی لمحات ہیں پاکستان کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہئے۔ افغانستان، ایران، ترکی اور چین سے اپنے تعلقات مزید مضبوط بنانے چاہئیں۔ کابل میں ”پاکستان دوست“حکومت کا قیام پاکستان کے مفاد میں ہے۔2014کے آخرتک افغانستان سے امریکی و نیٹو فورسز کے انخلاءکے حوالے سے پاکستان میں اندرونی مسائل و چیلنجز کو بہتر انداز میں نمٹنے کی ضرورت ہے۔کوئٹہ کے واقعات کے بعد کراچی بم دھماکہ ایک ہی سلسلہ کی کڑیا ں ہیں۔قابل ذکرامر یہ ہے کہ گوادر پورٹ اورایران، پاکستان گیس معاہدے کے بعدملک میں دہشتگردی کی لہرمیں تیزی آئی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض بیرونی عناصرپاکستان میںگوادر پورٹ اورایران،پاکستان معاہدے کو کامیاب ہوتادیکھنا نہیں چاہتے۔ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور جعلی ووٹر لسٹوں کے خاتمے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ابھی تک عملدرآمدنہ ہونا بھی لمحہ فکریہ ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے بے داغ کرداراور نیک نامی کے باوجود کراچی میں سپریم کورٹ کے فیصلے پرعملدرآمد نہ ہونا ان کی کارکردگی کے حوالے سے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کو کراچی میںنئی حلقہ بندیوں اور جعلی ووٹر لسٹوں کے خاتمے کےلئے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پرفوری عمل کو یقینی بنانا

چاہئے۔ اگر اس فیصلے پرعمل نہ ہوسکا توملک میںشفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقادایک خواب بن کر رہ جائے گا۔پاکستان سے محبت کے جرم میںاپوزیشن کے رہنماﺅں خصوصاً بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو نشانہ ستم بنایا جارہا ہے۔بھارت جوکہ 1971میں مشرقی پاکستان توڑنے کا مرکزی کردار ہے آج اسی کی شہ پر بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت جماعت اسلامی کے رہنماﺅں اور کارکنوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑتوڑ رہی ہے۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ہزاروں کارکن اس وقت جیلوں میں ہیں۔خود ساختہ عالمی جرائم ٹریبونل کے ذریعے بی این پی اور جماعت کے رہنماﺅں کو عمر قید اور سزائے موت کی سزائیں سنائی جارہی ہےں۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے 1971ءپاکستان کی محبت میںبھارت کی پروردہ ”مکتی باہنی“کی سازشوںکا مقابلہ کیا تھا۔حکومت پاکستان ‘پاکستانی فوج اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ بھارت کی شہ پر بنگلہ دیش میں ہونے والے ان مظالم کوبندکرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس OIC کو بھی بنگلہ دیش حکومت کے ان مظالم کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔عالم اسلام کو بھارت کی بنگلہ دیش اور افغانستان میں سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہئے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت،امریکہ اور اسرائیل جنوبی ایشیا کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں پرانسانیت سوز مظالم سے توجہ ہٹانے کےلئے افغانستان اور بنگلہ دیش میں ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔”مشرقی تیمور“اور ”جنوبی سوڈان“والوں نے بھی آزاد ہونے کے بعد اپنے عوام اور مخالفین کے ساتھ آگ و خون کا وہ کھیل نہیں کھیلا جو بنگلہ دیش میں ہورہا ہے۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں انسانی حقوق کی پامالی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں اور اداروں کو بنگلہ دیش میں سرکاری مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔برادر اسلامی ملک ترکی نے سب سے پہلے بنگلہ دیش میں حکومتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔ ترکی نے اس سے قبل برما میں اراکان پر مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔پاکستانی حکومت اور عوام کو بھی دکھ اور آزمائش کی اس گھڑ ی میںبنگلہ دیشی مظلوم عوام کو تنہانہیں چھوڑنا چاہئے۔مفسر قرآن اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے ممتاز رہنما دلاور حسین سعیدی کو بھی نام نہاد جنگی جرائم ٹربیونل نے سزائے موت سنادی ہے۔اس سے قبل مولانا ابوالکلام آزاد کو سزائے موت اورمولانا عبدالقادر کو عمر قید کی سزا سناکر بنگلہ دیشی حکومت نے قانون اور انصاف کی دھجیاں اڑائیں۔ان سزاﺅں کے خلاف پورے بنگلہ دیش میں عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔زبردست احتجاج جاری ہے اس کے باوجودبھارت کو خوش کرنے، پاکستا ن کو بدنام کرنے کے لئے1971ءمیںپاکستان کادفاع کرنے والے لوگوں کو”مجرم“بناکر سیاسی طور پر انتقامی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔بنگلہ دیشی حکومت کو بھارتی آشیربادپرظلم کی اس سیاہ رات کوختم کرنا چاہئے۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
وزیر داخلہ رحمان ملک نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی سے اسلام آباد میں ملاقات کے موقع پر یقین دہانی کرائی ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے امریکی صدر اوباما سے رحم کی اپیل کرنا ہوگی۔رحمان ملک نے کہاکہ ” انہوں نے صدر اوباما اور ہیلری کلنٹن کے ساتھ عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا تھا۔اب وہ نئے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے اس سلسلہ میں بات کریں گے۔ تاہم اس کیس میں اصل کردار پاکستانی وزارت خارجہ نے ادا کرنا ہے۔مجھ سے اس حوالے سے مشورہ لیا جاتا ہے“۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ میں86سال قید کی سزا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔عافیہ صدیقی کی وکیل صفائی کے مطابق عافیہ کے خلاف امریکی حکومت کا کیس انتہائی ناقص اور کمزور تھا۔اگر پاکستانی حکومت اور عالم اسلام کے حکمران تدبراورجرا ¿ت کا مظاہرہ کرتے تو عافیہ صدیقی کی رہائی یقینی تھی۔ اب بھی چیف جنرل کیانی اور پاکستانی حکومت امریکہ سے تقاضا کریں تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہا ہوکر پاکستان واپس آسکتی ہیں۔ موجودہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرے اور امریکی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات کرے۔یہ گوادرپورٹ،ایران گیس پائپ لائن کے بعدڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی تیسرا ‘اہم کام ہوگا جو حکومت کے لئے کچھ ”نیک نامی“کا باعث بن سکے گا۔جماعت اسلا می کو پاکستان میں مصر میں اخوان المسلمون کی طرح انتخابی نشان ترازو ملا ہے جو کہ خوش آئند اور نیک شگون ہے۔ جماعت اسلامی ملک کی ایسی جماعت ہے جو دیانتدار، نڈر، جرات مند اور بے خوف قیادت رکھتی ہے اور یہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتی ہے۔جوں جوں الیکشن قریب آرہے ہیں ملک میں سیاسی جوش و خرش میں اضافہ ہورہاہے۔ناامیدی اور بے یقینی کے بادل چھٹتے چلے جارہے ہیں۔16مارچ تک عبوری سیٹ اپ کا اعلان متوقع ہے۔شنید ہے کہ مئی میں انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے گا۔قدرت نے ایک اور موقع پاکستانی عوام کو دیا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں صاف ستھرے کردار کے حامل دیانتدار اور امانتدار افراد کو منتخب کریں۔اس اہم موقع کو ہمیں نہیں گنوانا چاہئے۔یہ قوم کا امتحان ہے کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے میں اپنا کردار اداکرے تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت کا قیام عمل میں آسکے۔ نتخابات اور اصلاحات کا عمل ساتھ ساتھ چلنا چاہئے۔آئندہ عام انتخابات ہی پاکستان میں اصلاحات کے عمل کا آغاز ہوں گے۔
پہلے ہی قبائلی علاقوں، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں امریکی بلیک واٹر اور بھارتی خفیہ تنظیم ”را“نے بدامنی پھیلائی ہوئی ہے۔لندن میں سہ فریقی کانفرنس میں بھی افغانستان میں امن کے قیام اور امریکی و نیٹو فورسز کے محفوظ انخلاءکے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ امریکنائزیشن ہے طالبانائزیشن نہیں ہے۔ پاکستان سے اگر امریکنائزیشن کو ختم کردیا جائے تو ”طالبانائزیشن“کوئی ایشو نہیں رہے گا۔پاکستان میںخود کش حملوں کے پیچھے امریکی بلیک واٹر تنظیم اورر یمنڈ ڈیوس نیٹ ورک ہے جو پاکستان میں بدامنی پھیلا کراپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔مجاہد ملت قاضی حسین احمدؒ پرخود کش حملہ اور دیگرواقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ نائن الیون کے خود ساختہ ڈرامے کے بعد نیو ورلڈ آرڈر کو دنیا میں پروان چڑھانے کے لئے امریکہ کی افغانستان اور عراق پر چڑھائی،لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہی مسلمان ممالک میں امریکہ مخالف شدید رد عمل کی وجوہات ہیں۔آج محب وطن قبائلی جو ہمارادفاعی حصار ہےں انہیں حکومت پاکستان کی خاموش رضامندی سے ”ڈرون حملوں“کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔نہ جانے کتنی ”ملالائیںان ڈرون حملوں میں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کو بھی امریکی ڈرون حملوں کو روکنے کے لئے بھرپور اقدامات کرنے چاہئےں۔افغانستان میں جب تک امریکہ موجود ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیںرکتے اس وقت تک ملک میں امن و امان کاقیام ممکن نہیں ہے کراچی،فاٹا اور بلوچستان میں امن امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔پاکستان سے بد امنی کا خاتمہ، گوادر بندرگاہ، ایران، پاکستان گیس معاہدے اور تعلیم اور صحت کے منصوبوں میں مناسب پیش رفت سے ہی ہم ترقی کی منازل طے کرسکتے ہیں۔ا۔مسلم دنیا کویورپ کی طرح مشترکہ کرنسی اور اسلامی یونین کی تشکیل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اگر اسلامی ممالک باہمی تجارت کو فروغ دیں تو وہ وقت دورنہیں جب دنیا پرمسلم ممالک کی معیشت کا غلبہ ہوگا۔اسلامی ممالک کی معیشت مستحکم ہوگی توکوئی بیرونی طاقت انہیں محکوم نہیں بناسکے گی اور انشاءاللہ کشمیر وفلسطین کی آزادی کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں