• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں ذکے باوجود زوال پذیر ہے۔ معاشرے کی اصل قوت اور روح اس کا باطنی اتحاد اور امن ہوتا ہے۔ جو معاشرہ اندرونی طور پر توڑ پھوڑ اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہو جائے وہ نہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے اور نہ ہی اپنی توانائیوں سے زندگی کا آب دوام کشید کر سکتا ہے۔ اختلافات، فرقہ واریت اور اندرونی تقسیم دنیا کے ہر معاشرے میں پائی جاتی ہے لیکن ترقی یافتہ اور متوازن معاشروں میں ان اختلافات کو تحمل اور برداشت کے سانچوں میں ڈھال لیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے کی زوال پذیری کی بڑی وجہ تحمل اور برداشت کا بتدریج زوال اور باطنی تقسیم کا بتدریج عروج ہے۔ باطنی اختلافات اور تقسیم در تقسیم کی عملی تباہیوں کے باوجود اگر ابھی تک پاکستانی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اس کے نوجوان تعلیمی میدان میں عالمی سطح پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں اور پاکستانی مختلف شعبوں میں قوم کا نام بلند کر رہے ہیں تو اس سے اندازہ کیجئے کہ پاکستانی معاشرہ کس قدر صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ اگر اسے اتحاد ، باہمی وحدت ، امن اور تحمل نصیب ہو جائے تو یہ معاشرہ کس تیز رفتاری سے ترقی کی منزلیں طے کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ معاشرے کی اس وحدت اور باطنی اتحاد کو قائم کرنا یا بحال کرنا ہماری سیاسی قیادت کے بس کا روگ نہیں۔ فرقہ واریت اور نفرتوں کے بیج اب پک کر تناور درخت بن چکے ہیں انہیں جڑوں سے کاٹنا اور معاشرے کا امن بحال کرنا ان حکومتوں کے بس کا کھیل نہیں رہا۔ اگر یہ اس قابل ہوتے تو گزشتہ پانچ برسوں میں اس حوالے سے بہتری کی صورت پیدا کرتے۔ اگرچہ میں کمال اتاترک کا کوئی بڑا فین نہیںلیکن میرا دل کہتا ہے کہ پاکستانی معاشرے کو فرقہ واریت، دہشت گردی اور اندرونی تقسیم سے نکالنے کے لئے اب پاکستان کو ایک کمال اتاترک کی ضرورت ہے۔ میرے نزدیک مذہبی منافرت، فرقہ واریت اور کشت و خون کے علاوہ پاکستان کا دوسرا اہم مسئلہ کرپشن ہے جس نے ہمارے قومی خزانے اور ہمارے وسائل کو دیمک کی مانند چاٹ لیا ہے۔ قومی خزانے اور وسائل کے ضیاع کو روکے بغیر اور حکومتی آمدنی بڑھائے بغیر ملک معاشی طور پر ترقی کر سکتا ہے نہ بین الاقوامی اداروں کی غلامی سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین کی کمی ہے اور نہ کرپشن کے تدارک کے لئے حکومتی اداروں کی قلت ہے۔ مسئلہ ہے کارکردگی، نیک نیتی اور ان قوانین پر عملدرآمد کا ۔ جس نظام میں بدنیتی، بے ایمانی، اقربا پروری، دولت کی ہوس اور لاقانونیت سرایت کر جائے وہاں قوانین محض سجاوٹی کھلونے بن کر رہ جاتے ہیں جنہیں صرف کمزوروں اور سیاسی مخالفین کو پھانسنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نظام کی خرابی نہیں کیونکہ نظام قوانین کا مجموعہ اور قوانین کا قلعہ ہوتا ہے۔ اصل خرابی نظام چلانے والے ہیں جو قوانین پر عملدرآمد نہیں ہونے دیتے اور سیاسی مقاصد کے لئے نہ صرف مذہبی نفرت پھیلانے والے سوداگروں کی سرپرستی کرتے ہیں بلکہ کرپشن کے سمندر میں بھی ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہی حال کبھی ترکی کا تھا، یہی حال کبھی چین کا تھا لیکن اَن گنت ممالک نے یہ مسئلہ سخت گیر اور ایماندار قیادت کے ذریعے حل کیا۔ اس حوالے سے میرے ساتھ عجیب حادثہ اور واردات ہوتی ہے۔ دل کہتا ہے کہ اب کینسر پک چکا، اس کے آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔ ذہن کہتا ہے اس زہر کا تریاق جمہوریت میں ڈھونڈو کہ صرف یہی علاج دیرپا ہوتا ہے۔ دیکھئے وقت کیا فیصلہ کرتا ہے؟ اور ہاں ! ہم بھی دلچسپ مسلمان ہیں کہ اپنے ہی مذہب اور عقیدے کو بدنام کر رہے ہیں۔ ہمارے اپنے روشن خیال دانشور ہوں یا مغربی و امریکی میڈیا، وہ کوئٹہ، کراچی اور بادامی باغ لاہور تک کے واقعات کے لئے مذہب کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ اس پر بیرونی سازش اور انتخابات ملتوی کروانے کے منصوبے کا غلاف چڑھاتے ہیں۔ حقیقت سامنے آ چکی کہ کوئٹہ اور کراچی کے واقعات فرقہ پرست لشکروں کے افسوسناک کارنامے تھے اور بادامی باغ لاہور کا دلسوز حادثہ چند افراد کی ذاتی لڑائی اور انتقام کا شاخسانہ ہے لیکن سب سے بڑھ کر، کوئٹہ ہو کراچی ہو یا لاہور یہ حکومتی ناکامی اور انتظامیہ کی نااہلی و ناکامی کے شاہکار تھے۔ ثابت ہو چکا کہ عباس ٹاﺅن کراچی کے بارے خفیہ ادارے نے دو ہفتے پہلے وارننگ رپورٹ بھجوا دی تھی لیکن حکومتی مشینری اس آفت کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ لاہور کا واقعہ تو اور بھی ہوشربا ہے۔ ایک دن پہلے جوزف ٹاﺅن میں دو ہزار احتجاجی حضرات آئے اور انہوں نے نہ صرف توہین رسالت کے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کیا بلکہ توڑ پھوڑ بھی کی۔ خوف کے مارے مسیحی برادری کے لوگ گھر بار چھوڑ کر چلے گئے۔ ہفتہ کے دن اخبارات میں اس کی خبر بھی چھپی لیکن اس کے باوجود پنجاب کی انتظامیہ نیند سے بیدار نہ ہوئی اور اس آبادی کی حفاظت کے لئے حکمت عملی نہ بنائی۔ اسی دن ہزاروں لوگوں نے سینکڑوں مکانات جلا ڈالے اور گھر لوٹ لئے۔ پولیس اور پنجاب کی ”حاضر دماغ“ حکومت تماشا دیکھتی رہی۔ یہ نہ کوئی بیرونی سازش تھی نہ انتخابات ملتوی کروانے کا منصوبہ اور نہ ہی کسی جہاد ی یا دہشت گرد گروہ کا کارنامہ۔
سوچتا ہوں کہ ہم بھی دلچسپ مسلمان ہیں کہ اپنے ہی مذہب کی بدنامی کا باعث ہیں۔ حرمت رسول پر میری جان قربان، میرا سب کچھ قربان لیکن ہم تو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اول تو پاکستان میں ہونے والے اکثر گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعات کے پس پردہ ذاتی اور مفادانہ محرکات کارفرما تھے۔ دوم یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ہم مذہبی اقلیتوں سے اس طرح کا سلوک نہیں کرتے جس کی مثالیں ریاست مدینہ میں ملتی اور ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر مسلموں سے میثاقِ مدینہ یا میثاق النبوی طے کرنے کے بعد غیر مسلموں کو ریاست مدینہ کی سیاسی وحدت کا حصہ قرار دیا اور اُنہیں برابر کے حقوق دیئے جس کی تصدیق ڈاکٹر حمید اللہ جیسے عالمی اسلامی سکالر کی تحریروں سے کی جا سکتی ہے۔ میثاقِ مدینہ نقوش کے رسول نمبر جلد دوم اور رفیق ڈوگر کی کتاب الامین جلد دوم میں پوری طرح دیا گیا ہے۔ اسے پڑھنے سے احساس ہوتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے پاکستانی مسلمانوں کا رویہ میثاق مدینہ کی روح کے خلاف ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قصور اسلام کا نہیں، مسلمانوں کا ہے۔ علامہ جاوید القادری نے منظوم سیرت نگاری کی ایک منفرد کاوش کی ہے۔ میثاق مدینہ کے حوالے سے ان کے صرف تین اشعار ملاحظہ فرمایئے
پہلے کی طرح ہی مذہبی طور پر
ہوں گے آزادی سے کاملاً بہرہ ور
سارے اہل کتاب اور یہودی عوام
خزرج و اوس کے سارے خاص و عام
رکھیں گے دوستانہ مراسم سدا
آئندہ سب فریقین اب باخدا
رہا تحمل، برداشت اور مذہبی فراخدلی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلافت راشد ہ کا دور ہزاروں روشن مثالوں سے منور ہے۔ یاد کرو جب فتح بیت المقدس کے عظیم الشان موقع پر رومیوں کی خواہش کے مطابق حضرت فاروق اعظم ؓ رومیوں سے شہر کی کنجی لینے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ نے نماز ادا کرنے کا ارادہ کیا تو انہیں کلیسا میں نماز ادا کرنے کی پیشکش کی گئی۔ حضرت عمر ؓ نے تقدس کی مثال قائم کرنے کے لئے اس پیشکش سے معذرت کرتے ہوئے نماز کلیسا سے باہر ادا کی جہاں اہل یروشلم نے حضرت عمر ؓ سے عقیدت کے اظہار کے لئے بعدازاں مسجد تعمیر کر دی۔ مسجد عمر ؓ وہاں آج بھی موجود ہے۔ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نذر آتش کرتے ہیں اور سنت اور خلافت راشدہ کے اسلامی ورثے سے بے وفائی کر کے جنت کی خواہش پالتے ہیں؟
تازہ ترین