آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍جماد ی الثانی 1440ھ 17؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لاہور میں مسیحی برادری کے مسکن جوزف ٹاؤن میں جو کچھ ہوا اس پر بہت آنسو بہائے جاچکے ہیں۔ اس سے پہلے ہزارہ برادری کوئٹہ اور عباس ٹاؤن کراچی کے سانحات پر روتے روتے ہماری آنکھیں خشک ہوچکی ہیں۔ کے پی کے میں روزانہ یہی کچھ ہوتا ہے، نمازیوں کو نماز کی حالت میں شہید کیا جاتا ہے اور مسجد یں بم سے اڑادی جاتی ہیں۔ بازاروں میں بلا امتیاز سب کو بارود کے ڈھیر میں دفن کردیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور ہماری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے مطابق”ہمارے دو دوست ممالک ہماری سرزمین پر پراکسی وار لڑرہے ہیں“غالب نے غالباً ان”دوست“ ممالک ہی کے بارے میں کہا تھا
ہوئے تم دوست جن کے
دشمن ان کا آسماں کیوں ہو
تاہم پنجاب میں ہونے والی دہشتگردی پر جو ردعمل سامنے آیا ہے وہ بہت شدید ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ صوبہ دوسرے صوبوں کی نسبت کافی محفوظ سمجھا جاتا ہے اور یہ بات بہت سے لوگوں کو کھٹکتی بھی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جوزف ٹاؤن میں ہونے والی دہشتگردی سراسر پولیس کی نااہلی کی دین تھی۔ جس نے یہاں کے مکینوں کی زندگی بچانے کے لئے آبادی ان سے خالی کرالی اور ان کے مکان بلوائیوں کے سپرد کردیئے کہ ان غریبوں کے سر کی چھت اور ان کی تھوڑی بہت جمع پونجی کے ساتھ جو کرنا چاہو کرلو، تمہیں اس کی پوری اجازت ہے۔ شہباز

شریف کی پانچ سال کی کمائی ہوئی نیکیاں ایک ہی دن میں برباد کرنے کی کوشش کی گئی اور سانحے کی ٹائمنگ بھی اتنی”شاندار“ تھی کے مخالف سیاسی جماعتوں کے ہاتھ میں ایک ایسا ایشو آگیا جو الیکشن کمپین میں ان کے بہت کام آئے گا۔
اس کا ”کریڈٹ“ یقینا شہباز شریف کی اپنی پولیس ہی کو جاتا ہے۔ اس ضمن میں تاجروں کے حوالے سے جو کہانیاں سامنے لائی جارہی ہیں وہ بلا تحقیق ہیں، ہمارے تاجروں کی اکثریت اچھی نہیں ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اس حد تک جاسکتے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت نے مظلوم مسیحی برادری کے آنسو پونچھنے کے لئے جو کچھ کیا ہے اس کی مثال پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں نہیں ملتی جہاں آئے روز اس طرح کے سانحے ہوتے ہیں بلکہ فوری امداد کی کوششوں میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی ادائیگی کردی گئی اور یوں کئی خاندانوں کو تیس تیس لاکھ روپے کے چیک دے دئیے گئے ۔ اس کے علاوہ جلے ہوئے مکانوں کی تعمیر کا کام بھی فوری طور پر شروع کردیا گیا، خدا نہ کرے آئندہ کوئی اس طرح کا سانحہ وقوع پذیر ہو۔
ان دنوں ہمارا میڈیا بہت فعال ہوگیا ہے اور اس فعالیت کے مثبت اور منفی دونوں پہلوسامنے آتے رہتے ہیں۔جہاں کہیں کچھ لوگ گھروں کو آگ لگاتے یا کسی اور طرح کی قانون شکنی کرتے نظر آتے ہیں ہمارا میڈیا وہاں پہنچتا ہے۔ میڈیا ان لوگوں کو بلوائی یا قانون شکن کہنے کی بجائے ”مشتعل عوام“ قرار دیتا ہے جبکہ عدالتی قوانین کی رو سے ا شتعال کی وجہ سے اگر کوئی کسی کو قتل بھی کردیتا ہے تو اس کی معافی تلافی کی صورت موجود ہے چنانچہ ایسے فسادی لوگوں کو”مشتعل عوام“ قرار دے کر میڈیا ان کے شانہ بہ شانہ کھڑا نظر آتا ہے۔ پولیس انہیں گھیراؤ جلاؤ سے روکنے کے لئے اگر کوئی کارروائی کرتی ہے تو ٹی وی چینلز اور اخبارات یہ چیختی چنگھاڑتی سرخیاں جماتے ہیں”مشتعل عوام پر پولیس کا بہیمانہ تشدد“ اور پھر نہایت ہمدرانہ لہجے میں زخمیوں کی فوٹیج دکھائی جاتی ہے۔ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اگر ایسے مواقع پر جب یہ”مشتعل عوام“ سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگا رہے ہوں ،لوٹ مار میں مشغول ہوں، معصوم لوگوں کو زندہ جلانے کے درپے ہوں اور پولیس ان پر”بہیمانہ تشدد“ کی بجائے نرمی سے کام لے تو ایک بار پھر یہ ہیڈ لائنز سامنے آتی ہیں ”مظاہرین نے تباہی مچادی، پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی“۔ واضح رہے کہ”مشتعل“ عوام کو”مظاہرین“ میں تبدیل کرنا حالات کا تقاضا ہوتا ہے اوپر سے ہماری جمہوری حکومتیں انتہائی کمزور ہوتی ہیں اور اپنی ہی سیاسی برادری کی طرف سے بلیک میلنگ کی زد میں آئی رہتی ہیں چنانچہ ہمارے عوام کمزور حکومتوں اور طاقتور میڈیا کے درمیان سینڈوچ بنے دکھائی دیتے ہیں۔
میرے دوست اگر مجھے معاف فرمائیں تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جوزف ٹاؤن کے سانحہ میں جن ”مشتعل“ عوام نے گھروں کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی وہ ”عاشقان رسول“ نہیں بلکہ بے روزگار نوجوانوں کا ایک ٹولہ تھا جنہیں کوئی مثبت تفریح بھی میسر نہیں،ا نہیں اپنی جارحیت کے اظہار کا ایک موقع ملا اور انہوں نے گھروں کو آگ لگا کر انسان کی جبلی درندگی کی تسکین کی اور لوٹ مار کے ذریعے اپنی نا آسودہ خواہشات کی تکمیل کا راستہ بھی تلاش کیا۔
امریکہ کے ایک علاقہ میں نسلی فساد برپا ہوگئے جس میں بہت سے لوگ ہلاک ہوئے اور املاک جلائی گئیں۔ حکومت نے ان واقعات کی تحقیق کے لئے ایک کمیشن قائم کیا جس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ اس علاقے میں کالے اور گورے امریکی ایک عرصے سے اکٹھے رہ رہے تھے اور ان میں بہت بھائی چارہ تھا لیکن اس علاقے میں صحت و صفائی اور دیگر سہولتیں ناپید تھیں جس کی فرسٹریشن کے نتیجے میں یہ دونوں نسلی گروہ باہمی محبتیں بھول کر ایک دوسرے سے متصادم ہوگئے۔ جوزف ٹاؤن کے سانحہ کی تفتیش اور تحقیق اس پہلو سے بھی کی جانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں