آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بریگزٹ۔ برطانیہ کا ’’یومِ آزادی‘‘

میں کچھ دن قبل ہی اپنے دورۂ برطانیہ سے وطن واپس لوٹا ہوں۔ برطانیہ جب یورپی یونین میں 47برس تک رکن رہنے کے بعد علیحدہ ہوا تو میں بھی اس وقت وہاں موجود تھا۔ اس موقع پر برطانوی قوم منقسم نظر آئی اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ یورپی یونین سے علیحدگی پر جہاں ایک طرف عوام جشن مناتے نظر آئے کہ آج برطانیہ 47سالہ یورپی تسلط سے آزاد ہو گیا تو دوسری طرف بریگزٹ کے مخالفین سوگ مناتے دیکھے گئے جن کا موقف تھا کہ برطانیہ آج یورپ میں تنہا رہ گیا۔ بریگزٹ سے کچھ دیر قبل قوم سے اپنی تقریر میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے یورپی یونین سے علیحدگی کو برطانیہ کی تاریخ کی ’’نئی صبح‘‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ برطانوی عوام نے جون 2016میں ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس ریفرنڈم میں 52فیصد عوام نے بریگزٹ کے حق میں جبکہ 48فیصد مخالف تھے۔

یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یورپی یونین کی 62سالہ تاریخ میں کسی ملک نے EUسے علیحدگی اختیار کی ہو اور برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد اب ممبر ممالک کی تعداد 27رہ گئی ہے۔ بریگزٹ کو دنیا کی مہنگی ترین ’’طلاق‘‘ سے بھی تشبیہ دیا جارہا ہے کیونکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے نتیجے میں برطانوی حکومت، یورپی یونین کو 39ارب پونڈ ادا کرے گی۔ اگرچہ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو گیا ہے مگر برطانیہ اور یورپی یونین نے ٹرانزیکشن کیلئے ایک دوسرے کو 11ماہ کا وقت دیا ہے لیکن 11ماہ بعد برطانیہ کو یورپی یونین سے سیکورٹی اور تجارت کے حوالے سے نئے معاہدے کرنا ہوں گے۔

بریگزٹ کے حوالے سے کچھ ماہ قبل اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ذیلی ادارے ICDTنے دبئی میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’’بریگزٹ کے اسلامی ممالک پر اثرات‘‘ تھا۔ اس سیمینار میں، میں نے بھی شرکت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی مجموعی معیشت 2.7کھرب ڈالر ہے جو یورپی یونین کی مجموعی معیشت کا 15فیصد ہے جبکہ یورپی یونین کی معیشت کا حجم 18.3کھرب ڈالر ہے۔ یورپی یونین، برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، 2018میں EUکی برطانیہ کو ایکسپورٹ 291ارب پائونڈ تھی جو مجموعی تجارت کا تقریباً 50فیصد بنتا ہے۔ مقررین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بریگزٹ کی صورت میں برطانیہ کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی جس کے منفی اثرات برطانوی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ مقررین نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امیر عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، ابوظہبی، کویت اور قطر کے فنڈز نے برطانیہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور بریگزٹ کے نتیجے میں برطانوی پائونڈ کی قدر یا رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں کمی کے باعث ان ممالک کی سرمایہ کاری متاثر ہوگی تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ بریگزٹ کے موقع پر برطانوی پائونڈ کی قدر میں ایسی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جس کی پیش گوئیاں کی جارہی تھیں۔

لندن میں قیام کے دوران برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر نفیس ذکریا سے پاکستانی ہائی کمیشن میں ملاقات ہوئی۔ نفیس ذکریا برطانیہ میں ہائی کمشنر متعین ہونے سے قبل ملائیشیا میں پاکستان کے سفیر اور دفتر خارجہ کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے برطانوی شہزادے ولیم اور اُن کی اہلیہ کیٹ میڈلٹن کے دورۂ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا تھا جبکہ اُن کی کاوشوں کے نتیجے میں برطانیہ کی طرف سے پاکستان پر عائد ٹریول ایڈوائزری کا خاتمہ ہوا جس کے بعد امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو نمایاں فروغ حاصل ہوگا اور برطانوی سیاح پاکستان کا رُخ کریں گے۔ دورانِ ملاقات ہائی کمشنر نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے باوجود بھی برطانیہ سے پاکستان کو جی ایس پی کی سہولت برقرار رہے گی۔ واضح رہے کہ برطانیہ سے پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر میں حالیہ سال میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو گزشتہ 7مہینوں میں 2.2ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ حکومتی سیکورٹیز میں برطانوی سرمایہ کاری کی مد میں اب تک 2 ارب ڈالر ہاٹ منی کی صورت میں موصول ہو چکے ہیں۔

برطانیہ میں پاکستانی نژاد بزنس مینوں کی نمائندہ تنظیم یو کے پاکستان چیمبر آف کامرس نے میرے اعزاز میں ایک عشایئے کا اہتمام کیا جس میں چیمبر کے عہدیداران اور بزنس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے انعقاد کا مقصد پاکستان کی معیشت اور درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا تھی۔

امریکی حکومت نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کو برطانوی عوام کی رائے کا احترام قرار دیتے ہوئے اپنے تعاون کا مکمل یقین دلایا ہے۔ بریگزٹ سے نکل کر اب برطانیہ، امریکہ کی طرف دیکھ رہا ہے کہ شاید امریکہ، برطانیہ کو تجارت کے حوالے سے کچھ مراعات دے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم یہ بڑی حد تک برطانیہ کی یورپی یونین سے تجارتی مذاکرات پر منحصر ہے مگر آنے والے وقت میں برطانیہ کو دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے کیونکہ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اسکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے الگ ہونے کا عندیہ دیا ہے جس کی عوام کی اکثریت نے ریفرنڈم میں یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ دوسری طرف شمالی آئرلینڈ بھی یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ہے۔ ایسی صورت میں برطانوی سلطنت جہاں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، مزید سکڑ کر رہ جائے گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)