آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سکاٹ لینڈکی آزادی کیلئے دوسرے ریفرنڈم کی حمایت نہیںکرینگے،جیکسن کارلو

لندن ( جنگ نیوز) سکاٹش ٹوری کے نئے سربراہ جیکسن کارلو نے اصرار کیا ہے کہ وہ سکاٹ لینڈکی آزادی کیلئے دوسرے ریفرنڈم کی حمایت نہیں کریں گے۔ نئے سکاٹش کنزرویٹو رہنما نے اعادہ کیا کہ وہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے ایک اور ریفرنڈم کے مکمل مخالف ہیں۔ نسل کیلئے دوسرا ووٹ نہیں ہوناچاہیے۔ انہوں نے ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ ان کی پارٹی ایک تازہ بیلٹ کے مطالبے پر تقسیم ہوگئی ہے۔ ہیرالڈ اخبار کی اس رپورٹ کے جواب میں کہ سکاٹش ٹوریز اس پر تقسیم ہیں کہ آیا سکاٹ لینڈ کو آزادی کے بارے میں ایک اور رائے دینی چاہیئے انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اس معاملے پر کوئی تقسیم نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پارٹی کے سینئر ازکان کی بڑی تعداد جیکسن کارلو کی خواہش کے خلاف دوسرے ریفرنڈم کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے لیکن کارلو نے کہا کہ سکاٹش کنزرویٹو ایک اور آزادی ریفرنڈم کی مکمل مخالف ہے۔ ہم متحد ہیں۔ مسٹر جیکسن کارلو کو جمعہ کے روز سکاٹش کنزرویٹو پارٹی کا نیا لیڈر منتخب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے استدلال کیا کہ ایک اور ریفرنڈم کیلئے مطالبہ کر کے ایس این پی غیر جمہوری عمل کر رہی ہے ۔ میں اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کروں گا ۔ انہوں نے مزید کہا شمالی آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے مابین پل بنانے کا خیال مثبت ہے ۔میں اس کا مخالف

نہیں ہوں ۔ ہمیں جرات مند اور تخیل آمیز ہونے کی ضرورت ہے ۔ جیکسن کارلو نے کہا کہ پورٹ پیٹرک کے درمیان ڈمفریز اور گیلوے اینڈ لارن کے درمیان پل کی تجویز اس بات کی علامت ہے کہ وہ برطانیہ کے کچھ حصوں میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں ۔ سکاٹش ٹوری لیڈر نے مزید کہا کہ شمالی آئر لینڈ میں حکومت کی طرف سے دیئے گئے ردعمل سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور وہ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یونین ایسی چیز ہے جو ہر ایک کیلئے کام کرتی ہے۔ کارلو نے کہا کہ یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں دیکھنے کیلئے ہمیں تیار رہنا چاہئے۔دنیا میں اس سے کہیں زیادہ بڑے پل ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے اس بارے میں طنز کیا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہمیں آگے چل کر تخیلاتی ہونا پڑے گا۔

یورپ سے سے مزید