آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍جماد ی الثانی 1440ھ 17؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سبحان اللہ دعوت تو میں نے کل کھائی ہے، اس دعوت میں شرکت سے قبل میزبان کی مہمان نوازی کے صرف قصے ہی سنے تھے۔ مگر شریک طعام ہونے کے بعد بھید کھلا کہ جو سنا تھا وہ کم تھا، اس دعوت میں شہر کے چیدہ چیدہ لوگ شامل تھے، جب دستر خوان بچھا تو میں نے دیکھا کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک انواع و اقسام کی دالیں سجی ہوئی تھیں، بس آپ کوئی بھی دال تصور میں لائیں وہ اس دستر خوان پر موجود تھی، چنے کی دال، مونگ کی دال، ماش کی دال، مسور کی دال یعنی جدھر دیکھتے تھے ادھر دال ہی دال تھی۔ میرے اس میزبان کو گھوڑ سواری کا بھی بہت شوق تھا، چنانچہ باہر دو عربی نسل کے گھوڑے بھی اس کے تھان پر بندھے تھے میں جب تک مصروفِ طعام رہا گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سنائی دیتی رہی۔ وہ بار بار اپنے کھر بھی زمین پر مارتے اس وقت تو میں نے کھانے سے ہاتھ نہ کھینچے مگر اب ضمیر نے ناطقہ بند کیا ہوا ہے کہ تم نے ”غریب مار“ کی، گھوڑوں کا ذوق تم خود کھا گئے، مگر یہ ضمیر بھی تو عجیب چیز ہے، انسان کو گناہ سے نہیں روکتا صرف گناہ کا مزا کرکرا کرتا ہے۔
مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ کیونکہ میں چند روز قبل ایک اور دعوت میں بھی شریک ہوا تھا میزبان خیر سے بڑے معقول شخص ہیں۔ لیکن جب دستر خوان کھلا تو جو کچھ سنا تھا وہ سب افسانہ معلوم ہوا۔ ایک ڈش اُٹھا کر دیکھی تو اس میں

نگوڑا مرغ تھا، دوسری میں جھانکا تو نرگسی کوفتے، تیسری میں مچھلی کے قتلے، چوتھی میں بکرے کی روسٹڈ ران اور باقیوں میں بھی یہی ”الا بلا“ تھا، اوپر سے موصوف نے بڑا تیر مارا تھا، یعنی بریانی بنائی ہوئی تھی۔ تین چار سویٹ ڈشیں بھی بھاڑ سا منہ کھولے دستر خوان پر دھری تھیں، مہمانوں نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی کہ شاید اس آدم خور نے ایک آدھ ڈش دال کی بھی اپنا بھرم رکھنے کے لئے کہیں چھپا رکھی ہو۔ مگر یہاں کوئی ”جوئندہ“ ایسا نہ تھا جسے بالآخر ”پائندہ“ کہنے کا موقع ملا ہو۔ سو دالوں کے رسیاء نے یہاں کھانا کیا کھانا تھا بس زہر مار کیا اور ہاتھ دھو کر اپنے گھروں کی راہ لی، اب یہ میزبان شہر میں منہ چھپاتا پھرتا ہے۔
اب دعوتوں کا ذکر چھڑا ہے تو مجھے ملا نصیر الدین کا وہ لطیفہ یاد آ رہا ہے جس کے مطابق ایک شخص ملا کے پاس آیا اور کہا ”آپ کا بڑا کرم ہو گا اگر آج رات کا کھانا آپ میرے ساتھ کھائیں تو میرے لئے باعث عزت ہو گا، کوئی تکلف نہیں کروں گا، بس جو دال روٹی ہم گھر میں کھاتے ہیں وہی حضور کی نذر کروں گا۔“ ملا جب رات کو اس شخص کے گھر پہنچے، دستر خوان کھلا تو دیکھا وہاں واقعی دال روٹی دھری تھی، اس دوان میں میزبان کا بچہ اپنے باپ کے پاس آیا اور اس سے پیسے مانگے میزبان نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا ”دفع ہو جاؤ یہاں سے، اگر تم نے اب پیسے مانگے تو تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔“ ملا نے فوراً بچے کو گود میں اٹھایا اسے پچکارا اور کہا بیٹے اب یہاں سے بھاگ جاؤ کیونکہ یہ شخص جو کہتا ہے وہی کرتا ہے۔ دراصل اس موقع پر یہ لطیفہ مجھے یوں یاد آیا کہ بعض حلقوں کی طرف سے اس کی عجیب و غریب توجیہات کی جاتی ہیں۔ کچھ مفسد قسم کے لوگ تو ماضی میں اسے دال کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں اور اس لطیفے سے نتیجہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ ملا دستر خوان پر دال روٹی دیکھ کر بدمزہ ہو گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے موقع پاتے ہی میزبان پر چوٹ کر دی، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، معاملہ یہ ہے کہ دال صرف آج ہی نایاب نہیں غالباً ملا نصیر الدین ہی کے وقت سے نایاب ہے اور انہوں نے جب دسترخوان پر دال دیکھی تو فرط مسرت سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور پھر انہوں نے موقع پاتے ہی میزبان کے متعلق یہ کہہ کر اسے خراج تحسین پیش کیا کہ اس شخص کے قول و فعل میں تضاد نہیں، یعنی یہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے، اس کی تصدیق اس مراثی کے واقعے سے بھی ہوتی ہے جو کسی دوسرے گاؤں میں اپنے ایک عزیز کے ہاں مہمان ہوا انہوں نے اس کی بہت آؤ بھگت کی اور پھر میاں بیوی آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آج کیا پکانا چاہئے، میں نے کہا چنوں کی دال پکا لیتے ہیں۔ بیوی نے مونگ کی دال کا مشورہ دیا، اس وقت صحن میں مرغیاں بھی پھر رہی تھیں، مراثی کو یہ گوارا نہ ہوا کہ اس کے میزبان اپنی قیمتی دالیں اس کے لئے پکائیں، چنانچہ اس نے اپنے میزبان کو مخاطب کیا اور کہا ”باہر میرا گھوڑا بندھا ہے، آپ وہ پکا لیں، میں مرغی پر بیٹھ کر واپس گاؤں چلا جاؤں گا۔“
اور اب یہ گھوڑے کا ذکر آیا تو ہمارا دھیان ایک بار پھر اس دعوت کی طرف چلا گیا ہے۔ جس میں میزبان نے انواع و اقسام کی دالوں سے معزز مہمانوں کی تواضع کی اور اس کے عزیز گھوڑے تھان پر بندھے ہنہناتے رہے اور بار بار اپنے کھر زمین پر مارتے رہے۔ اس وقت تو مجھے ان پر ترس آیا تھا، لیکن ان دنوں دالوں کی مہنگائی دیکھ کر اچانک مجھے خیال آیا ہے ”غریب مار“ ہم نہیں، وہ تو یہ گھوڑے کرتے ہیں۔ جو انسانوں کا رزق کھا جاتے ہیں۔ میں اس موقع پر استحصالی گھوڑوں کو یہ انتباہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں اگر وہ از خود اپنے رویئے میں تبدیلی نہ لائے تو میں یہ معاملہ اپنے کامریڈ دوستوں کے سپرد کر دوں گا جس کے نتیجے میں میں خواہ مجھے دال روٹی نہ ملے، لیکن ان کا دانہ پانی تو بند ہو گا! اس ضمن میں محاروں کے رسیاء دوستوں کو ”یہ منہ اور مسور کی دال“ والے محاورے کی لاج بھی رکھنا ہو گی۔
اور اب آخر میں ناصر بشیر کا ایک خط:…
محترم قاسمی صاحب!
السلام علیکم! لاتعداد ٹیلی ویژن چینلوں کی بھرمار میں اگر ریڈیو پاکستان اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کے زیرک، مستعد اور معاملہ فہم ڈائریکٹر جنرل جناب مرتضیٰ سولنگی کا بہت ہاتھ ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ملالہ یوسف زئی کے حوالے سے قومی اور علاقائی زبانوں میں نظموں کا ایک مقابلہ کروا کے نئی روایت ڈالی لیکن ان کے ماتحت کام کرنے والے کچھ لوگوں کی معاملہ نافہمی کے باعث یہ متنازعہ ہو گیا۔ ایک مقابلہ جس میں صوبے کے لوگ شریک ہوں اس کا انعام کچھ اور ہوتا ہے۔ اور وہ مقابلہ جس میں پورے ملک کے لوگ شریک ہوں اس کا انعام کچھ اور ہوتا ہے۔ اول الذکر صوبائی مقابلہ کہلاتا ہے اور آخر الذکر قومی مقابلہ۔ لیکن ریڈیو پاکستان نے صوبائی اور قومی مقابلے کا فرق ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ شاعری کے قومی مقابلے میں اول دوم اور سوم آنے والوں کو بھی وہی رقم دی جا رہی ہے جو صوبائی سطح کے انعام یافتگان کو دی گئی ہے۔ ریڈیو حکام کے ایک نوخیز گلوکارہ کو اپنی ”رضا“ سے 90 ہزار دیئے ہیں اور ساری عمر شعر و سخن کی خاک چھاننے والوں کو صرف 25 ہزار، 35 ہزار اور پچاس ہزار پر ٹرخا دیتے ہیں۔ گلوکاروں اور گلوکاراؤں کو پروٹوکول کے ساتھ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں انعام یافتہ شاعری سنانے کے لئے بلایا گیا اور شاعری کے اس مقابلے میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے کسی شاعر کو سرے سے مدعو ہی نہیں کیا گیا کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جن لوگوں کے درمیان مقابلہ ہوا انہیں انعام دینے کے لئے تقریب میں بلایا ہی نہ جائے۔ یہ مقابلہ شاعروں کا تھا لیکن اہمیت گلوکاروں کو دی گئی۔
آپ کی وساطت سے میں جناب مرتضیٰ سولنگی کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ سارے معاملے کا نوٹس لیں اور شاعروں سے ہونی والی زیادتی کا ازالہ کریں۔ یہاں میں یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جن دنوں قومی اسمبلی میں جناب مرتضیٰ سولنگی کی شدید مخالفت ہو رہی تھی ان میں یہ خاکسار ہی تھا جس نے ایک کالم لکھ کر ان کے حق میں کلمہٴ حق بلند کیا تھا۔ سو مرتضیٰ سولنگی صاحب! مجھے آپ کے کلمہٴ حق کی ضرورت ہے۔ (ناصر بشیر)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں