آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

علی زریون نے دہلی فسادات پر نظم کہہ دی

علی زریون نے دہلی فسادات پر نظم کہہ دی


معروف اداکار یاسرحسین نے بھارت کے دارالحکومت دہلی میں جاری فسادات اور ظلم و ستم پر پڑھی گئی نظم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کچھ ہندو انتہا پسندوں نے متنازع شہریت قانون کے خلاف آواز اُٹھانے والے بھارتیوں پر حملہ کیا جس کے بعد سے شہرکے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور اِس دوران اب تک 20 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 200 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔

بھارت میں جاری اِس ظلم و ستم کے خلاف ہر ایک شخص اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہوگیا ہے، اِسی حوالے سے گزشتہ روز پاکستان شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے معروف اداکار یاسر حسین نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی۔


یاسر حسین کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں شاعر علی زریون دہلی میں جاری فسادات اور وہاں کے لوگوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے ایک نظم پڑھے رہے ہیں۔

علی زریون نے دہلی فسادات پر نظم کا آغاز کچھ سوالوں سے کیا:

دل کی دلی کو کس کی نظر لگ گئی؟

کون راون میرے شہر میں آگئے؟

رام کے نام پر کیسا آتنک ہے؟

گیروی آگ والے بدن کھا گئے

آج گاندھی کی نظریں نہیں اُٹھ رہیں

آج نہرو کا چہرہ پریشان ہے

راکشس اپنی سرکار میں مست ہے

لوگ دنگو ں کی شدت سے گھبرا گئے ہیں

مجھ سے سیتا نے سوگند کھا کر کہا

یہ فسادی ہیں یہ رام والے نہیں

کتنے گھر اِن کے ہاتھوں کھڈل بن گئے

کتنے پھول اِن کی دہشت سے گُھملا گئے

وہ زبانیں کہ جو آج خاموش ہیں

مت یہ سمجھیں سُرکشت ہیں نِردوش ہیں

آج بولو نہ مگر مرو گے سب ہی

پھر نہ کہنا شکنجے میں کیوں آگئے

لاٹھیاں کھانے والوں سلامت رہو

گولیاں کھانے والوں سلامی تمہیں

تُم نے اپنے لہو سے لکھ دیا

کون ظالم ہے تُم سب کو سمجھا گئے

دل کی دلی کو کس کی نظر لگ گئی؟

کون راون میرے شہر میں آگئے؟

یاسر حسین نے علی زریون کی اِس نظم کے کیپشن میں لکھا کہ ’دل کی دلی۔‘

اداکار نے خوبصورت نظم پڑھنے پر علی زریون کی حوصلہ افزائی کی۔‘

وضح رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں مسلم کش فسادات میں اموات کی تعداد 34 ہوگئی  جبکہ200 کے قریب افراد فسادات میں زخمی ہو ئے ہیں۔

انتہا پسندوں کو کارروائیوں کی کھلی چھوٹ دینے والی دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ تشدد کے معاملے میں اب تک 106 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور 18 ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید