آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ہمارے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے انتخابات سر پر ہیں اور ہماری سیاسی قیادتیں بنیادی امور طے کرنے کے لیے سنجیدہ مکالمے پر آمادہ نظر نہیں آتیں۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کیا ہم اِس مرتبہ تاریخ کی پکڑ سے محفوظ رہ سکیں گے کہ اتنے میں بین الاقوامی شہرت کے حامل قانون دان اور ممتاز دانشور جناب ایس ایم ظفر اپنی تازہ ترین تصنیف مرحمت فرمانے تشریف لے آئے جس میں سینیٹ میں گزرے ہوئے نو برسوں کی روداد اور اہم واقعات کا چشم دید پس منظر بیان کیا ہے۔ وہ اس سے قبل متعدد معرکة الآرا کتابیں ”ڈکٹیٹر کون“ ”بڑے مقدمات“ ”اسلام  عوام اور پارلیمنٹ“ اور ”ڈائیلاگ“ تحریر کر چکے ہیں جو سنجیدہ حلقوں میں بڑی قدرومنزلت سے دیکھی جاتی ہیں۔
”سینیٹر ایس ایم ظفر کی کہانی اُن کی اپنی زبانی“ کا جائزہ لیتے وقت میری نگاہ ایک باب پر آ کر ٹھہر گئی جس کا عنوان ”تاریخ کا دہرایا جانا“ ہے۔ میں اِسے جوں جوں پڑھتا گیا تشویش اور اضطراب کے سائے گہرے ہوتے گئے  لیکن اِس خیال سے تقویت ملی کہ صاحب ِتصنیف کے بیان کردہ حقائق اگر فیصلہ سازوں تک پہنچا دیے جائیں  تو غالب امکان ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں گے اور فطرت کے تازیانوں سے بچ جائیں گے۔ مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ جب تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے

 تو اجتماعی غلطیاں دہرانے والی قوم پر عبرت ناک سزا کے کوڑے بھی برساتی ہے۔ اُنہوں نے تاریخ کا پہلا منظر نامہ 14/اگست 1947ء سے شروع کیا جب پاکستان ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے طور پر وجود میں آیا اور نمائندگان کو آئین بنانے کا فریضہ سونپا گیا۔ قائداعظم کے واضح عندیے کے مطابق جو کام ڈیڑھ دو سال کے اندر مکمل ہو جانا تھا  وہ اقتدار کی کشمکش اور سیاست دانوں کی ریشہ دوانیوں سے تاخیر کی نذر ہوتا گیا  حتیٰ کہ 1954ء میں دستور ساز اسمبلی ہی توڑ دی گئی۔ قوم کو سزا یہ ملی کہ جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی ایک سوالیہ نشان بن کے رہ گئی۔
دوسرا منظر نامہ 23مارچ 1956ء کے بعد پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اِس روز قوم نے دستور کے نفاذ پر بہت خوشیاں منائی تھیں  مگر اقتدار کے ایوان میں ہونے والی محلاتی سازشوں سے حکومتیں مہینوں اور ہفتوں میں تبدیل ہوتی رہیں  چنانچہ تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانا شروع کر دیا اور اِس ملک میں پہلامارشل لا نافذ ہوا جس نے ووٹ کی سیاسی طاقت سے آزادی حاصل کی تھی۔ یہ واقعہ بہت بڑی بدقسمتی اور ایک عظیم المیہ تھا  کیونکہ 1956ء کے دستور کے ختم ہو جانے سے پاکستان کے دونوں بازووٴں کے درمیان اکٹھے رہنے کا معاہدہ ٹوٹ چکا تھا۔ اِس کے بعد یحییٰ خاں کا مارشل لا آیا اور اُس نے دستور ساز اسمبلی کے انتخابات دسمبر 1970ء میں کرا دیے اور لیگل فریم ورک آرڈر میں یہ شرط درج تھی کہ آئین سازی کا کام 120دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا  لیکن منتخب نمائندگان اپنے علاقائی تقاضوں اور تنازعات میں ایسے اُلجھے کہ 120دن کی شرط ہی کو ایل ایف او سے خارج کر دیا۔ اِس پر اقتدار پرستوں اور کند ذہن سیاست دانوں اور فوجی حکمرانوں کو تاریخ نے یہ سزا دی کہ 16دسمبر 1971ء کو ہمارا قومی وجود ایک عبرت ناک فوجی شکست کے بعد دو لخت ہو گیا۔ اِس کے بعد 1973ء کا دستور جو مبارک سلامت کے درمیان نافذ ہوا  قوم نے اُس کے ساتھ بڑی اُمیدیں وابستہ کر لیں  مگر جلد ہی حکمران پارٹی کے عہدے داروں اور کارکنوں کے اندر موج میلے کا وہی سماں پیدا ہو گیا جو 1956-58ء کے درمیان پارلیمنٹ کے نمائندگان میں پایا جاتا تھا۔ تاریخ نے اُس وقت اپنے آپ کو دہرانا شروع کیا جب 1977ء کے انتخابات میں دھاندلی کی شکایت زباں زدعام ہوئی اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ ایک عوامی تحریک میں ڈھل گیا۔
جناب ایس ایم ظفرحکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی ٹیم کے رکن تھے۔ اُنہوں نے ایک بااختیار اور آزاد الیکشن کمیشن اور ازسرِنو انتخابات کا آئینی مسودہ تیار کر لیا  مگر وزیراعظم بھٹو اِس نازک مرحلے میں شرقِ اوسط کے طوفانی دورے پر نکل کھڑے ہوئے۔تاریخ کا مصنف اِس نتیجے تک پہنچا کہ اِس قوم نے 1958ء اور1971ء کے تباہ کن واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا  چنانچہ 5جولائی 1977ء کو تیسری بار مارشل لا لگا اور سزا بھی بڑی کڑی ہو گئی یعنی منتخب وزیراعظم کو ایک فوجی سربراہ کے حکم پر پھانسی دے دی گئی۔
اِس کے بعد فاضل مصنف نے تیسرا منظر نامہ پیش کیا ہے جس کا تعلق 1965ء کی جنگ اور بعد ازاں معرکہٴ کارگل سے بھی ہے۔ 60ء کی دہائی میں حکومت کے خارجی امور کے ماہرین اِس ایک نکتے پر متفق تھے کہ جموں و کشمیر کا معاملہ خاصی مدت سے سرد خانے میں پڑا ہے اور اگر چند سال اِس طرح گزر گئے  تو اقوامِ متحدہ کی قراردادیں غیرموٴثر ہو جائیں گی  چنانچہ ”مشن جبرالٹر“ ترتیب دیا گیا جس کا فلسفہ یہ تھا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں زیرِزمین معاملہ گرم ہے اور اگر وہاں چنگاری پھینکی گئی  تو آگ بھڑک اُٹھے گی اور مقامی کشمیری مجاہدین کو پناہ بھی دیں گے اور اُن کی مدد بھی کریں گے۔ ایوب خاں کو یقین دلانے کے لیے کہ اِس ایڈونچر میں کوئی بڑا خطرہ نہیں  ایک رپورٹ پیش کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں مداخلت سے بھارت کو پاکستان کی سرحدوں پر محاذِ جنگ کھولنے کا جواز اور حق میسر نہیں آئے گا  اور اگر بھارت نے کشمیر کی طرف سے پاکستان پر حملہ کیا  تو اُسے بے حد نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ ریاست کے سربراہ کو یک طرفہ تجزیاتی رپورٹ پیش کرنا اور فیلڈ مارشل کی طرف سے پورے پوسٹ مارٹم کے بغیر اُسے قبول کرلینا ایک فاش غلطی تھی۔ اِس مہم جوئی کے نتیجے میں کئی بہادر مجاہدین شہید ہوئے جو کشمیر کی کنٹرول لائن عبور کر کے تحریکِ آزادی کو زندگی بخشنے گئے تھے اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پاکستان کو ایک بھرپور جنگ لڑنا پڑی ۔ جناب ایس ایم ظفر جو اُن دنوں ایوب کی کابینہ میں سب سے کم عمر وزیرِ قانون تھے  اُن کی معلومات کے مطابق اگر مزید چند روز لڑائی جاری رہتی تو اسلحہ اور سپیئر پارٹس کی قلت کے باعث ہماری شکست یقینی تھی جس کے ہولناک نتائج کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
فاضل مصنف نے اُن واقعات کا کارگل ایشو سے موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو بریفنگ دی گئی کہ سیاچن کی پہاڑیوں پر بھارت کے فوجی دستے سردیوں کے موسم میں نیچے اُتر آتے اور گرمیوں کے آغاز میں واپس جاتے ہیں۔
اُن کی واپسی سے پہلے اگر ”پاکستانی مجاہدین“ آزاد کشمیر کی جانب سے کارگل کی پہاڑیوں تک پہنچا دیے جائیں  تو ہم وہ پہاڑیاں واپس لے سکتے ہیں جن پر بھارت نے ناجائز طور پر قبضہ کر لیا تھا۔آپریش کا منصوبہ اتنا خفیہ رکھا گیا کہ بہت کم فوجی کمانڈر اعتماد میں لیے گئے۔ کارگل کی پہاڑیوں میں مجاہدین جان ہتھیلی پر رکھ کر موت کی وادی میں اِسی طرح پہنچ گئے جیسے 1965ء میں وادیٴ کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ بھارت نے اُن پہاڑوں پر بھرپور فضائی حملے کر دیئے اور بہت سے بے نام بہادر شہید ہوئے۔ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو بھاگم بھاگ جنگ بندی کے لیے نیویارک پہنچے جو صدر کلنٹن کی مداخلت پر بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی شرائط پرطے پائی۔تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرا رہی تھی۔ میاں نواز شریف کو اقتدار اور ملک چھوڑنا پڑا۔ پاکستان میں چوتھا مارشل لا آٹھ دس برس نافذ رہا۔مجھے اُمید ہے کہ جناب ایس ایم ظفر کی علمی کاوش برگ و بار لائے گی اور قومی قیادت تاریخ کو دہرانے کا موقع نہیں دے گی۔