آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا عرض کروں کہ بھوک و افلاس سے دم توڑتی انسانیت اور زندگی کی حد درجہ بے ثباتی بلکہ ہر طرف لہراتے موت کے سائے عالمی اور قومی افق پر کچھ یوں چھائے ہیں کہ ہر انسان سہما سہما اور خوفزدہ نظر آتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان‘ انسان سے خوفزدہ ہے اور ہم نے ایسے مناظر کم سے کم اپنی زندگی میں نہیں دیکھے تھے۔ عالم و فاضل دانشور اسے قیامت کی نشانی اور مذہبی اسکالرز اسے انتباہ (وارننگ) قرار دیتے ہیں جبکہ مجھ جیسے لاتعداد نیم جاہل یوں خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جیسے ان کے ہونٹوں پر مہر لگا دی گئی ہو۔ ماضی میں جھانکتا ہوں تو ببانگ دہل کہتا ہوں کہ ہم نے تو فیلڈ مارشل ایوب خان، اعلیٰ حضرت جنرل ضیا الحق اور روشن خیال جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی منہ پر ایسی مہریں لگنے نہیں دی تھیں اور بلاخوف تنقیدی تحریروں کی پاداش میں سزا بھی بھگتتے رہے۔ ایوب خان کے دور میں ایک باغی نوجوان شاعر نے لکھاتھا:

قدم پہ قدم ہیں ہمرنگ زمین دام ہی دام

شاخ در شاخ گلستان میں قفس ملتے ہیں

خوف و دہشت کا وہ پُرہول سماں طاری ہے

کوئی پتا بھی کھڑکتا ہے تو دل ہلتے ہیں

ہم جوان تھے، طالبعلم تھے، کسی قسم کا کوئی خوف نہیں تھا۔ سڑکوں پر نعرے لگاتے اور پولیس سے لاٹھیاں کھاتے تھے لیکن خوف کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتے تھے۔

اعلیٰ حضرت جنرل ضیا الحق کا مارشل لا اور پریس سنسر بڑا ظالم تھا۔ اس مارشل لا دور میں پولیس کی لاٹھیوں کے ساتھ ساتھ پشتوں پر کوڑے بھی برسائے جاتے تھے اور کوڑے کھانے والے کی آہ و بکا سے لوگوں کو ڈرانے کی ترکیب ایجاد ہوئی تھی لیکن مجال ہے خوف کہیں قریب سے بھی گزرا ہو۔ روشن خیال جنرل مشرف کے دور میں تنقیدی کالموں پر گالیاں پڑتی تھیں اور دھمکیوں سے بھرپور کالیں مو صول ہوتی تھیں۔ کبھی کبھی خفیہ والے بھی پیچھا کرتے تھے۔ اس دور میں مشرف کی محبت سے مغلوب ہو کر گالیاں دینے والا نوجوان آج کل عمران کا وزیر ہے اور اپنی زبان درازی سے اکثر حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرتا رہتا ہے۔ کل جب عمران خان حزب مخالف میں ہوگا کہ یہی جمہوریت کا حسن ہے تو ایسے کئی وزرا حزب اقتدار کی گود میں بیٹھ کر عمران خان کو محبت بھری گالیوں سے نواز رہے ہوں گے۔ نیب اس کا پیچھا کر رہا ہو گااور الزامات تراشنے کے ماہرین الزامات گھڑ رہے ہوں گے۔ اس وقت سپریم کورٹ کا کلیرنس سرٹیفکیٹ کام نہیں آئے گا۔ یہی ہماری سیاست کا سانحہ ہے اور یہی ہمارے مستقبل کا قومی حادثہ ہے۔ بات ذرا دور نکل گئی۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے بڑے بڑے خوفناک مارشل لا دیکھے اور میرا اللہ جانتا ہے کبھی بھی خوف کو قریب پھٹکنے نہیں دیا۔ واپس مڑ کر دیکھتا ہوں تو ساڑھے سات دہائیوں سے زیادہ طویل زندگی سو فیصد خوف سے پاک نظر آتی ہے ماسوا خوفِ خدا کے۔ خوفِ خدا شاید انسان کی گھٹی میں ہوتا ہے۔ جو پیدا کرتا ہے وہ خالق کا خوف بھی ڈی این اے میں ڈال دیتا ہے۔

اکثریت عیش و عشرت میں غرق ہو کر اس خوف کو دبا دیتی ہے یا ضمیر کا گلا گھونٹ دیتی ہے لیکن اقلیت کے دلوں میں خوف الٰہی تھوڑا یا بہت ہر صورت زندہ رہتا ہے۔ کچھ اسے پابند جاں بنا لیتے ہیں اور کچھ اسے یومِ حساب تک ملتوی کر دیتے ہیں۔ بہرحال سوال یہ ہے کہ بڑے بڑے خوفناک مارشل لائوں میں بے خوف رہنے والے آج خوفزدہ کیوں ہیں، ایک دوسرے سے سہمے سہمے کیوں رہتے ہیں۔ جواب مختصر سا ہے کہ جب دشمن سامنے ہو، نظر آ رہا ہو اور حملے بھی کر رہا ہو تو ہم بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے خوف رہ سکتے ہیں لیکن جب دشمن جان غیر مرئی ہو، نظر نہ آتا ہو، چھپ چھپ کر معصومیت سے وار کرتا ہو اور وار بھی اتنا مہلک کے بس ایک ہی وار میں کام تمام کر دیتا ہو تو پھر خوف کا ہر لمحے سر پر سوار رہنا، چہرے پر چھایا رہنا اور جسم پر حکومت کرنا قابل فہم ہے۔ جان کا خوف انسان کو طوطا چشم بھی بنا دیتا ہے اور بے مروت و سرد مہر بھی۔ اسی صورت حال بلکہ منظر نامے میں آپ کو یومِ قیامت یا یومِ حساب کی وہ جھلک نظر آئے گی جس کا مختصر سا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے کہ اس روز نہ اولاد کام آئے گی، نہ مال، نہ والدین اولاد کو پہچانیں گے نہ اولاد والدین کو، نفسانفسی کا عالم ہوگا، ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی، چہروں پر خوف کے طویل سائے لرزاں ہوں گے اور لوگ ایک دوسرے سے منہ چھپاتے پھیریں گے، شرمندگی سے بچنے کے لئے، بالکل اسی طرح جس طرح آج کل لوگ کھانسنے یا چھینک مارنے کے لئے چہرے چھپاتے ہیں کہ کہیں ’’ان‘‘ کو اطلاع نہ مل جائے اور وہ اٹھا کر نہ لے جائیں۔ ٹیسٹ تو بعد میں ہوگا، نتیجہ تو ایک دن بعد آئے گا لیکن اس دوران جس ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑے گا وہ ناقابل برداشت ہے۔

یارو! مجھے تو کچھ پتا نہیں۔ میں تو ڈرا سہما گھر کے ایک گوشے میں پڑا ہوں۔ کل بار بار سر چکراتا تھا۔ ایک دیرینہ ڈاکٹر دوست کو فون کیا کہ یہ کیفیت کیوں ہے، کوئی دوائی تجویز کرو۔ جواب ملا فکر نہ کریں، یہ کوئی مرض نہیں، یہ محض خوف کی وجہ سے ہے اس لئے دوائی کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر صاحب مجھے حوصلہ دیتے ہوئے بولے کہ خود مجھے کئی روز سے چکر آ رہے ہیں لیکن ڈرتے ہوئے کسی سے ذکر نہیں کرتا کہ کہیں ’’وہ‘‘ اٹھا کر نہ لے جائیں۔ ہر طرف خوف ہی خوف ہے۔

اے کاش! یہ کورونا کے خوف کے بجائے خوفِ الٰہی ہوتا تو ہمیں ہر روز اخبارات میں قتل و غارت، مصنوعی مہنگائی، بچوں سے زیادتی، اغوا اور اجتماعی زیادتی اور راشن دینے کے بہانے بلا کر زیادتی کرنے کی خبریں پڑھنے کو نہ ملتیں۔

(نوٹ: گزشتہ کالم میں علامہ اقبال کا فقرہ تھا "ہندو نیشنلزم بالآخر الحاد کی سمت لے جائے گا" کمپوزنگ کی غلطی سے الحاد کو اتحاد بنا دیا گیا، قارئین نوٹ فرما لیں)