آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
عمران خان اور نواز شریف کے بڑے جلسے اور امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی کا شوریدہ طور پر جمع کرانا ملک بھر میں انتخابات کی لہر عروج پر ہونے کی نشانی ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اپنی مرضی کی نگراں حکومت کے قیام میں مصروف رہے اسی عرصے میں دوسری جماعتوں کو عوام میں حرکت پیدا کرنے کا موقع مل گیا اور پیپلزپارٹی رہ گئی اس مرحلے میں تھوڑی پیچھے۔ پیپلزپارٹی کی الیکشن مہم دہری مشکل کا شکار ہے کیونکہ ایک جانب تو صدر زرداری پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت نہیں کر سکتے تو دوسری جانب بلاول بھٹو اس مصرف کیلئے تیار نظر نہیں آتے اور پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت عوام میں متاثر کن تصور نہیں رکھتی، جس سے انتخابی کارروائی کیلئے پارٹی کمزور ہوگئی ہے۔ پیپلزپارٹی کی کامیابی میں اتحادیوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے زیادہ جیالوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، انتخابی مہم کی قیادت کیلئے بھٹو نام کی عدم موجودگی پیپلزپارٹی کی عوامی حمایت بیدار کرنے کا امتحان ہوگی۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنماوٴں کو اپنی5سالہ مدت اقتدار پوری کرنے کے بعد شہادت کی تشریح کا سہارا لینے کا موقع زائل ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی کی مقبولیت اپنی 44 سالہ تاریخ میں کم ترین سطح پر ہے جس کا اظہار کئی عوامی رائے دہی کے سروے گزشتہ کئی ماہ میں کر چکے ہیں۔ کشش سے عاری

طرز حکومت کے مظاہرے نے بھی پیپلزپارٹی کے انتخابات میں کامیابی کی امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔ 17فروری کو گیلپ اور پلڈاٹ نامی اداروں کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق ملک میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت17فیصد رہ گئی ہے۔ اس سے قبل آئی آرآئی نامی تنظیم کی جانب سے نومبر 2012ء میں کئے گئے سروے کے مطابق پیپلزپارٹی کی مقبولیت 14فیصد تک گر گئی تھی جبکہ 2008ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت 50فیصد تھی۔ ایسے ہی سروے آئی آر آئی اور گیلپ سروے کے مطابق مسلم لیگ ن انتخابی دوڑ کیلئے مقبولیت میں سب سے آ گے ہے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس رائے عامہ کا اظہار انتخابات میں کس طرح ہوگا۔ اگر ان جائزوں کے مطابق ہی انتخابی نتائج رونما ہوئے تو اس سے پاکستان میں سیاست کا توازن تبدیل ہوجائے گا۔ رائے عامہ کے ان سرویز پر اس بنیاد پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ یہ انتخابی حلقوں میں عوامی جذبات کی صحیح ترجمانی سے قاصر ہیں۔ پارلیمانی نظام میں قومی رائے سے زیادہ پارٹی اور امیدواروں کی حلقہ در حلقہ گرفت معنیٰ رکھتی ہے۔ علاقائی سیاست کے حوالے سے یہ مضبوط دلیل ہے تاہم رائے عامہ کے قومی سروے بھی کسی حد تک عوام کی سیاسی ترجیحات کی ترجمانی کرتے ہیں اور اہم مواقع پر عوامی آراء سے متعلق رہنمائی بھی کرتے ہیں۔
یہ ترجیحات انتخابی مہم کے زور پکڑنے پر تبدیل بھی ہوسکتی ہیں۔ انتخابات ہمیشہ غیر یقینی ہوتے ہیں اور 11مئی کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔ اس وقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انتخابی نتائج ان جائزوں کے مطابق یا متضاد ہوں گے لیکن اس طرح کے رائے عامہ کے سروے کئی زاویوں سے اٹھنے والے سوالا ت پر غور کیلئے سود مند ہوتے ہیں۔ گیلپ رپورٹ کے مطابق کسی پارٹی کے رہنما کی ذاتی مقبولیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جماعت پارلیمانی نشستوں کی اکثریت حاصل کرے گی۔ ذاتی مقبولیت کے عوامل کچھ اثر ڈال سکتے ہیں لیکن کیا یہ مقبولیت دیہی علاقوں میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے جہاں ذات، برادری روایتی وفاداریوں اور اہم شخصیات کا علاقائی اثرورسوخ پایا جاتا ہے؟ یہاں سے ایک نیا سوال جنم لیتا ہے، نئے رجسٹرڈ ووٹرز جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے، کیا وہ روایتی ووٹنگ رجحانات میں تبدیلی کا موجب بن سکتے ہیں؟ 2008ء میں جن نشستوں پر سخت مقابلہ ہوا ان کی تعداد کافی زیادہ ہے، گزشتہ انتخابات میں قومی اسمبلی کی32 نشستیں2 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتی گئیں۔60 نشستیں 6ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتی گئیں جبکہ97 نشستیں 10ہزار ووٹوں کے فرق سے امیدواران نے اپنے نام کیں۔ ان 97نشستوں میں سے66پنجاب میں ہیں اور پنجاب میں ہی فیصلہ کن مقابلہ ہو گا۔ پنجاب میں ان نشستوں پر ذاتی مقبولیت کے عوامل اہمیت اختیار کر سکتے ہیں حالانکہ دیرینہ سیاسی وفاداریاں اہم جزو کے طور پر مسلمہ رہیں گی۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے حمایتی سمجھتے ہیں کہ ان 97نشستوں پر انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی مخالف ووٹ ن لیگ اور تحریک انصاف میں بٹ جائے گا جس سے ان کے امیدواروں کے جیتنے کی راہ ہموار ہو جائے گی جبکہ رائے عامہ کے سروے اس کے خلاف ہیں، جن کے مطابق ان نشستوں پر پیپلزپارٹی اور ق لیگ سے ناامید ہونے والے ووٹروں کا جھکاوٴ تحریک انصاف کی جانب ہوا ہے جبکہ یہ ووٹر ن لیگ سے نالاں نہیں ہیں۔ مزید براں گیلپ سروے کے مطابق مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق کی وجہ سے خود کو مستحکم کررہی ہے کیونکہ ق لیگ کے قابل انتخاب امیدوار تیزی سے ن لیگ میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں اور گیلپ سروے کے مطابق ق لیگ کے ووٹرز ن لیگ کی طرف جارہے ہیں۔ انتخابات کی بڑی غیر یقینی کی بات، نئے ووٹوں کی بڑی تعداد ہے جن کی انتخابی ترجیحات واضح نہیں۔ گیلپ کے مطابق جو ووٹر کسی جماعت کی حمایت نہیں کرتے ان کی تعداد 20فیصد ہے جبکہ آئی آر آئی کے مطابق یہ تعداد17سے 18فیصد ہے۔ اس کا مطلب ووٹروں کی اس خاطر خواہ تعداد کو اچھی انتخابی مہم کی بدولت اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے۔ ووٹنگ کا تناسب بھی نتیجہ خیز ہوگا کیونکہ یہ جمود کی نمائندہ جماعتوں کی مخالف جماعتوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ 2008ء میں ووٹنگ تناسب 44فیصد رہا جبکہ اس بار تناسب میں اضافے کا فائدہ چاروں صوبوں میں مختلف جماعتوں کو ہو گا۔ یہ صورتحال بھی انتخابی حرکیات کو غیر یقینی بنارہی ہے۔ گیلپ کے مطابق پچھلے20سالوں میں پنجاب میں مسلم لیگوں کا ووٹ بینک غالب رہا اور سندھ کے دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی غالب رہی ہے۔
کیا آئندہ انتخابات میں یہ رجحان برقرار رہے گا، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے لیکن سروے کے مطابق خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف انتخابی دوڑ میں سب سے آگے ہے جبکہ ن لیگ اور جے یو آئی (ف) بالترتب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ اگر ووٹنگ کارجحان آئی آر آئی اور گیلپ جائزوں کے مطابق ہی رہا تو اے این پی کی حمایت میں کمی واقع ہو گی۔ اگر ایسا ہوجائے تو خیبر پختونخوا میں تاریخ میں ایک اہم ترین سیاسی انقلاب رونما ہوگا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر انتخابی نتائج کی پیشگوئی کی جا سکے۔ اس بار ماضی کی بہ نسبت کئی ناقابل غور عوامل ہیں جن میں تین طرفہ انتخابی معرکے نئے ووٹر، نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد، متذبذب ووٹروں کی بڑی تعداد، کسی بھی جماعت کیلئے ہمدردی کی لہر کی کمی اور بدترین معاشی حالات کے پس منظر میں ووٹرز کے غصے کو دوام بخشا ہے۔40دن سے کم عرصے میں غیر معروف شخصیات ، معروف شخصیات پر حاوی ہو جائیں گی اور اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ انتخابات میں کچھ بھی نتیجہ ممکن ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید