آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جعلی ڈومیسائل اور پی آر سی کا سراغ لگانے کے لئے تحقیقات

لاڑکانہ( بیورو رپورٹ) جعلی ڈومیسائل اور پی آر سی کا سراغ لگانے کے لئے حکومت سندھ کی تین رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی نے کام شروع کردیا۔ پہلے روز ابتدائی طور پر شعبہ ڈومیسائل کے اہلکاروں کو تبدیل کرکے دوسرا عملہ مقرر کردیا گیا جبکہ 250 ڈومیسائل اور پی آر سی کے کاغذات کو غیر تسلی بخش قرار دے کر ان کی دوبارہ تصدیق کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ کمیٹی سندھ کے ان تمام اضلاع کا دورہ کرے گی جہاں سندھی افسران کے بجائے پنجابی اور پختون ڈپٹی کمشنرز تعینات ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں تین رکنی اعلی سطح کمیٹی کی سربراہی بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر قاضی شاہد پرویز کررہے ہیں جبکہ اراکین میں سیکریٹری ایس اینڈ جی ڈی سعید منگنیجو اور ریونیوبورڈ کے پی آر سی رکن نظیر احمد شامل ہیں۔ کمیٹی کے سربراہ قاضی شاہد پرویز نے ابتدائی طور پر گذشتہ پانچ برس کے دوران لاڑکانہ سے جاری کئے جانیوالے ڈومیسائل اور پی آر سی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کردی ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اس سے زیادہ قدیم ریکارڈ کا بھی جائزہ لیں گے۔ کمیٹی سے بعض شہریوں نے بھی ملاقات کی اور انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ سندھ بھر سے سات سو جعلی ڈومیسائل اور پی آر سی ایسے افراد کو جاری کئے گئے ہیں جن کا تعلق سندھ سے نہیں ہے اور انہوں نے سندھ کوٹے پر ملازمت بھی حاصل کر رکھی ہے۔ ان الزامات کے بعد حکومت سندھ نے اعلی سطح تحقیقاتی کمیٹی کو سندھ بھر کے ڈومیسائل اور پی آر سی کے اجرا کے متعلق تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اہم خبریں سے مزید