آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صرف تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ مقصد تنقید برائے اصلاح ہونا چاہئے اور حکومت کے ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی اور تعریف بھی کرنا چاہئے جن سے ملک و قوم کی بہتری مقصود ہو۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کا ایک حکم نہایت ہی قابل تحسین ہے۔ یہ حکم ایک قیدی خاتون کی پکار پر وزیراعظم نے جاری کیا ہے۔ لاہور کی جیل سے ایک قیدی خاتون نے دہائی دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک پیغام بھیجا جس میں جیل میں قید خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ اس پیغام کا لب لباب یہ ہے کہ جیل میں قید خواتین کو جنسی حراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں بعض اعلیٰ افسران سے سیاسی قیادت تک سبھی ملوث ہوتے ہیں۔ ان خواتین میں حوالاتی و سزا یافتہ خواتین شامل ہوتی ہیں اور ان خواتین کو زبردستی اور بلیک میل کر کے کارِ گناہ کیلئے مجبور کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو جیسے ہی یہ پیغام ملا انھوں نے اس پر نہ صرف شدید دکھ کا اظہار کیا بلکہ فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دیدی جس کا سربراہ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کام کا آغاز کرے اور چار ماہ کے اندر اپنی رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم کو پیش کرے۔ کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک بھر کی جیلوں میں قید خواتین اور انکی حالت زار کے بارے میں تحقیقات کرے۔ اسکے علاوہ مذکورہ جیل کے اہلکاروں اور افسران کے بارے میں تحقیقات کرے اور جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک اور اس بارے میں عالمی قوانین کا بھی جائزہ لے۔ کمیٹی تحقیق کے علاوہ اپنی تجاویز بھی دے گی جبکہ ملوث اہلکاروں اور افسران کے ادارہ جاتی احتساب کے اقدامات کے لئے تجاویز بھی رپورٹ کا حصہ ہوں گی۔

اگر کمیٹی رپورٹ کی مدت چار کے بجائے دو ماہ ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا نیز دہائی دینے والی عورت کی پکار پر ان افسران اور اہلکاروں کے خلاف تو فوری کارروائی ہونی چاہئے جو اس گھنائونے کام میں ملوث ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ کمیٹی وقت سے پہلے ہی اپنی تحقیقات اور سفارشات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دیگی۔ اور وزیراعظم بلا تاخیر اس پر عملدرآمد اور اس میں ملوث افراد کیخلاف فوری کارروائی کے احکامات جاری کر دینگے۔اب بات اسکینڈلز کی کرتے ہیں۔ چینی اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ عام تو کر دی گئی لیکن اس رپورٹ پر کارروائی کیا ہوئی؟ ایسا لگتا ہے کہ رپورٹ کو عام کر کے اور اس پر بغلیں بجانا حکومت کی غلطی تھی۔ اور بظاہر وہ رپورٹ حکومت کے گلے پڑ گئی ہے بلکہ یوں کہئے کہ گلے کی ہڈی بن گئی ہے جو نہ اگلنے کی ہے نہ نگلنے کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریف خاندان کے علاوہ اس رپورٹ میں وزیراعظم عمران خان کے قریب ترین (اب نہیں) جہانگیر ترین، مونس الہٰی اور چند دیگر کے نام بھی ہیں۔

اگر مذکورہ رپورٹ میں صرف شریف خاندان کا نام ہوتا تو پھر تو ابھی تک جانے کیا کیا ہو چکا ہوتا۔جہانگیر ترین کی وزیراعظم سے تعلق (جو اب نہیں ہے) کی وجہ سے نہیں بلکہ مضبوط سیاسی گروپ کی وجہ سے بہت اہمیت ہے۔ ذرائع کے مطابق سولہ اراکین صوبائی اسمبلی اور اراکین قومی کے گروپ نے جہانگیر ترین سے ملاقاتیں کر کے ان سے مکمل یکجہتی اور ثابت قدمی کے وعدے کئے ہیں۔ اس کے علاوہ جہانگیر ترین کا چوہدری برادران اور شہباز شریف سے بھی رابطہ ہے۔ دوسری طرف حکومت کی مبینہ ہدایت پر ایف بی آر، چینی اسکینڈلز میں ملوث افراد کو نوٹسز جاری کر رہا ہے لیکن تا حال چینی رپورٹ پر نہ تو ایف آئی اے نے کوئی کارروائی کی ہے نہ ہی نیب نے اس بارے میں اقدامات شروع کئے ہیں۔ اس کے علاوہ آئی پی پیز کے بارے میں بھی حکومتی وزرا اور مشیروں نے شور و غوغا مچایا تھا، مگر اس پر بھی اب سب خاموش ہو گئے ہیں بلکہ حکومت نے اس معاملہ پر بھی یوٹرن لے کر کہا ہے کہ یہ رپورٹ عام نہیں کی جائے گی۔

ٹڈی دل کسانوں کی سال بھر کی محنت اور اخراجات کو چاٹ رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ ٹڈیوں کے اس حملے سے آٹھ سو ارب روپے کا نقصان ہوگا اور تاخیر سے شروع کی جانیوالی حکومتی کوششیں اب تک بار آور ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دو ماہ تک ٹڈیوں کا ایک اور بڑا لشکر پاکستان میں داخل ہو سکتا ہے۔ کسان اپنی بربادی دیکھتے ہوئے دہائیاں دے رہے ہیں اور پنجاب کے وزیر زراعت کہتے ہیں کہ ٹڈیوں نے فصلوں کو بہت معمولی نقصان پہنچایا ہے، ان کی خوراک درختوں کے پتے ہیں۔ یہ ایسا ہی بیان ہے جیسا کہ کورونا وائرس کے بارے میں حکومتی مشیر کہتے ہیں کہ کورونا سے اموات اور متاثرین کی تعداد ہمارے اندازوں سے بہت کم ہے۔ اب کیا کہا جائے ہم تو عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔

غالب ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو

وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)