آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گولڈن ہینڈ شیک میں کوئی قانونی سقم نہیں، تجزیہ کار

گولڈن ہینڈ شیک میں کوئی قانونی سقم نہیں، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال پاکستان اسٹیل کے 9100ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر نکالنے کی منظوری، اپوزیشن کااحتجاج، کیا اپوزیشن کااحتجاج جائزہے؟کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل سے گولڈن ہینڈشیک دے کرملازمین نکالنے میں کوئی قانونی سقم نہیں ہے، اسٹیل مل ہر سال 24ارب، پی آئی اے 54ارب،پاکستان ز ریلوے 35ارب کھاجاتے ہیں۔مظہر عباس نے کہا کہ اپوزیشن کا پاکستان اسٹیل مل سے ملازمین نکالنے پرا حتجاج درست نہیں ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی پہلے یہ بتائیں کہ ان کے ادوار حکومت میں اسٹیل مل کے حالات بہترکیوں نہیں ہوئے، ن لیگ تو اسٹیل مل کی نجکاری کے حق میں تھی اسی لئے 2015ء سے مل بند پڑی ہے، اسٹیل مل کا معاملہ آئے تو نیت میں فتور نظرا ٓرہاہے،عمران خان اور اسد عمر اپوزیشن میں اسٹیل مل کو بہترانتظامیہ سے چلانے کے دعوے کرتے تھے قوم کو بتائیں انہوں نے اس کیلئے کیا کوششیں کیں، حکومت اسٹیل مل کا فارنزک آڈٹ کروائے، اسٹیل مل کے خسارے کی وجہ زائد ورکرز ہیں یا مس مینجمنٹ ہوئی ہے، پاکستان اسٹیل کی نجکاری کرنے کے پیچھے جو لوگ 2006ء میں تھے وہی 2020ء میں بھی اس کے پیچھے ہیں، ریلوے کا منافع کارگو سے آتا تھا جو کسی اور کودیدی گئی جس کا ہم نام بھی نہیں لے سکتے۔بابر ستار کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیل سے گولڈن ہینڈشیک دے کرملازمین نکالنے میں کوئی قانونی سقم نہیں ہے، خسارے میں چلنے والے پبلک سیکٹر ادارے کی نجکاری کے علاوہ حکومت کیا کرسکتی ہے،حکومت کو روزگارپیدا کرنے کیلئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، ایسا نہیں کہ حکومت اپنے اداروں میں لوگوں کی ضرورت سے زیادہ بھرتی کرلے، اسٹیل مل کو منافع پرچلانا ہے توحکمت عملی بنانا ہوگی کہ کتنے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ارشاد بھٹی نے کہاکہ مشرف دور میں اسٹیل مل آخری دفعہ منافع بخش نظر آئی اس کے بعد جمہوریت آگئی، پی پی دورمیں اسٹیل مل خسارے میں گئی اور ن لیگ کے دورمیں بند ہی ہوگئی، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے ذاتی ادارے منافع میں اورملکی ادارے نقصان میں رہے، حکومت کا اسٹیل مل ملازمین کو واجبات دے کر فارغ کرنے کا فیصلہ اچھا ہے، حکومت کوان سفید ہاتھیوں سے جان چھڑانی چاہئے، اسٹیل مل ہر سال 24ارب، پی آئی اے 54ارب،ریلوے 35ارب کھاجاتے ہیں۔ محمل سرفرازکا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کونکالنے پر اسٹیل مل اور ورکرزکا احتجاج جائزہے، حکومت اسٹیل مل میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر چاہتی تو پھر 9ہزار ملازمین کو نہیں نکالا جاتا۔بینظیر شاہ نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال اور کورونا وباکے دوران 9ہزارسے زائد لوگوں کو نوکری سے نکالنا ظلم کی انتہا ہے، وزیراعظم پچھلے مہینو ں میں نجی کمپنیوں سے ملازمین کوبیروزگار نہ کرنے کی اپیل کررہے تھے۔

اہم خبریں سے مزید