آپ آف لائن ہیں
پیر21؍ذیقعد 1441ھ 13؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چینی کی قیمت کا تعین 63روپے فی کلو،80سے 90میں فروخت جاری

کراچی (ٹی وی رپورٹ) شوگر کمیشن نے ایک کلو چینی کی قیمت کا تعین 63روپے کیا،مگر پورے ملک میں چینی 80سے 90روپے میں فروخت ہورہی ہے،خود یوٹیلیٹی اسٹور نے 82روپے فی کلو چینی خریدی، 68روپے میں فروخت کی، ایک کلو پر 14روپے کی سبسڈی دی۔شوگر مل مالکان نے حکومت سے بھی سبسڈی کی مد میں اربوں روپے وصول کرلیے، نیا اسکینڈل جنم لے رہا،جیو کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں کی گئی تحقیقات کے مطابق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چینی کی فی کلو قیمت 63روپے 13پیسے ہونی چاہیے،مگر اس وقت ملک بھر میں چینی کی فی کلو قیمت 90روپے تک پہنچ گئی ہے،27روپے فی کلو تک منافع کمایا جارہا ہے۔شوگر کمیشن کی رپورٹ کے نکتہ 62 کے مطابق، چینی کی قیمت ٹیکس اور شوگرملز کا 10فی صد منافع کے مارجن کو ملا کر بھی 63روپے 13پیسے فی کلو ہونی چاہیے،اور شوگر کمیشن کہتا ہے کہ یہ قیمت بھی ہم گنے کی 215روپے فی من قیمت کے حساب سے بتارہے ہیں،اور اگر 190روپے کی سپورٹ پرائس پر چینی کی قیمت کا تخمینہ لگائیں تو مارکیٹ میں چینی کی قیمت 57روپے 69پیسےہونی چاہیے۔کمیشن یہ کہہ چکا ہے کہ شوگر مل مالکان۔ کاشت کاروں سے سپورٹ پرائز سے کم میں چینی خریدتے ہیں۔اور اگر 215روپے فی من قیمت تسلیم کر بھی لی جائے ،یعنی یہ مان لیا جائے کہ انہوں نے اس سال سپورٹ پرائس سے بھی 25 روپے مہنگا گنا خریدا،تو بھی چینی کی فی کلو قیمت 63روپے 13پیسے بنتی ہے۔شوگرکمیشن کی رپورٹ لکھتی ہے کہ اگر ایک روپے قیمت بڑھتی ہے توشوگر ملرز عوام سے 5ارب 20کروڑ روپے کا منافع کماتے ہیں،صرف ایک روپیہ بڑھنے پر 5.2ارب روپےکامنافع۔آج پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹک کا ہفتہ وار ڈیٹا ریلیز ہوا ہے،،جس کے مطابق ملک بھر میں چینی کی فی کلو قیمت 81روپے 21پیسے ہے،شوگر کمیشن کی رپورٹ آنے سے پہلے بھی یہی قیمت تھی،جب کہ پچھلے سال اسی ہفتے یہ قیمت 68روپے فی کلوتھی،اور اس سے پچھلے سال میں تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے2018میں چینی 55روپے فی کلو تھی۔یعنی اس وقت۔۔ 2018 کے مقابلے میں 45فی صد زیادہ اور 2019 کے مقابلے میں 20فی صد زیادہ قیمت ہے جب کہ خود شوگر کمیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق چینی بنانے کی لاگت میں اس طرح اضافہ ہی نہیں ہوا،خود شوگر کمیشن کے مطابق مل مالکان اس عرصے میں 100ارب روپے سے زائد کا منافع کماچکے ہیں،یعنی مسئلہ 3ارب روپے کی سبسڈی سے زیادہ100ارب روپے کے منافع کا ہے۔جو اب بھی کمایا جارہا ہے اور پچھلے دو ہفتے میں شوگر کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدشوگر مل مالکان 4ارب روپے سے زائد کااضافی منافع عوام کی جیب سے مزید کماچکے ہیں۔پروگرام میں کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے رپورٹس پیش کی گئی،جس میں بتایا گیا کہ پورے ملک میں 80سے 90روپے فی کلو چینی فروخت ہورہی ہے،حالاں کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعدحکومت نے یقین دلایا تھا کہ شوگر مافیا کے خلاف کارروائی ہوگی،اور چینی کی قیمتوں میں کمی آئے گی، پروگرام کی تحقیقات کے مطابق،یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 68روپے فی کلو مل رہی ہے کیوں کہ وزیراعظم عمران خان نے 50ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔ اب شوگرکمیشن کی اپنی رپورٹ کے مطابق اگر چینی کی لاگت 63روپے 13پیسے ہے اس لحاظ سے شوگر ملرز نہ صرف عوام کی جیب سے پیسے نکال رہی ہیں بلکہ حکومت کی یوٹیلیٹی اسٹورز پر دی گئی سبسڈی بھی ان کی جیب میں جارہی ہے،یعنی بجائے اس کے کہ مارکیٹ میں قیمت کم کرائی جاتی،حکومت نے خود یوٹیلیٹی اسٹورز پرفروری میں چینی 70روپے فی کلو بیچنے کا اعلان کردیا۔جب چینی کی قیمتوں پر شور مچا تو
7فروری کو وزیراعظم سے جہانگیر ترین نے ملاقات کی اور پھر انہوں نے 11فروری کو بتایا کہ شوگر ملرز 70روپے فی کلو پر ایک لاکھ ٹن ،اور وہ خود 67روپے فی کلو پر 20ہزار ٹن چینی یوٹیلیٹی اسٹورز کو بیچیں گے،خود شوگر کمیشن کی رپورٹ کہتی ہے کہ منافع کے ساتھ چینی کی فی کلو قیمت 63روپے 13پیسے ہونی چاہیے۔تو 20ہزار ٹن پر 7کروڑ روپے کا منافع بھی ہوا شوگر ملز کو ایک لاکھ ٹن پر 70 کروڑ کا منافع ہوا،یوٹیلیٹی اسٹورز پر ہی چینی کی قیمت 70روپے بیچ کر سرکاری مہر لگوادی گئی اور یہ سب کچھ وزیراعظم کی جہانگیر ترین سے ملاقات کے بعدہوا۔اسی طرح اہم بات یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے 67روپے فی کلو چینی یوٹیلیٹی اسٹور کو ٹینڈرز کے ذریعے بیچی ہے،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سے پہلے کا ٹینڈر یوٹیلیٹی اسٹورز نے17مارچ کو کیا تھاجس میں 20ہزار ٹن چینی 79روپے 50پیسے فی کلو خریدی تھی صرف اس 23مارچ کے ٹینڈر پرشوگر مل مالکان 32کروڑ روپے اضافی حکومت سے لے گئے۔
اہم خبریں سے مزید